Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بے روزگاری شرح میں تیزی سے اضافہ ، بیرونی شہریوں کی آبائی مقامات واپسی

بے روزگاری شرح میں تیزی سے اضافہ ، بیرونی شہریوں کی آبائی مقامات واپسی

کرنسی تنسیخ کے بعد مزدور طبقہ ملازمتوں سے محروم ، آئی ٹی شعبہ بھی شدید متاثر
حیدرآباد۔3اگسٹ (سیاست نیوز) ملک میں بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے اور روزگار کیلئے اپنے آبائی مقامات سے ہجرت کرتے ہوئے دیگر ریاستوں میں مقیم ہونے والے افراد اب اپنے آبائی مقامات کی سمت واپس لوٹنے لگے ہیں۔ نومبر 2016میں حکومت کی جانب سے کئے گئے کرنسی تنسیخ کے اچانک فیصلہ سے ملک کے غیر منظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے مزدور طبقہ کو ملازمتوں سے علحدہ کیا جا نے لگا ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ ملک کی کئی ریاستوں میں روزگار حاصل کرنے والے مزدوروں کے ساتھ ٹھیکہ داروں کی بھی حالت انتہائی ابتر ہونے لگی ہے کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے کرنسی تنسیخ سے قبل اس مزدور و ٹھیکہ دار طبقہ کی اجرتیں نقد میں ادا کی جاتی تھیں اور ان کی ادائیگی کے معاملات مخفی ہوا کرتے تھے لیکن ان مزدوروں کو پیٹ بھرنے کا سہارا مل جایا کرتا تھا لیکن کرنسی تنسیخ اوراس کے بعد نقد لین دین پر عائد کردہ حد کے بعد سے ہندستان بھر کی کئی ریاستو ںمیں جہاں ملازمین مزدوری یا کام کی غرض سے جایا کرتے تھے وہ واپس ہونے لگے ہیں۔ ریاست گجرات کے شہر سورت میں جو کپڑا اور ہیرے کی تجارت کیلئے مشہور ہے اس شہر میں ہیرے کی صنعت سے تاحال 20ہزار ملازمین کو برطرف کردیا گیا ہے اور وہ شہر سے واپس اپنے گاؤں مواضعات کا رخ کر چکے ہیں اورخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران مزید ملازمین کو ترک ملازمت کے لئے مجبور کیا جائے گا۔ غیر منظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین ہی نہیں بلکہ ملک کے آئی ٹی سیکٹر پر بھی اس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہونے لگے ہیں جس کے سبب اس شعبہ سے بھی ملازمین کو برطرف کیا جانے لگا ہے۔ نریندر مودی حکومت کے اس فیصلہ کے فوری بعد ٹیکسٹائل صنعت سے 10تا12فیصد ملازمین کی تعداد کو گھٹا دیا گیا جس کے نتیجہ میں اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بے روزگار ہونے لگے اور وہ بھی اب بغیر روزگا ر کے ان شہرو ںمیں قیام کرنے کے موقف میں نہیں ہیں جہاں وہ ملازمت کیا کرتے تھے اسی طرح سیرامک ٹائیلس صنعت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس شعبہ میں خدمات انجام دینے والے مزدوروں کی تعداد بھی گھٹا دی گئی ہے اور پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ کی حالت کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے ساتھ ہی بگڑنی شروع ہو گئی تھی لیکن اب اس میں مزید بگاڑ پیدا ہونے لگا ہے جس کے سبب اس شعبہ کی ملازمتیں بھی خطرہ میں پڑی ہوئی ہیں اور رئیل اسٹیٹ شعبہ جو کہ ہر دورمیں بازار کی صورتحال سے آگہی میں اہم کردار اداکرتا تھا اس شعبہ میں آنے والی گراوٹ کے سبب بھی 5تا8فیصد ملازمین نے اس شعبہ سے علحدگی اختیار کرلی ہے۔کرنسی تنسیخ کے بعد گھریلو شرح پیداوار میں کمی کی رپورٹ منظر عام پرآنے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے نمٹنے کیلئے صنعتی اداروں کی جانب سے غیر منظم مزدوروں کی تعداد کو کم کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی جا سکتی ہے اور ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ کا امکان ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ہندستان بھر میں صرف غیر منظم شعبہ میں اب تک 4لاکھ سے زائد افراد ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں اور ان میں بڑی تعداد اپنے آبائی مقاما ت کو واپس ہونے لگی ہے۔کرنسی تنسیخ اور اب جی ایس ٹی کے بعد مزید صورتحال ابتر ہونے کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ ملک کی صنعتی پیداوار میں اہم کردار ادا کرنے والی ریاستوں سے مزدورں کی واپس اپنی ریاستوں کو منتقلی کے سبب مستقبل میں بھی مزدوروں کی قلت کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے صنعتی اداروں کی جانب سے اس بات کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان مزدوروں کو واپس جانے سے روکا جائے لیکن جب مزدوری ہی نہ ہو تو مزدور شہری علاقو ںمیں کیسے گذر بسر کریں گے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جس غیر منظم شعبہ میں نقد ی کے ذریعہ اجرتوں کی ادائیگی عمل میں لائی جاتی تھی اس شعبہ کو ہی نہیں بلکہ دیگر شعبوں کو بھی کرنسی تنسیخ کے نقصانات کا سامنا اب تک کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے ملازمین کی تخفیف کے متعلق صنعتی و کارپوریٹ اداروں کی جانب سے غور کیا جانے لگا ہے جو کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ کا سبب بن سکتا ہے اور جی ایس ٹی کے سبب پیدا ہونے والے حالات کے متعلق بھی صنعتی اداروں کے ملازمین مختلف خدشات پیدا ہونے لگے ہیں اور کمپنی کے ذمہ داران بھی ان حالات سے نمٹنے کے لئے ماہرین سے مشاورت کرنے لگے ہیں تاکہ ادارہ بھی چلتا رہے اور بھاری نقصانات کا بھی سامنا نہ کرنا پڑے کیونکہ کرنسی تنسیخ کے بعد جی ایس ٹی کے سبب صنعتی اداروں کے ذمہ داروں میں مستقبل کے متعلق مزید خدشات پائے جانے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT