Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / بے روزگاری میں اضافہ ، نوٹ بندی کے بعد جیویلری صنعت میں ملازمتیں ختم!

بے روزگاری میں اضافہ ، نوٹ بندی کے بعد جیویلری صنعت میں ملازمتیں ختم!

صرافہ بازار میں سونے اور چاندی کا کاروبار متاثر ، مالی بحران سے جی ڈی پی پر منفی اثر ممکن
حیدرآباد۔23نومبر(سیاست نیوز) ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ تو نہیں ہوا بلکہ کرنسی کی تنسیخ کے عمل سے بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔ جیویلری صنعت میں ملازمتیں تیزی سے ختم ہوتی جائیں گی؟ صرافہ بازار میں آنے والی گراوٹ کو دیکھتے ہوئے سونے چاندی اور قیمتی دھاتوں کے کاروبارکرنے والوں کی جانب سے اپنے ملازمین کی تعداد میں تخفیف کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے۔4لاکھ 15ہزار کروڑ کی یہ صنعت ملک بھر میں 30لاکھ افراد کو ملازمتیں فراہم کرتی ہے۔ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے تیارکردہ 2015کی رپورٹ کے مطابق ملک میں موجود اس صنعت میں روزگار و ملازمتوں کے کئی مواقع موجود ہیں لیکن موجودہ مالی بحران کی صورتحال میں اس مستحکم سمجھی جانے والی صنعت میں کافی مندی دیکھی جا رہی ہے جو کہ تاجرین کیلئے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے 2لاکھ کے زیورات کی خریدی پر پیان کارڈ کا لزوم عائد کئے جانے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تاجرین نے گذشتہ ایک برس میں سونے چاندی کے ز یورات تیار کرنے والوں کی اجرت کے علاوہ سیلس مین کی تنخواہوں میں کٹوتی شروع کردی تھی لیکن اب جبکہ 8نومبر کو اچانک 500اور 1000کے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کا اعلان کیا گیا تو اس وقت کے بعد سے اب تک صرافہ بازار کے حالات میں سدھار نہیں دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس میں آرہی گراوٹ تاجرین کو عملہ میں تخفیف پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ صرافہ بازار کے سرکردہ تاجرین کا کہنا ہے کہ ملک میں معاشی بحران کی صورتحال نے فروحت میں جو گراوٹ درج کروائی ہے اس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور تاجرین کو ان حالات سے نمٹنے کے لئے صنعت میں برسوں سے خدمات انجام دے رہے افراد کو ملازمت سے ہٹانے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ ملک میں نہ صرف سونے کی فروخت پر اثر ہوا ہے بلکہ سونا فروخت کرتے ہوئے نقد نہ ملنے کے سبب لوگ سونا فروخت کرنے بھی نہیں پہنچ رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس صنعت سے راست وابستہ 30لاکھ ملازمین ہیں جبکہ راست اور بالواسطہ طور پر وابستہ افراد کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ صرافہ بازار میں دیکھی جا رہی اس گراوٹ کا اثر جی ڈی پی پر بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کی شرح ترقی میں اس صنعت کا حصہ 6تا7فیصد ہوا کرتا ہے اور اس صنعت کی ملازمتوں میں کٹوتی ہونی شروع ہوجائے تو حالات مزید ابتر ہونے لگ جائیں گے۔صرافہ بازار کے تاجرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ماہ کے دوران اس صنعت میں 10فیصد ملازمین کی تخفیف یقینی ہے کیونکہ بازار کی اس مندی کے ساتھ تجارت تاجرین کیلئے غیر منافع بخش ثابت ہوگی۔بڑے تاجرین جو ملازمتوں کی فراہمی کے ذریعہ ملک میں بے روزگاری کے خاتمہ کے ذریعہ حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اب ان کی ہی حالت خراب ہونے لگی ہے اور آئندہ چند ماہ تک حالات میں سدھار کے کوئی امکان نظر نہیں آرہے ہیں جس کے سبب ملازمتوں میں تخفیف کے ذریعہ اپنے نقصانات سے نمٹنے پر غور کیا جانے لگا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT