Wednesday , September 26 2018
Home / آپ کے سوال / بے جا مدح و ستائش کی ناپسندیدگی

بے جا مدح و ستائش کی ناپسندیدگی

سوال : مسلم معاشرہ میں غیر ضروری کسی کی تعریف کرنا عام ہوتے جارہا ہے اور لوگ اپنی تعریف کو پسند کرنے لگے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کی تعریف کریں۔ براہ کرم اسلامی مزاج اس سلسلہ میں واضح کریں تو مہربانی۔ سید مصباح الدین قادری، فتح دروازہ

سوال : مسلم معاشرہ میں غیر ضروری کسی کی تعریف کرنا عام ہوتے جارہا ہے اور لوگ اپنی تعریف کو پسند کرنے لگے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کی تعریف کریں۔ براہ کرم اسلامی مزاج اس سلسلہ میں واضح کریں تو مہربانی۔
سید مصباح الدین قادری، فتح دروازہ
جواب : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تمام اوصاف وکمالات کے حامل تھے۔ اس کے باوجود آپ ﷺ اپنی طبعی عاجزی و انکساری اور فرط تواضع سے بے جا مدح و ستائش کو قطعاً ناپسند فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے: ’’میری اس طرح مدح نہ کرو جس طرح عیسائی حضرت عیسیٰ کی کرتے ہیں، میں تو محض اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں‘‘۔ (بخاری جلد 2، صفحہ 329، کتاب الانبیاء)
ایک مرتبہ بعض صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے سجدہ تعظیمی کی اجازت طلب کی ہے جو شام و عراق کے سرداروں میں رائج تھا تو آپ ﷺ نے سختی سے فرمایا کہ اگر سجدہ مباح ہوتا تو میں حکم دیتا کہ عورت اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (ابوداؤد، 2 : 605) ایک مرتبہ ایک شخص نے گفتگو کے دوران یہ کہہ دیا کہ جو اللہ اور اُس کا رسول چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اُس شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم یہ کہو کہ جو اللہ چاہے۔ (بخاری، ادب المفرد)
آپ ﷺ اپنی ذات ہی کے لئے نہیں بلکہ اپنے صحابہ کے متعلق بھی یہی طرز عمل اختیار فرماتے۔ ایک روز آپ ﷺ کے روبرو کسی صحابی نے ایک دوسرے صحابی کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم خفا ہوگئے اور فرمایا تو نے اُسے ہلاک کردیا۔ (یا یہ کہا : ’’تو نے اُس کی گردن توڑ ڈالی‘‘۔) (بخاری 4 ،127)

خرافات والی دعوت قبول کرنا ؟
سوال : آج کل مسلمانوں میں اجتماعی شادیاں رواج پارہی ہیں۔ ان اجتماعی شادیوں میں تقریباً وہی خرافات دیکھے جاتے ہیں جو عام شادیوں میں ہوتے ہیں اگرچیکہ نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ بعض مقامات پر بڑے بڑے علماء کو بھی ان اجتماعی شادیوں کی سرپرستی کرتے دیکھا گیا ہے ۔ اس صورتحال کا شرعاً کیا حکم ہے۔کیا ایسی دعوتوں کو قبول کرکے اس میں شرکت کی جاسکتی ہے۔
نام …
جواب : دعوت ولیمہ بشرطیکہ اس میں لغویات‘ لہو و لعب اور منکرات نہ ہوں قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ اس کے سوا دوسری دعوتوں کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا گو کہ مدعو کو اختیار ہے لیکن قبول کرنا افضل ہے کیونکہ اس سے دعوت دینے والے کا دل خوش ہوتاہے‘ کسی بندۂ مومن کے دل کو خوش کرنا بھی نیکی و ثواب کا عمل ہے جس پر اجر و ثواب مرتب ہوتاہے ۔
شادی بیاہ کی دعوت میں منکرات شرعیہ جیسے گانا بجانا وغیرہ ہوں اور دسترخوان علحدہ مقام پر ہو یا دونوں ایک ہی مقام پر ہوں لیکن گانا بجانا موقوف کردیا گیا ہو تو اس دعوت میں کھانا کھانے کی اجازت ہے ۔ یہ حکم عامہ افراد امت کیلئے ہے‘ علماء و مشائخ جو قوم کے پیشوا اور مقتدی کہلاتے ہیں منکرات و لہو و لعب کو موقوف کروانے پر اگر ان کو قدرت نہ ہو تو چاہئے کہ وہ وہاں سے فوری واپس لوٹ جائیں۔
صدر بالا حکم اس وقت ہے جبکہ دعوت میں آنے کے بعد منکرات شرعیہ کا علم ہو‘ پہلے ہی سے اگر اس کا علم ہو تو کسی کو بھی خواہ وہ پیشوایان قوم ہوں یا عامتہ افراد امت ہوں دعوت میں شرکت سے احتراز کریں۔ اگر کوئی دعوت فخر و مباہات ‘ ریاکاری ‘ اظہار شان و شوکت کیلئے ہورہی ہو تو اسمیں ہرگز شرکت کسی کیلئے بھی درست نہیں۔ (ملخص از شامی کتاب الحظر والا باحتہ ص : 241 ) مذکورہ در سوال صورت میں شادی ‘ بیاہ کی تقاریب خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ہر صورت میں ان تقاریب کا لہو و لعب ‘ خرافات و منکرات سے پاک ہونا شرعاً لازم ہے۔ مسلمانوں پر شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنے تقاریب خوشی و مسرت کو دائرہ شریعت میں رہتے ہوئے انجام دیں۔

ولادت کے چالیس دن بعد نماز کا حکم
سوال : حال ہی میں میری زچگی ہوئی‘ اللہ کے فضل سے مجھے لڑکا ہوا ۔ چھلے کے بعدبھی میں ناپاکی کی حالت میں ہوں۔ ایسی صورت میں میرے لئے نماز کے بارے میں کیا حکم ہے۔ میں کب سے نماز ادا کروں۔ خون کے رکنے کا انتظار کروں یا میرے لئے شرعی حکم کیا ہے ؟
اسلامی بہن
جواب : زچگی کے بعد عورت کو جو خون جاری ہوتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں۔ نفاس کی کم سے کم مدت مقرر نہیں اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے ۔ اگر کسی خاتون کو بعد زچگی چالیس دن کے بعدبھی خون جاری رہے تو شرعاً ’’مستحاضہ ‘‘ کہلاتی ہے ۔ ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ وہ چالیس دن کے بعد غسل کر کے پاک ہوجائے اور ہرنماز کے وقت کیلئے علحدہ علحدہ وضو کرے اور ایک نماز کے وقت کے فرائض سنن اور نوافل تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کرے گی پھر دوسری نماز کا وقت آجائے تو اس کے لئے علحدہ وضو کرے۔

عیدگاہ کو چہل قدمی و تفریح گاہ کیلئے استعمال کرنا
سوال : شہر و مضافات میں یہ دیکھا گیا کہ عیدگاہوں کی موقوفہ زمین کونمازِ عیدین کے علاوہ سال بھر حضرات و خواتین ‘ نوجوان اور کمسن لڑکوںکے علاوہ مختلف فیملیز چہل قدمی اور تفریح گاہ کے طور پر بھی استعمال کررہے ہیں۔ اس وسیع و عریض عیدگاہ کو خوب صورت چمن میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ لوگ سال بھر یہاں آکر تفریح وغیرہ کرسکیں۔ کیا شرعی طور پر عیدگاہ کو بطور مقام تفریح استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ کیا عیدگاہ میں مخلوط تفریحی و بے پردہ پروگرام جائز ہے ؟ براہ کرم عیدگاہ کی شرعی حیثیت اور اس کے شرعی طریقہ استعمال کے بارے میں تفصیلات ‘ مستند حوالوں و فتوؤں سے بتلائیں باعث سکون و اجر و تشکر اور معلومات قارئین کرام و عامۃ المسلمین ہوگا ؟ کیا حالتِ حیض میں نوجوان لڑکیاں و خواتین عیدگاہ میں آسکتی ہیں ؟
مطبع الرحمن، تاڑبن
جواب : شریعت مطہرہ میں عیدگاہ کی بناء کا مقصد نماز عید کی ادائیگی ہے اس لئے وہ حکماً مسجد ہے ۔ ردالمحتار جلد 1 ص : 486 میں ہے … وما صححہ تاج الشریعۃ ان مصلی العیدلہ حکم المسجد ۔ نیز عیدگاہ کیلئے موقوفہ اراضی کو نماز عیدین وغیرہ کی ادائیگی کے علاوہ کوئی اور دنیوی مقصد کے لئے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں کیونکہ واقف کی تصریحات بالکل نصوص شارع کی طرح واجب التعمیل ہیں۔ رد المحتار جلد 3 ص : 467 کتاب الوقف میں ہے … شرط الواقف کنص الشارع فیجب اتباعہ … فتاوی شامی جلد 3 صفحہ 399 میں البحر الرائق سے منقول ہے۔ ان امتناعہ من التعمیر خیانۃ و کذلک لو باع الوقف او بعضہ او تصرف … غیر جائز عالما بہ۔
موقوفہ عیدگاہ شریعت کی رو سے مسجد کا حکم رکھتی ہے جو جائے عبادت ہونے کی بناء مقام تقدیس و جائے احترام ہے اس کے سواء دیگر اوقاف میں جب کسی تصرف کی اجازت نہیں تو قابل احترام اوقاف میں تصرف کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
صورت مسئول عنہا میں عیدگاہ کی اراضی میں نماز عیدین کے علاوہ کھیل کود ‘ تفریح و چہل قدمی و دیگر پروگراموں کی کسی طرح اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ حائضہ عورت‘ جنبی مرد عیدگاہ میں داخل ہوسکتے ہیں مگر بلا ضرورت نہیں جانا چاہئے ۔ فتاوی تاتارخانیہ جلد 2 ص : 98 میں ہے۔ ’’ حتی لو دخل الناس فی الجبانۃ والمرأۃ فی الحیض فی المحوط لا بأس۔

مصلی کے روبرو آئینہ ہونا
سوال : مسجد میں دو نئے شوکیس بنائے گئے اور جن پر سادہ آئینہ لگایا گیا ہے جو بالکل سامنے کی صف میں موجود ہے‘ ایسے کہ اگر نمازی کھڑے ہو تو اس کی شکل و صورت صاف نظر آتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر نمازی کا سارا حلیہ نظر آتا ہے۔
عارف بیگ، نامپلی
جواب : مصلی کے روبرو آئینہ ہو جس میں اس کی شکل و صورت نمایاں نظر آتی ہو تو اس سے نماز میںکوئی فساد لازم نہیں آتا۔ نماز ہوجائے گی۔ تاہم اس سے خشوع و خضوع میں خلل آتا ہے اس لئے احتیاط کرنا چاہئے۔

بہو کا ساس کے گھر میں رہنا
سوال : میرا سوال یہ ہے کہ میرے بیٹے کا کہنا ہے کہ آپ بہو کو کچھ بھی بولنے کا حق نہیں رکھتی ہیں۔ بہو کے اوپر آپ کا تل کے دانے کے برابر بھی حق نہیں ہے۔ بیٹے کا کہنا یہ ہے کہ بہو کو میکہ جاؤ جلد آؤ اور گھر میں کام کاج اور خدمت کرانے ‘ ایک گلاس پانی دیدو بولنے کا آپ کا کوئی حق نہیں ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ بہو پر میرا کوئی حق نہیں ہے تو پھر بہو میرے ساتھ میرے گھر میں رہ سکتی ہے کیا؟ کیا یا میں بیٹے کے گھر میں بیٹے بہو کے ساتھ رہ سکتی ہوں ۔ اس کا ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح دین اور اسلامی نقطہ نظر سے شرعی احکام بتائیں۔
نام مخفی
جواب : ازروئے شرع بیوی پر شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے۔ شوہر کے ماں باپ کی خدمت شرعاً بیٹے پر لازم ہے۔ بہو پر نہیں۔ تاہم ہر مسلمان مرد و عورت کو اپنے بڑوں کی تعظیم و توقیر کرنا ‘ ان کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھنا ان کی بات سننا چاہئے ۔ بڑے اگر کوئی کام کرنے کیلئے کہیں تو چھوٹوں کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ بڑوں کی بات مانیں۔ اسی طرح بڑوں کو بھی چاہئے کہ وہ چھوٹوں کے ہر معاملہ میں مداخلت نہ کریں۔ چھوٹوں کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھائیں۔ پیار و محبت سے ان کی غلطی کی نشاندہی کریں۔ پس بہو اپنے ساس کے گھر میں ساس کی اجازت سے رہ سکتی ہے۔ اسی طرح ماں اپنے بیٹے کے گھر میں بہو کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ متذکرہ بالا امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔نیز ماں باپ سے کسی قسم کی کوتاہی ہو تو اولاد کو چاہئے کہ نہایت ادب و احترام اور عاجزی سے اس کا اظہار کریں۔ مذکور السؤال طریقے پر بیٹے کا ماں سے گفتگو کرنا مذموم ہے۔

رزق میں کشائش کیلئے و ظیفہ
سوال : میں ایک بیوہ خاتون ہوں۔ معیشت بہت متاثر ہے۔ رزق و رو زی کے لئے کوئی وظیفہ بتائیں تو مہربانی ہوگی۔
محمد وسیم ، ورنگل
جواب : رزق میں کشائش کے لئے بعد نماز فجر 111 مرتبہ یہ وظیفہ پڑھیں۔
یَا اَللّٰہُ یَا لَطِیْفُ یَا فَتَّاحُ یَا وَھَّابُ یَا بَاسِطُ یَا رَزَّاقُ یَا غَنِیُّ یَا مُغْنِی بِکَ نَسْتَعِیْنُ یَا فَتَّاحُ یَا عَلِیْمُ یَا خَبِیْرُ یَا نُوْرُ یَا ھَادِی یَا مُبِیْنُ آمَنْتُ باِللّٰہ
آیت الکرسی پڑھنا
سوال : آپ سے سؤال کرنا یہ ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد ’’ آیۃ الکرسی‘‘ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ۔ میرے علم میں ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد کم از کم تین آیات تلاوت کرنی چاہئے۔ بعض کا کہنا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی پڑھ سکتے۔ کیا یہ صحیح ہے ۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جلد سے جلد آگاہ فرمایئے۔ تاکہ جو کوئی بھی غلطی پر ہے وہ درست کرسکے۔
سمیہ فاطمہ، بی بی کا چشمہ
جواب : سورہ فاتحہ کے بعد تین مختصر آیتیں یا ایک طویل آیت پڑھنے کا حکم ہے ۔ آیت الکرسی ایک آیت ضرور ہے مگر طویل ہے۔ اس لئے نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی پڑھ سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT