Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بے سہارا لوگوں کوسہارا دینے جی ایچ ایم سی کی خصوصی مہم

بے سہارا لوگوں کوسہارا دینے جی ایچ ایم سی کی خصوصی مہم

کیمپوںمیں قیام و طعام اور علاج و معالجہ کی سہولتیں، کمشنر بلدیہ جناردھن ریڈی کا اقدام

حیدرآباد ۔ 12 ستمبر (سیاست نیوز) اپنوں کے مارے اپنوں سے دور بے یار و مددگار لاوارث افراد کی بازآباد کاری کیلئے ریاستی وزیر کے ٹی آر کے حکم پر جی ایچ ایم سی خصوصی اقدامات کررہی ہے۔ سڑکوں، بس اسٹانڈس ریلوے اسٹیشنوں میں قابل رحم حالات میں زندگی گذارنے والے افراد کی بازآباد کاری کیلئے خصوصی مہم چلائی جارہی ہے اور ان مجبور و بے سہارا افراد کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے قائم کئے گئے کیمپوں میں رکھ کر انہیں غذا، علاج اور ان کی ضروریات کی تکمیل کی جائے گی۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے ایسے افراد کی شناخت کا آغاز ہوچکا ہے جو جاریہ ماہ کی 16 تاریخ تک مکمل کرلی جائے گی۔ اس پروگرام کی اطلاع کمشنر بلدیہ جناردھن ریڈی نے دی۔ شہر کے مختلف علاقے جیسے درگاہیں، مندریں، بس اسٹانڈس، ریلوے اسٹیشنس اور سڑکوں پر لاوارث، بے سہارا، مجبور، پریشان حال ضعیف افراد کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان افراد کے اہل خانہ ان کی ضعیفی کی وجہ سے یا غریبی کی وجہ سے لاکر شہر میں چھوڑ کر چلے جارہے ہیں یا اپنوں کے ظلم و ستم سے مجبور یہ افراد خود اپنوں سے دور ہورہے ہیں۔ آخر کچھ بھی ہو ان مجبور افراد کی دیکھ بھال، ان کو وقت پر غذا کی فراہمی اور بروقت علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ریاستی وزیر کے احکامات اور جی ایچ ایم سی کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ کے ٹی آر کی جانب سے احکامات کی اجرائی کے ساتھ ہی جی ایچ ایم سی کے شعبہ شہری سماجی ترقی کو الرٹ کیا گیا اور ان بے گھر افراد کے شناختی عمل کو ایک مشن کے طور پر شروع کیا گیا ہے اور ایسے افراد کی شناخت کے بعد ان کی تمام تفصیلات حاصل کی جائیں گی اور حالات کے مدنظر ان میں سے جو اپنے گھروں کو جانا چاہیں گے انہیں روانہ کیا جائے گا اور جو افراد جانا نہیں چاہتے انہیں بلدیہ کے شلٹرس میں رکھا جائے گا۔ علاوہ ازیں ذہنی و جسمانی معذورین کو این جی اوز کے حوالہ کیا جائے گا۔ کمشنر جناردھن ریڈی نے کہا کہ شہر میں جہاں کہیں بھی ایسے افراد نظر آئیں عوام بلدیہ کے عملہ بھانو پرکاش کے سیل نمبر 9701385140 یا کرشنا کے سیل نمبر 9701385138 پر اطلاع دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر کے ٹی آر نے 15 دنوں میں ایسے تین افراد کی شناخت کے ذریعہ جس میں ٹوئیٹر کے ذریعہ اطلاع فراہم کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT