Saturday , September 22 2018
Home / سیاسیات / بے نقاب ہونے کے خوف سے بی جے پی الیکشن کمیشن سے رجوع

بے نقاب ہونے کے خوف سے بی جے پی الیکشن کمیشن سے رجوع

نئی دہلی 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )بی جے پی نے مہاتما گاندھی کے قتل میں آر ایس ایس کے ملوث ہونے کے راہول گاندھی کے تبصرے کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر قانون کپل سبل نے آج اپوزیشن پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رد عمل ’’بے نقاب ہونے کے خوف ‘‘ کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک

نئی دہلی 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )بی جے پی نے مہاتما گاندھی کے قتل میں آر ایس ایس کے ملوث ہونے کے راہول گاندھی کے تبصرے کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر قانون کپل سبل نے آج اپوزیشن پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رد عمل ’’بے نقاب ہونے کے خوف ‘‘ کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک کو یہ یادہانی کروائے کہ آر ایس ایس کو قوم دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ناتھو رام گوڈستے آر ایس ایس کا آدمی تھا جس کی نشو و نما تعصب اور دائیں بازو کی فسطائیت کے ماحول میں ہوئی تھی۔ اس لئے جب راہول گاندھی نے اس کی بلکل درست نشاندہی کی تو انہیں ’’بے نقاب ہونے کا خوف‘‘لاحق ہوگیا ۔ جس کی وجہ سے انہوں نے رد عمل ظاہر کیا۔ الیکشن کمیشن سے رجوع ہونے کا بی جے پی کا فیصلہ صداقت کے دفاع کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے بے نقاب ہونے کے خوف کی وجہ سے ہے ۔ مرکزی وزیر قانون نے کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ گوڈسے نہ صرف آر ایس ایس کا رکن تھا بلکہ وہ ایک گروپ کا دانشور قائد بھی تھا ۔

انہوں نے کہا کہ آنجہانی مرارجی دیسائی نے یہ نکتہ اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ راہول گاندھی اور کانگریس پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی نے کل مہاتما گاندھی کے قتل سے آر ایس ایس کو مربوط کرنے کے راہول گاندھی کے تبصرے کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے ۔بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے خلاف کارروائی کی جائے اور پارٹی کو غیر مسلمہ قرار دیا جائے ۔ مرکزی وزیر قانون نے کہا کہ اب بی جے پی دلدل میں پھنس گئی ہے اس لئے وہ تردید کرنے کا رجحان رکھتی ہے ۔ اگر وہ صداقت کو قبول کرلیں تو ایک ایسی تنظیم کی تائید بے نقاب ہوجائے گی جس کے نظریہ کے نتیجہ میں بابائے قوم کا قتل ہوا تھا اگر وہ اس کی تردید کرتی ہے تو وہ فرقہ پرستوں کی تائید کھو بیٹھے گی جس کے ووٹوں کے بل بوتے پر وہ تعمیر ہوتی رہی ہے۔کانگریس کے سینئر قائد نے نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ کیلئے نشستوں کے انتخاب کے سلسلہ میں بی جے پی میں داخلی تنازعہ پر بھی تنقید کی ۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر ظاہر ہوگیا ہے کہ حقائق کو چھپانا بی جے پی کی عادت ہے ۔ ہم کئی سینئر بی جے پی ارکان کے بارے میںکہانیاں پڑھ رہے ہیں کہ وہ جس انداز میں مودی کیلئے بالائے طاق کئے جارہے ہیں اس پر وہ الجھن میں مبتلا ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کارروائیاں کررہے ہیں۔ اس کے باوجود کے ان کا ’’دانستہ‘‘افشا ہورہا ہے۔کپل سبل نے کہا کہ حالانکہ یہ بی جے پی کا داخلی معاملہ ہے لیکن ایک قومی مسئلہ بھی ہے ۔ اگر یہی مودی جو ہندوستان کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں ان افراد کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں جنہوں نے پارٹی میں ان کو فروغ دیا ہے تو انہیں اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے سے کون روک سکتا ہے ؟

TOPPOPULARRECENT