Wednesday , June 20 2018
Home / ہندوستان / بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں نہ کرنے ٹی آر ایس کے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے !!

بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں نہ کرنے ٹی آر ایس کے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے !!

حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں پولیس کی جانب سے ہراسانی و اذیتوں کے واقعات کی شکایات عام ہوتی جارہی تھیں کہ پولیس نے 5 مسلم نوجوانوں کو مبینہ طور پر قتل کے واقعہ سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ حکومت کا درحقیقت پولیس پر کوئی کنٹرول باقی نہیں ہے اور پولیس امن و امان کی برقراری کے نام پر من مانی کارروائیوں میں مصروف

حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں پولیس کی جانب سے ہراسانی و اذیتوں کے واقعات کی شکایات عام ہوتی جارہی تھیں کہ پولیس نے 5 مسلم نوجوانوں کو مبینہ طور پر قتل کے واقعہ سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ حکومت کا درحقیقت پولیس پر کوئی کنٹرول باقی نہیں ہے اور پولیس امن و امان کی برقراری کے نام پر من مانی کارروائیوں میں مصروف ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں نہ کرنے کے اعلانات اور اذیت نہ دینے کے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے وعدے بھی سابقہ نام نہاد حکومتوں کے وعدوں کی طرح ثابت ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پولیس کی اذیت کا شکار حراست میں فوت ہونے والوں میں 2 مسلمان شامل ہیں ۔ جن میں ایک خاتون رحیمہ بی بھی ہیں جو کہ پرگی کی رہنے والی تھیں ۔ نظام آباد میں 25 سالہ نوجوان شیخ حیدر کو بھی پولیس کی جانب سے حراست میں اتنی اذیت دی گئی کہ اس کی موت واقع ہوگئی ۔ مریال گوڑہ میں یم چکرا دھر نامی 57 سالہ عادی سارق کو پولیس کی جانب سے اذیت دی گئی اور وہ دوران حراست فوت ہوگیا ۔ ان واقعات کے علاوہ حالیہ دنوں میں پولیس کمشنر کے دفتر کے روبرو ہراسانی کا شکار شخص نے خود کشی کی کوشش کی اور پھر دونوں شہروں میں رات دیر گئے تلاشی مہم کے نام پر ہراسانی تو معمول بنتی جارہی ہے ۔

گزشتہ ایک ہفتہ میں پیش آئے تین واقعات میں 11 افراد کی جانیں گئی ہیں ۔ سوریہ پیٹ میں پولیس پر فائرنگ کرنے والے جیل سے فرار ڈکیٹ جنہیں سیمی کارکن قرار دیا جارہا ہے نے 4 پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا جس میں جی سدیا ولد جناب دستگیر کی کل موت واقع ہوئی اور آج تدفین عمل میں آئی ۔ 2 اپریل کو پیش آئے اس بدترین واقعہ کی جوابی کارروائی میں 4 اپریل کو پولیس نے زبردست کارروائی کرتے ہوئے سیمی کے دو مبینہ کارکنوں کو گولی مار دی اور اس انکاونٹر میں مزید ملزمین کے فرار ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ 7 اپریل کو پولیس نے 5 مسلم نوجوانوں کو آلیر کے قریب پولیس بس میں ہی گولیاں مار دیں ۔ جس کے نتیجہ میں یہ 5 زیر دریافت قیدی برسر موقع ہلاک ہوگئے ۔ جن میں وقار ، امجد ، ذاکر ، اظہار خان اور حنیف شامل ہیں ۔ ان نوجوانوں کی انکاونٹر کے نام پر ہوئی ہلاکت کے بعد ہر گوشہ سے پولیس کی کارروائیوں کی مذمت کی جانے لگی ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 5 زیر دریافت قیدی کی ہلاکت پر اب تک بھی سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ۔

گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ریاست تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ کے حدود میں پیش آئے فائرنگ کے واقعات اور پولیس کی جوابی کارروائیوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ ریاست میں ’ گن کلچر ‘ کو دانستہ طور پر فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ علاوہ ازیں پولیس کی جانب سے گزشتہ ماہ ہوئی تحویل میں اموات سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت کی پولیس پر کوئی گرفت باقی نہیں ہے اور حکومت نے پولیس کو کھلی چھوٹ فراہم کر رکھی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل اس بات کے وعدے کئے گئے تھے کہ ریاست میں مسلم نوجوانوں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور بے قصور نوجوانوں پر بیجا مقدمات دائر نہیں کئے جائیں گے لیکن حقیقت کچھ اور ہی ظاہر ہورہی ہے اور حکومت مسلم نوجوانوں کی اموات پر ردعمل تک ظاہر نہیں کررہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں پولیس کی من مانی اور اس طرح کی کارروائیوں کو روکتے ہوئے خاطی عہدیداروں کو کیفرکردار تک پہنچانا ناگزیر ہے چونکہ اس طرح کے واقعات ریاست کے امن و امان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT