Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / بے رحم اے ٹی ایس نے مجھے دہشت گردی کیس میں پھنسایا :خطیب

بے رحم اے ٹی ایس نے مجھے دہشت گردی کیس میں پھنسایا :خطیب

٭ مسلمان ہونے کی وجہ سے میرے لڑکے کا مستقبل تباہ کردیا گیا‘خطیب کے والد کا بیان ٭ اس کیس نے ہماری زندگی تباہ کردی ٭ دیگر بچوں کی شادیوں پر اثر پڑا

٭ مسلمان ہونے کی وجہ سے میرے لڑکے کا مستقبل تباہ کردیا گیا‘خطیب کے والد کا بیان
٭ اس کیس نے ہماری زندگی تباہ کردی ٭ دیگر بچوں کی شادیوں پر اثر پڑا

ممبئی 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) دہشت گردی الزام میں گرفتار اور جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد الزام منسوبہ سے بری ہونے والے خطیب عمران عقیل احمد نے خود پر گذری ہوئی کیفیت اور اے ٹی ایس کی زیادتیوں کا اشکبار اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس میں مجھے ماخوذ کیا گیا تھا۔ انہیں 2006 کے اسلحہ ضبطی کیس کا ملزم بناکر گرفتاری کی بتائی تاریخ سے 8 دن قبل ہی غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور کسی وجہ کے بغیر مکوکا کے تحت کیس درج رجسٹر کیا گیا ۔ خطیب عمران عقیل احمد نے ضمانت پر اپنی رہائی کے بعد جمعیۃ العلمائے ہند مہاراشٹرا کے دفتر میں شریک ملزم عبدالخان کے ساتھ آنسو پونچھتے ہوئے اپنی بے گناہی کے بارے میں بتایا کہ اے ٹی ایس نے سنگدلی اور بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھ کو پھنسایا ہے ۔ مبینہ طور پر اسلحہ کیس میں ماخوذ کرکے جیل میں 9 سال گذارنے کے بعد رہائی ملنے پر انہو ںنے کہا کہ انہیں پھانسایا گیا تھا۔ مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکاڈ (اے ٹی ایس ) نے انہیں شدید اذیت دی۔ انہوں نے اس ایجنسی کو بے رحم اور سنگدل کہا کیونکہ اس نے مجھے دہشت گرد بنا دیا تھا اور اسپیشل مہاراشٹرا کنٹرول تنظیم جرائم قانون (مکوکا) کے تحت کیس درج کردیا ۔ مکوکا کی عدالت میں جج اے ایل پنسرے نے چہارشنبہ کے دن انہیں ضمانت پر رہا کیا ہے ۔

پولیس ریکارڈس کے مطابق مجھے 7 جون 2006 کو گرفتار بتایا گیا ہے لیکن حقیقت میں مجھے اے ٹی ایس نے 30 مئی سے ہی حراست میں رکھا تھا ۔ میں نے عدالت میں اس مسئلہ کو اٹھایا اور ای میل کی شکل میں ثبوت بھی پیش کئے تھے جو میں نے اے ٹی ایس کے مطالبہ پر اسے روانہ کیا تھا ۔ 32 سالہ خطیب عمران عقیل احمد نے جمعیۃ العلمائے ہند مہاراشٹرا کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں اے ٹی ایس کی سازشوں اور ظلم و زیادتی کو آشکار کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی ایس کو روانہ کردہ ان کے ای میل میں میرے تصویر ہے ۔

آخر ان کی تصویر کوئی اور شخص اے ٹی ایس کو کیوں روانہ کرے گا ۔ اس میل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہیں زبردستی حراست میں رکھا گیا تھا اور انہوں نے ان کے بجا مطالبہ کو قبول کیا گیا تھا ۔ 8 جون 2006 کو اے ٹی ایس ٹیم نے اورنگ آباد کے قریب منماڑ ہائی وے پر ٹاٹا سومو اور انڈیکا کار کو روک کر 3 افراد کو گرفتار کیا تھا ۔ پولیس نے 30 کیلو گرام آر ڈی ایکس 10 اے کے 47 رائفلس ‘3200 بلیٹس ان کے قبضہ سے ضبط کئے تھے ۔ بعدازاں پولیس نے دیگر مشتبہ افراد کے قبضہ سے 13 کیلو گرام آر ڈی ایکس ‘6 اے کے 47 ‘50 دستی بم اور دو تلواریں ضبط کی تھی۔ اس کیس کے سلسلہ میں 9 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان میں سے خطیب کے بشمول 8 افراد کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکوکا کی عدالت میں 18 فبروری 2015 کو این سنہا اور امیتابھ راجن کے بیانات ریکارڈس کئے گئے یہ دونوں مہاراشٹرا وزارت داخلہ کے عہدیدار ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت کے وزیر داخلہ نے انہیں ہدایت دی تھی وہ اس کیس کو مکوکا عدالت میں درج کردیں ۔

ہم نے مکوکا قانون کے تحت ہی کیس درج کیا تھا۔ بھینڈی بازار میں واقع جمعیۃ العلما کے دفتر پر خطیب نے اپنے والد عقیل احمد کے ہمراہ اے ٹی ایس کی زیادتیوں کی تلخیاں بیان کی۔ ان کے والد عقیل احمد نے جو پرلی کے ریٹائرڈ پرائمری ٹیچر ہیں کہا کہ میرا لڑکا ایک ہونہار طالب علم تھا میں نے اسے اعلی تعلیم کیلئے بیرون ملک روانہ کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔ لیکن اس کیس نے ہمارے خاندان کو تباہ کردیا ۔ اس سے میرے اور میرے بچیوں کی شادیوں پر بھی اثر پڑ ا ہے ۔ میرا پورا ایقان ہے کہ اے ٹی ایس نے ہی ہم کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ دوسرے مسلم نوجوانوں عبدالصمد شمشیر خان نے جو جمعیۃ العلما کے دفر میں موجود تھے کہا کہ انہیں بھی اے ٹی ایس نے پھنسایا تھا ۔ استعاثہ نے کہا تھا کہ ڈپٹی کمشنر پولیس دھننجے تیاڈے نے میرا اقبالی بیان ریکارڈ کیا تھا لیکن یہی ڈی سی پی نے عدالت میں میری شناخت نہیں کرسکا ۔

TOPPOPULARRECENT