Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / !بے قصور مسلمانوں کا تعاقب

!بے قصور مسلمانوں کا تعاقب

راہِ طلب میں مل گئی کیا زندگی مجھے
تنہا جو مجھ کو چھوڑ کے منزل نکل گئی
!بے قصور مسلمانوں کا تعاقب
ہندوستانی مسلمانوں پر ایک ناکام و ناکارہ سیاسی بیوروکریسی نظام سے برپا ہوتے آرہی قیامت صغریٰ کے ان گنت پہلو بے نقاب ہوتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے الزامات میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان پر تھرڈ ڈگری استعمال کرتے ہوئے جیلوں میں محروس رکھے جانے کے واقعات قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔ دہلی کی عدالت نے کل ہی سال 2005 ء میں دارالحکومت دہلی میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے سلسلہ میں دہلی پولیس کے خصوصی سیل کی جانب سے گرفتار دو کشمیریوں کو بری کردیا۔ ان نوجوانوں کو بے گناہی کے باوجود 12 سال جیل میں رکھا گیا۔ عدالت نے ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہ ہونے پر رہا کردیا۔ اس سلسلہ میں بم دھماکوں میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے مگر اس واقعہ کے اصل متاثرین کی تعداد 69 سمجھی جانی چاہئے کیوں کہ ناحق دو نوجوانوں کو اس کیس میں ماخوذ کرلیا گیا۔ اس سے صاف طور پر یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ ہندوستان میں مسلم دشمن سیاست اور بیورو کریسی اور مسلمانوں کا تعاقب کرنے والے انٹلی جنس اداروں اور فرقہ پرستوں نے ملک کی روایات کو بُری طرح بدنام اور پامال کردیا ہے۔ دہلی سلسلہ وار دھماکوں میں گرفتار کئے گئے کشمیری نوجوانوں کا ہی ایک واحد کیس نہیں ہے ملک بھر میں ایسے کئی کیسیس ہیں جس میں دہلی پولیس اور دیگر ریاستوں کی پولیس نے مسلم بے قصور نوجوانوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن جب کیس عدالت میں زیر سماعت آتا ہے تو ایسے 70 فیصد کیس من گھڑت اور بناوٹی ثابت ہوتے ہیں۔ جن کو پولیس اپنے بیجا اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تیار کرتی ہے۔ واقعات کو توڑ مروڑ کر اور زیر حراست افراد پر تھرڈ ڈگری کا استعمال کرکے پھانسا جاتا ہے۔ انسداد دہشت گردی سے وابستہ عہدیداروں کو اگر جوابدہ بنایا جائے تو ان آفیسرس کے خلاف ان کی غلط رپورٹس پر کارروائی کی جائے تو شاید بے قصور نوجوانوں کو ماخوذ کرنے کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔ اصل خاطی ان کے چنگل سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور جب انٹلی جنس اور پولیس کے تمام اہم شعبہ اصل ملزمین کا پتہ چلانے میں ناکام ہوتے ہیں تو ان کا آسان نشانہ بے قصور مسلم نوجوان ہوتے ہیں۔ دہلی عدالت نے گزشتہ روز جن افراد کو بری کردیا ہے ان میں محمد حسین فضلی اور محمد رفیق شاہ ہیں۔ اس طرح کے ایک اور کیس میں پولیس نے نثارالدین احمد کو پھانسا تھا جنھوں نے 23 سال جیل میں گزارے۔ بعدازاں عدالت نے تمام الزامات سے بری کرکے گزشتہ سال ممبئی میں جیل سے رہا کردیا تھا۔ 20 سال کے نوجوان نثار کو جیل مقید کردیا گیا اور جب رہا ہوئے تو ان کی عمر 43 سال تھی۔ 12 سال ان کے زندگی کے ضائع کردیئے گئے۔ سماجی بدنامی، متعلقین پر گزرنے والی مصیبتوں کا ذکر الگ ہے۔ ہندوستان کی کرپٹ اور متعصب انفورسنگ ایجنسیاں اس ملک کی نیک نامی کے لئے داغ ہیں۔ اگر ایسے اداروں اور آفیسرس کو صرف مسلم شناخت رکھنے والے معصوم نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے تو ہندوستان کو یہ لوگ مسلمانوں کے لئے قبرستان، قید خانہ بنانے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دانستہ طور پر معصوم مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر حکمراں طبقہ چشم پوشی اختیار کرتا ہے۔ سیکولر اور مسلمانوں کی ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں کے دوران ہی مسلمانوں کو شدید نقصان پہونچایا گیا ہے۔ کانگریس دور حکومت میں این ڈی اے حکومت میں تعصب پسند نظم نسق، پولیس انتظامیہ اور دیگر اداروں نے بے قصور مسلم نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے سے لے کر جیلوں میں بند کردینے کی گھناؤنی سازشوں کو مکمل آزادی کے ساتھ بروئے کار لایا ہے۔ مسلمانوں کے تحفظ کا دعویٰ کرنے اور مسلمانوں کی نمائندگی کا دھنڈورہ پیٹنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی انہی بے قصور مسلم نوجوانوں کی نعشوں پر ترقی کے پرچم بلند کئے ہیں۔ ایسے ہی جماعتوں کے منہ پر طمانچہ رسید کرنے والے بیان میں محمد حسین فضلی نے سوال کیاکہ آخر ان کی زندگی کے 12 سال کون لوٹائیں گے؟ حکمرانوں اور ان کے کرپٹ سسٹم کے بے رحم ہاتھوں تباہ ہونے والے بے قصور مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کا حساب کون دے گا؟ ان مفلس حالات اور تاریک دور کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت بازاری، ریستورانوں، تفریح گاہوں، شادی خانوں کے حسن و عشق میں جھوم رہی ہے۔ یاد ہونا چاہئے کہ اسی عیش و عشرت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دعوت دی تھی۔ ہلاکو کو بغداد بلایا تھا اور اب ہندوستان مسلمانوں کی غفلت و عشرت کس کو دعوت دے رہی ہے، غور طلب امر ہے۔

TOPPOPULARRECENT