Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات اکھٹا کرنے مرکز کی مہم

بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات اکھٹا کرنے مرکز کی مہم

ریاستی حکومتوں کو تمام رجسٹریشن اور ریکارڈس کی تفصیلات روانہ کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔20نومبر(سیاست نیوز) نوٹوں کی تنسیخ کے بعد بے نامی جائیدادیں حکومت کی نشانہ پرآچکی ہیں اور بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی میں حکومت کو کس حد تک کامیابی حاصل ہوگی اس کا اندازہ تو اسی وقت لگایا جا سکے گا جب ریاستی حکومتیں اپنی سرکاری جائیدادوں کی تفصیلات مرکز کو روانہ کریں گی۔ ’بے نامی ٹرانسیکشن ایکٹ۔2016‘کے تحت حکومت نے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں جائیدادوں کی نشاندہی کا عمل شروع کردیا ہے اور ریاستی حکومتوں سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ریکارڈس حکومت کو روانہ کردیں تاکہ ان ریکارڈس کے علاوہ مابقی جائیدادوں کی تفصیلات اکٹھا کی جا سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق سب سے پہلے بڑے شہروں میں موجود رہائشی جائیدادوں اور ان شہروں کے نواحی علاقوں میں موجود اراضیات و تعمیرات کی تفصیل جمع کی جائے کیونکہ بے نامی جائیداد رکھنے والوں کی دلچسپی تیزی سے ترقی پذیر علاقوں میں سرمایہ کاری میں ہوتی ہے اور بے نامی جائیدادوں کی معاملتوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے علاوہ کئی معاملات میں سیاستداں راست ان جائیدادوں کی خریدی میں ملوث ہوتے ہیں جودوستوں ‘ ملازمین یا رشتہ داروں کے ناموں پر خریدی جاتی ہیں۔ اگسٹ 2016میں ترمیم کے ساتھ روشناس کروائے گئے قانون میں بے نامی جائیداد رکھنے والوں کو 7سال کی سزائے قید اور جائیداد کی ضبطی کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔باوثوق ذرائع کے بموجب شہر حیدرآباد کے اطراف و اکناف موجود اسی طرح سے خریدی گئی جائیدادوں کی نشاندہی کا عمل شروع کردیاگیا ہے تاکہ بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف کاروائی شروع کی جا سکے۔ یکم نومبر 2016سے ترمیم شدہ بے نامی ٹرانسیکشن ایکٹ کے نفاذ کیساتھ ان تمام اطلاعات کی توثیق ہونے لگی ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ ان جائیدادوں کی خریدی میں سیاستدانوں کے ملوث ہونے کے سبب کاروائیاں مشکل ہوجائیں گی کیونکہ حکومت پر ان کے دباؤ میں اضافہ ہوگا لیکن دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ سے عوام کو ہونے والے مسائل پر سیاسی جماعتوں کی کوشش کے باوجود سخت عوامی ردعمل ظاہر نہ کئے جانے کے سبب حکومت کے حوصلوں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس قانون پر عمل آوری کے ذریعہ جائیدادوں کے حصول کو یقینی بنانے کے عمل کا آغاز کرچکی ہے۔ نوٹوں کی تنسیخ سے عوام کو شدید تکالیف کے باوجود بھی سخت عوامی احتجاج نہ ہونے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کے اس اقدام کا راست عوام پر کوئی اثر نہیں ہوگا لیکن سیاسی حلقوں میں دیگر ذرائع سے اسے روکنے کیلئے کوششیں شروع کی جا چکی ہیں۔  (سلسلہ صفحہ 6پر)

TOPPOPULARRECENT