Tuesday , June 19 2018
Home / مضامین / بے پناہ صلاحیتوں کے مالک پانچ چور

بے پناہ صلاحیتوں کے مالک پانچ چور

محمد مصطفی علی سروری
اس مہینے کی 10 تاریخ کو پرانے شہر حیدرآباد کے بھوانی نگر پولیس اسٹیشن میں شام کے وقت ایک بارہ برس کا لڑکا داخل ہوتا ہے اور وہاں موجود پولیس والوں سے مل کرا یک قیمتی موبائیل فون حوالے کرتا ہے اور بتلاتا ہے کہ جب وہ تالاب کٹہ کی سڑک پر سائیکل سے جارہا تھا تو وہاں پر اس کو یہ فون ملا۔ بھوانی نگر پولیس اسٹیشن کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق چاچا گیاریج تالاب کٹہ کے رہنے والے 12 سال کے سید شاہنواز کو سڑک پر جب ایک موبائیل پڑا ہوا ملا تو اس نے فون کو اُٹھاکر قریبی پولیس اسٹیشن (بھوانی نگر) میں پہونچادیا ۔پولیس نے فون کے اصلی مالک کا پتہ لگایا کہ انہیں پولیس اسٹیشن بلایا تو پتہ چلا کہ یہ فون وٹے پلی کے مکیں محمد عبدالرؤف کا ہے ۔ بھوانی نگر پولیس اسٹیشن نے سید شاہنواز کی فوٹو خبر سوشیل میڈیا میں جاری کی جس میں شاہنواز فون کو اس کے اصلی مالک کے حوالے کر رہا ہے۔ شاہنواز کی اس فوٹو اور خبر کو تقریباً (700) شہریوں نے پسند کیا اور بیشتر افراد نے خاص طور پر شاہنواز کے والدین کی خوب تعریف کی اور ان کی تربیت کو سراہا کہ اگر شاہنواز کے والدین اس کو ایمانداری کی تربیت نہیں دیتے تو وہ سڑک پر ملنے والے فون کو اس کے مالک تک نہیں پہونچاتا ۔ یہ تو 10 جنوری کی خبر تھی۔
13 جنوری کو کاچی گورہ پولیس نے 5 ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں دینے کا اعلان کیا ۔پولیس کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق یہ پانچ ملزمان شہر حیدرآباد و اطراف کے 23 پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں واقع (41) اے ٹی ایم مشینوں کے سنٹرس سے 80 ایرکنڈیشنڈ کا سرقہ کرنے کے مرتکب پائے گئے ۔ اصل سرغنہ کے متعلق پولیس نے بتلایا کہ یہ نوجوان بطور اے سی ٹیکنیشن ممبئی کی ایک کمپنی کیلئے کام کرتا تھا جو شہر حیدرآباد کے اے ٹی ایم سنٹرس میں نصب اے سی مشینوں کی دیکھ بھال کا کام کرتی ہے ۔ بعد میں اصل ملزم نے زیادہ پیسہ کمانے کیلئے اے سی کی مرمت کا کام کرنے کے بجائے اے سی چوری کر کے اس کو بیچنے کا منصوبہ بنالیا۔ اس نوجوان کی عمر صرف 18 برس بتلائی گئی ہے جو اے سی کی مرمت کا کام جانتا تھا اور سنتوش نگر کے ایک جونیئر کالج کا اسٹوڈنٹ ہے ۔ اس نے شہر کے مختلف ایسے ATM مشینوں سے AC چوری کرنے کا منصوبہ بنایا جہاں پر سیکوریٹی گارڈ نہیں ہوتا ہے۔ AC چوری کرنے کیلئے انٹرمیڈیٹ کے اس 18 سالہ نوجوان نے اپنی ایک ٹیم بنائی جس میں تار ناکہ کے ایک جونیئر کالج کا ایک طالب علم ملکاجگری کے ڈگری کالج کا ایک طالب علم ، ایک AC میکانک اورایک آٹو ڈرائیور کو شامل کیا ۔ مسلمان بچوں کی اس صلاحیت کی داد دینی پڑتی ہے کہ چوروں کی اس ٹیم کو چونکہ اے سی مشینوں کی چوری کرنی تھی تو انہوں نے ایک نہیں بلکہ دو اے سی ٹیکنیشن کو اپنی ٹیم کا ممبر بنایا اور ایک آٹو ڈرائیور بھی ان کی ٹیم میں شامل تھا جو اے سی کو چوری کرنے کے بعد اپنے آٹو میں رکھ کر لے جاتا تھا۔
ٹیم کا اصل سرغنہ کمپنی میں کام کرنے کے دوران اے ٹی ایم کے اے سی مشینوں کے بارے میں خاصی معلومات حاصل کرچکا تھا اور چوری کے ایک واقعہ کے بعد اس کو کمپنی نے ملازمت سے نکال دیا تھا ، اب وہ صرف انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ۔ اس نے پانچ ممبروں کی جو ٹیم بنائی اس میں شامل بچوں کی عمر 18 سے 20 سال کے درمیان ہی تھی ۔ چوروں کی اس ٹیم نے اے سی چوری کرنے کیلئے ایک باضابطہ منصوبہ بھی بنایا تھا ۔ پولیس کے مطابق اس گینگ نے ڈسمبر 2017 ء میں اپنا کام شروع کیا تھا۔ اس ٹیم کی پروفیشنل منصوبہ بندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے، ان لوگوں نے اپنے سامنے ایک ٹارگٹ رکھا تھا کہ دو مہینوں کے دوران ان لوگوں کو جملہ 100 اے سی مشین چوری کرنی ہے۔ ڈسمبر 2017 ء میں چوری کا کام شروع کرنے کے بعد 13 جنوری کو اپنی گرفتاری تک ان پانچوں نوجوانوں نے 80 ایر کنڈیشنڈ مشینوں کو چوری کرنے کا کام پورا کرلیا تھا ۔ ان چوروں کی خود اعتمادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں نے فتح دروازہ کی ایک ا یجنسی کے مالک سے معاہدہ کرلیا تھا کہ انہیں اے ٹی ایم مشینوں کے سنٹرز سے پرانی اے سی مشینوں کو حاصل کرنے کا کنٹراکٹ ملا ہے اور وہ 15 جنوری 2018 ء تک 100 پرانے اے سی مشین ایجنسی کو لاکر دیں گے ۔ کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کے پاس جب پولیس نے ان ملزمان کو گرفتار کیا تھا، اس وقت بھی ان کے قبضے سے چار اے سی ملے جو آٹو کے ذریعہ گودام کو لے جائے جارہے تھے ، ان کی کارکر دگی بڑی شاندار تھی ، اگرچہ کہ وہ غیر قانونی (چوری) کام کر رہے تھے لیکن ایک مہینے اور 13 دنوں میں ان لوگوں نے 80 اے سی مشینوں کا سرقہ کرلیا تھا ، اب ان کے پاس اور 17 دن باقی بچے تھے جس کے دوران انہیں مزید 20 مشینوں کو چوری کر کے گودام پہونچانا تھا

۔ 18 سے 20 برس کے پانچ بچوں کی اس کارکردگی کو شاندار کہنا ہرگز مناسب نہیں ہے چونکہ یہ لوگ کوئی اچھا کام نہیں کر رہے تھے بلکہ چوری کر رہے تھے لیکن جس طرح سے اچھے کام کرنے اور سڑک پر پڑے موبائیل فون کو اس کے حقیقی مالک تک پہونچانے کیلئے سید شاہنواز کو اس کے والدین کو مبارکباد دی جارہی ہے ، ویسے ہی 18 سے 20 سال کے ان نوجوان چوروں کے والدین کو بھی توجہ دلائی جانی چاہئے کہ آخر ان سے کہاں پر غلطی ہوئی کہ ان کے بچوں نے تعلیم سے زیادہ چوری کے کاموں پر توجہ مرکوز کی اور خاندان کا نام بدنام کرنے کا سبب بنے لیکن قارئین اکرام جو چیز ہم سبھی کو نوٹ کرنی ہے وہ یہ کہ یہ نوجوان کوئی چوروں کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان میں زیادہ تر تو انٹرمیڈیٹ اور ڈگری کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ ان لوگوں نے 80 اے سی مشینوں کو صرف ایک مہینے تیرہ دنوں میں چوری کرلیا یعنی تقریباً چالیس دنوں میں روزانہ دو مشینوں کے حساب سے ان لوگوں نے اپنے کام کو سرانجام دیا اور اپنی ہی جانب سے طئے کردہ Target (نشانہ) کو حاصل کرنے کے بالکل قریب تھے ۔ ان کے ہاں مز ید 17 دن باقی تھے اور صرف 20 اے سی کا نشانہ پورا کرنا تھا ۔ ایک اچھے پروفیشنل کے ہاں جو جذبہ درکار ہوتا ہے، وہ ان لوگوں کے ہاں موجود تھا ۔ ان کی ٹیم اسپرٹ کا جذبہ ہی تھا کہ ان لوگوں نے اپنی گینگ میں ایک آٹو چلانے والے کو شامل کیا ۔ یہ نہیں سوچا کہ ہم ہی آٹو چلا لیں گے یا کرایہ پر لے لیں گے ۔ خود آٹو چلالیں تو ان کو پاس آٹو ہی نہیں تھا کرایہ پر لیں گے تو رازداری چلے جانے کا خطرہ تھا ۔ یہ ایسی بہترین انتظآمی صلاحیت ہے جو کسی بھی تنظیم یا ادارے کی کامیابی کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔
ان چوروں کی ٹیم کی کامیاب انتظامی صلاحیت کا ایک راز یہ بھی تھا کہ ان کی ٹیم ممبرس میں عمروں کا زیادہ فرق نہیں تھا ۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ ان لوگوں نے اس میدان (Field) میں کام شروع کیا جس میں ان کو مہارت تھی دو ٹیم ممبرس اے سی کی مرمت کا کام جانتے تھے ۔ تیسرا نکتہ جو ان لوگوں سے سیکھا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ ان کا ٹیم لیڈر ایسا نوجوان تھا جو اے ٹی ایم کے اے سی مشینوں کی دیکھ بھال کا کام کرچکا تھا اوراس حوالے سے تجربہ رکھتا تھا اور یہی تجربہ اس ٹیم کے بڑے کام آیا۔
قارئین اکرام اس خبر کو پڑھنے کے بعد ایک آسان سا طریقہ یہ بھی تھا کہ ہم ان بچوں کے بگڑنے اور چوری کرنے کی عادتوں کا شکار بننے پر ان لوگوں کو ان کے والدین کو کوس کر برا بول کر بھی خاموشی اختیار کرسکتے تھے لیکن آج مسلمانوں کو مسائل کے عملی حل کی ضرورت ہے ۔ 18 سال تا 20 سال کے نوجوان اگر چوری کے راستے پر چل رہے ہیں تو یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ یہ کس کیلئے چوری کر رہے ہیں؟ گھر والوں کا ہاتھ بٹانے کیلئے ؟ یا خود اپنے اخراجات پورا کرنے کیلئے ، گھر والے تو بچوں کو پڑھانا چاہتے ہوں گے ۔ تبھی تو پولیس نے بتلایا کہ پانچ میں سے تین بچے کالجس میں پڑھ رہے ہیں۔ جب گھر والوں کو ان بچوں کے اور وہ بھی چوری کے پیسے نہیں چاہئے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے یہ بچے چوری کر کے جو پیسے کما رہے تھے وہ گھر والوں کو نہیں دے رہے تھے بلکہ خود اپنی ذات پر خرچ کرنا چاہتے تھے ۔ آخران بچوں کے ایسے کونسے اخراجات تھے جس کیلئے بہت سارے پیسوں کی ضرورت تھی ؟ والدین کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ان کے بچوں کے ایسے کونسے دوست ہیں جو انہیں بال کٹوانے سے لیکر پہننے کے کپڑے جوتے اور تو اور چلانے کیلئے گا ڑیاں دیتے ہیں۔ والدین اور سرپرستوں کو اس بات پر بھی سوچنا ہوگا کہ ان کے بچوںکے پاس نئے نئے فون کہاں سے آرہے ہیںاور تو اور سب سے اہم ذمہ داری کہ اس بات کا بھی وقتاً فوقتاً پتہ لگایا جائے کہ جن کالجوں میں پڑ ھنے کیلئے ان کے لڑ کے گھر سے نکل رہے ہیں وہ اس کالج تک پہونچ بھی رہے ہیں یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کالج کے اوقات سے بڑھ کر ان کا لڑکا گھر سے باہر رہ رہا ہے تو یہ جاننا والدین کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ کہاں جارہا ہے ۔ یہ سب نگرانی والد کی ہی نہیں والدہ یعنی ماں کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ ان کا لڑ کا تین وقت کا کھانا گھر پر نہیں کھارہا ہے اور ایسا کرنا معمول بن گیا ہے تو پتہ لگانا ہوگا کہ آخر روزانہ یا ہفتہ میں کئی مرتبہ باہر کا کھانا کھانے کیلئے پیسے کہاں سے آرہے ہیں۔

ہاں اگر والدین اپنے بچوں پر نگرانی رکھتے، ان کی تربیت کا خیال کرتے تو ان بچوں کو جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے سے روکا جاسکتا ہے ۔ ہمیں بحیثیت والدین نہ صرف بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھنا ہوگا بلکہ کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے کا ہی نہیں بلکہ ان کے اخلاق و کردار کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔ وقت بڑی تیزی سے بدل رہا ہے ، اب کسی کو اس کے چہرے سے نہیں جانا پہچانا جاسکتا ہے کہ یہ چور ہے ۔ اب کسی کو اس کے لباس اور وضع و قطع سے بھی نہیں جانا سکتا ہے کہ وہ چور ہے ، چور بھی ہماری طرح عام آدمی ہے ، وہ ہم میں سے ہی ہے اور خاص بات کہ یہ جو چور کی نئی پہچان ہے ۔ وہ ایک باصلاحیت ہنرمند اور محنتی نوجوان ہے جس کی غلطی یہ ہے کہ وہ قانون کے دائرے کو چھوڑ کر غیر قانونی کام کر رہا ہے ۔ بحیثیت سماج کے ایک حصے کے میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں نوجوانوں کو تعلیم کی طرف محنت کی طرف اور اکل حلال کی طرف راغب کروں۔ اگر کوئی اے سی ٹیکنیشن ملے تو اس کو یہ نہ بولوں کہ اس کام سے کیا ملتا میاں تمہارے کو ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ محنت کی کمائی کم ہوتی ہے سوچ کر وہ غلط راستے پر نہ چلنے لگے۔
مجھے کسی کو یہ بھی نہیں بولنا چاہئے کہ ارے بابا مہینے کے 6 ہزار کمائے تو کیا ہوتا ؟ ہم نے محنت کی کمائی کی کبھی قدر ہی نہیں کی ۔ محنت کر کے کوئی نوجوان 20 ہزار ماہانا کمائے تو ہم اس کا رشتہ یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے آج کے زمانے میں اتنی تنخواہ سے کیا ہوتا ۔ ایسا کہہ کر اور ایسا کر کے ہم نوجوانوں کو دراصل غلط راستے پرچلنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ خدارا سوچیں زائد کمائی کی چکر میں نوجوان یونہی غلط راستے پر نہیں چل رہے ہیں۔ ہماری زبان بھی اس آگ کو بڑھانے کا کام کر رہی ہے ۔ خدائے تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ کو یعنی ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے (آمین) بقول شاعر
سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا
جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریبان تھا
ہم کس کو قصوروار بولیں، ہمارے دامن بھی تو صاف نہیں۔ہم ہر مسلمان بچے کو ڈاکٹر اور انجنیئر بنانا چاہتے ہیں لیکن ہر بچہ مساوی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT