Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور ہراسانی کا دور ختم

بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور ہراسانی کا دور ختم

نوجوانوں کو تعلیم اور ترقی کے بہتر مواقع،12%تحفظات،پرانے شہر کی ترقی اولین ترجیح ہفتہ میں تین دن اعظم پورہ میں قیام ، تلنگانہ کے پہلے ڈپٹی چیف منسٹرجناب محمد محمود علی کا خصوصی انٹرویو … رشید الدین …

نوجوانوں کو تعلیم اور ترقی کے بہتر مواقع،12%تحفظات،پرانے شہر کی ترقی اولین ترجیح
ہفتہ میں تین دن اعظم پورہ میں قیام ، تلنگانہ کے پہلے ڈپٹی چیف منسٹرجناب محمد محمود علی کا خصوصی انٹرویو

… رشید الدین …
حیدرآباد۔/8جون۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ہراسانی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی بھی ریاست کی پولیس بے بنیاد الزامات کے تحت حیدرآباد کے مسلم نوجوانوں کو گرفتار نہیں کرپائے گی۔ آج کے بعد حیدرآباد کے مسلمان بے خوف و خطر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں اور حکومت تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے راہ ہموار کرے گی۔ ملک کی 29ویں ریاست کے پہلے ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کے بعد ’’سیاست‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے جناب محمود علی نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت کسی اور ریاست کی پولیس کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ کسی بھی مسلم نوجوان کو گرفتار کرتے ہوئے اپنی ریاست منتقل کرلے۔ کانگریس دور حکومت میں اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے جس میں گجرات پولیس نے دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت حیدرآبادی نوجوانوں کو گجرات کی جیلوں میں منتقل کردیا۔ جناب محمود علی نے کہا کہ دوسری ریاستوں کی پولیس کو کسی بھی نوجوان کو حراست میں لینے سے قبل مقامی پولیس کو الزامات کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بے قصور نوجوانوں کی گرفتاریوں کے مسئلہ پر مسلمانوں کی بے چینی سے حکومت اچھی طرح واقف ہے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی ہرگز اجاز نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اقلیتوں سے کئے گئے تمام وعدوں پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے اور پرانے شہر کی ترقی کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی قدیم تہذیب اور روایات کا احیاء کرتے ہوئے اسے ایک ترقی یافتہ شہر میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے اور پرانے شہر میں ترقی کے معاملہ میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ٹی آر ایس دور حکومت تلنگانہ میں اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ جناب محمود علی کا تعلق پرانے شہر کے معروف تاجر گھرانے سے ہے اور انہیں اس بات کا اعزاز حاصل ہوا ہے کہ قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے چندر شیکھر راؤ نے انہیں نہ صرف وزارت میں شامل کیا بلکہ ڈپٹی چیف منسٹر نامزد کیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں ابھی تک کسی مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز نہیں کیا گیا تھا۔ وہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے قیام سے ہی پارٹی سے وابستہ ہیں اور ان کا شمار کے سی آر کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے۔ جناب محمود علی نے پہلی تا پانچویں جماعت تک چنچل گوڑہ گورنمنٹ پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کی جبکہ چھٹی تا آٹھویں جماعت تک وہ اعظم پورہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں زیر تعلیم رہے۔ نویں تا بارہویں جماعت کی تکمیل انہوں نے مدرسہ اعزہ ملک پیٹ سے کی۔

انوارالعلوم کالج ملے پلی سے انہوں نے گریجویشن کیا۔ بعد میں لا کالج میں داخلہ لیا لیکن پہلے ہی سال قانون کی تعلیم ترک کردی۔وہ 2009ء میں حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے مقابلہ کیا ۔2011ء میں قانون ساز کونسل کی رکنیت کیلئے پارٹی نے انہیں امیدوار بنایا تھا تاہم پارٹی ارکان اسمبلی کی کراس ووٹنگ کے سبب کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔2013ء میں چندر شیکھر راؤ نے انہیں دوبارہ قانون ساز کونسل کیلئے میدان میں اُتارا اور انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ محمد محمود علی ٹی آر ایس کابینہ میں وہ واحد وزیر ہیں جو قانون ساز کونسل کے رکن ہیں۔ انہیں محکمہ مال جیسے اہم قلمدان کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔ جناب محمود علی نے ٹی آر ایس پولیٹ بیورو رکن کے علاوہ پارٹی کے اقلیتی شعبہ کے صدر بھی ہیں‘ پارٹی میں مسلسل سرگرمیوں کے سبب وہ تلنگانہ کے 10اضلاع میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اُن کی عہدہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے موقع پر تمام 10اضلاع کے علاوہ شہر سے سینکڑوں کی تعداد میں ان کے حامی پہونچے تھے۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ خدمت خلق کا جذبہ ان کے والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے اور دس سال کی عمر سے ہی عوامی خدمت کے مختلف کام انہوں نے اپنے والدین کی نگرانی میں انجام دیئے۔ اگرچہ انہیں مختلف جماعتوں نے شمولیت کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا انتخاب کیا کیونکہ انہیں یقین ہے کہ غریبوں اور کمزوروں کے مفادات کی تکمیل صرف ٹی آر ایس کے ذریعہ ممکن ہے۔ 1969ء تلنگانہ تحریک میں وہ شامل رہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام دورِ حکومت میں مسلمان ہر طرح سے خوشحال تھے اس کے علاوہ نظام حیدرآباد کی سیکولر پالیسی کے نتیجہ میں دیگر مذاہب کے افراد بھی یکساں طور پر ترقی کررہے تھے لیکن تلنگانہ کے آندھرا پردیش میں انضمام کے بعد ہر شعبہ میں ناانصافی کا آغاز ہوا۔ انضمام سے قبل سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی 33% تھی لیکن انضمام کے بعد تلگو کو لازمی قرار دیتے ہوئے 30ہزار مسلمانوں کو روزگار سے محروم کردیا گیا۔ آندھرائی حکمرانوں نے نظام حیدرآباد کی کئی جائیدادوں کو سرکاری قبضہ میں لے لیا

جن میں چیریان پیالیس، محبوب منشن اور کنگ کوٹھی شامل ہیں۔ چونکہ چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو ان کا جائز حق دینے کا وعدہ کیا لہذا محمود علی تحریک میں ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر دولت مند افراد برسراقتدار جماعت میں شامل ہوکر اپنے مفادات کی تکمیل کرتے ہیں لیکن انہوں نے غریبوں کی خدمت کے جذبہ کے تحت ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی اور 14برسوں تک مسلسل جدوجہد میں شامل رہے۔ جس وقت وہ انوارالعلوم کالج کے اسٹوڈنٹ تھے اُسوقت کے پرنسپل جناب خلیل اللہ حسینی مرحوم نے چھوٹی ریاستوں کی تائید کرتے ہوئے نظریہ پیش کیا تھا کہ مسلمانوں کی بھلائی چھوٹی ریاستوں میں ممکن ہے۔ محمود علی نے کہا کہ وہ وزارت کے ذریعہ دولت کمانے یا پھر اپنے افراد خاندان کو ترقی دینے کے ہرگز قائل نہیں بلکہ وہ سادہ زندگی پسند کرتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر مال کی حیثیت سے وہ غریب مسلمانوں کی بھلائی کے کام انجام دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مال کی حیثیت سے وہ سرکاری اداروں کے تحت موجود اوقافی جائیدادوں کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کی مساعی کریں گے۔ چونکہ وقف بورڈ کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہے لہذا انہیں یقین ہے کہ کے سی آر کی سنجیدگی کے باعث اس کام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو قانونی اختیارات دیئے جائیں گے اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ پر دیانتدار اور فرض شناس عہدیداروں کو تعینات کیا جائے گا چاہے ان کا تعلق ملک کی کسی ریاست سے ہو۔جناب محمود علی نے بتایا کہ اگرچہ حکومت نے ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے انہیں منسٹرس کوارٹرس میں مکان الاٹ کیا ہے لیکن وہ ہفتہ میں تین دن یعنی جمعہ، ہفتہ اور اتوار اعظم پورہ میں واقع اپنے مکان پر قیام کرتے ہوئے عوامی مسائل کی سماعت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد بینکرس کے ساتھ اجلاس طلب کرتے ہوئے پرانے شہر کے نوجوانوں کو قرض کی اجرائی کے سلسلہ میں رکاوٹوں کے خاتمہ کی ہدایت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر سے ایک شخص کو ملازمت فراہم کی جائے گی اور ہر پولیس اسٹیشن میں ایک سب انسپکٹر اپنے حدود میں رہنے والے مسلمانوں کے معاشی اور تعلیمی سروے کیلئے مامور کیا جائے گا۔ غریب مسلمانوں کی تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اسکالر شپ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے اقلیتوں کو ملازمتوں میں 12فیصد تحفظات پر عمل آوری کو یقینی قرار دیا اور کہا کہ مسلم خواتین کو معاشی طور پر خود مکتفی بنانے کیلئے گھریلو صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی سے متعلق وعدہ کی تکمیل کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری مدارس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ پرانے شہر کے عوام میں سرکاری اسکیمات سے متعلق استفادہ کیلئے شعور بیداری کی ضرورت ہے کیونکہ معلومات کی کمی کے باعث عوام اسکیمات کے فوائد سے محروم ہیں۔ اس سلسلہ میں اقلیتی اداروں میں ہیلپ لائن اور ہیلپ ڈیسک قائم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کو دو بیڈ روم پر مشتمل مکانات کی فراہمی اور حیدرآباد کو سلم علاقوں سے پاک کرنا ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تلنگانہ حکومت کا نظم و نسق کرپشن اور بے قاعدگیوں سے پاک ہوگا اور وزراء و عہدیدار عوام کیلئے باآسانی قابل رسائی ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT