Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / بے روزگاری کے باعث ہر پانچ افراد میں ایک شخص کی خود کشی

بے روزگاری کے باعث ہر پانچ افراد میں ایک شخص کی خود کشی

حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ہر سال عالمی سطح پر بے روزگاروں کے خود کشی واقعات کا ریکارڈ 20 فیصد درج کیا گیا ہے ۔ یہ انکشاف 63 ممالک میں کئے گئے ایک سروے میں ہواہے ۔ پہلی مرتبہ یونیورسٹی آف زورچس سائیکاٹرک ہاسپٹل کے ریسرچرس نے اس طرح کا سروے کیا جس میں اس بات کا پتہ لگایا گیا کہ ہر سال بے روزگاری سے کتنے افراد خود کشی پر مجبور ہور

حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ہر سال عالمی سطح پر بے روزگاروں کے خود کشی واقعات کا ریکارڈ 20 فیصد درج کیا گیا ہے ۔ یہ انکشاف 63 ممالک میں کئے گئے ایک سروے میں ہواہے ۔ پہلی مرتبہ یونیورسٹی آف زورچس سائیکاٹرک ہاسپٹل کے ریسرچرس نے اس طرح کا سروے کیا جس میں اس بات کا پتہ لگایا گیا کہ ہر سال بے روزگاری سے کتنے افراد خود کشی پر مجبور ہورہے ہیں ۔ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے ہر پانچ افراد میں سے ایک فرد خود کشی کررہا ہے ۔ اس طرح کا اس کا فیصد 20 درج کیا گیا ہے ۔ سال 2000 تا 2011 کے دوران عالمی سطح کے چار ریجنوں میں کئے گئے اس سروے میں پتہ لگایا گیا کہ ہر سال خود کشی کے واقعات پیش آرہے ہیں جس کا اصل سبب بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ۔ مسٹر کارلوس نارڈٹ جو کہ ایک مصنف ہیں نے یہ بات بتائی ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال عالمی سطح پر تقریبا ایک ملین افراد خود کشی کی وجہ سے فوت ہورہے ہیں ۔ ریسرچرس نے اپنے اعداد و شمار میں اس بات کو پیش کیا کہ کئی متوفین کا تعلق بے روزگاری سے ہے ۔ ریسرچرس نے عالمی سطح کے تقریبا 63 ممالک میں سروے کیا ہے ۔ ان ممالک کو چار ریجنوں میں منقسم کیا گیا تھا ۔ جس میں نارتھ اور ایسٹرن یورپ اور نارتھن اور ویسٹرن یورپ ، سدرن اور ایسٹرن یورپ ، نان امریکہ اور نان یورپ شامل ہیں ۔ جب کہ ہندوستان اور چین سے اس طرح کے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوئے ۔ عالمی سطح کے ان چار ریجنوں میں ملک کی خصوصیت کو لے کر بے روزگاری سے خود کشی واقعات کے اعداد و شمار اکٹھا کئے گئے تھے ۔ یہی نہیں بلکہ سیکس اور بے روزگاری سے مرنے والوں کی تعداد یکساں ریکارڈ کی گئی ہے ۔ سال 2008 میں مختلف وجوہات کی بناء خود کشی کرنے والوں کی تعداد 5 ہزارجب کہ اس سال مجموعی طور پر خود کشی کرنے والوں کی تعداد 46 ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔ اس کی اہم اور اصل وجوہات میں معاشی مسائل ہیں ۔ مسٹر نارڈٹ نے بتایا کہ ان ممالک میں بے روزگاری کافی حد تک معلوم ہوتی ہے ۔ ریسرچرس کے مطابق ان ممالک میں موسمی تبدیلی کے علاوہ سرمایہ کاری مواقعوں کے دوران مارکٹس میں ملازمتوں کی پیشکش کم رہنے سے شرح اموات میں اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ سروے میں اس بات کو بھی ظاہر کیا گیا کہ اندرون چھ ماہ خود کشی کی شرح بھی بڑھ گئی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT