Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / بے چینی و اضطراب کی بیماریوں سے شہری علاقہ شدید متاثر

بے چینی و اضطراب کی بیماریوں سے شہری علاقہ شدید متاثر

ذہنی امراض سے متاثرہ دس سر فہرست ریاستوں میں تلنگانہ بھی شامل
حیدرآباد ۔ 20 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ہندوستان میں ذہنی دباؤ اور اضطراب سے جڑی بیماریوں سے متاثر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ذہنی دباؤ میں مبتلا افراد کی زیادہ تعداد تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ریاستوں میں پائی جاتی ہے ۔ یعنی ایسی ریاستیں جن میں خواندگی کی شرح اور شہروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔ ذہنی دباؤ کے مریضوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ گذشتہ ہفتہ طبی جریدہ لانسیٹ میں ریاستی سطح پر پہلی مرتبہ امراض سے متعلق چارٹ کی اشاعت عمل میں آئی ۔ جہاں تک ہندوستان میں امراض اور ان سے متاثرہ مریضوں کا سوال ہے 1990 میں بے چینی و ذہنی دباؤ کے مرض کا خرابی صحت کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں اہم رول ادا کرنے والی بیماریوں میں 40 واں نمبر رہا ۔ اس اصطلاح کو انگریزی میں Daly’s (Disability Adjusted Life Years) کہا جاتا ہے ۔ دراصل بیماریوں سے ہونے والے نقصانات جانی و مالی کا ایک پیمانہ ہے جسے 1990 کے دہے میں فروغ دیا گیا ۔ 2016 میں ذہنی دباؤ اضطراب سے جڑی بیماری 26 ویں نمبر پر تھی ۔ ذہنی دباؤ کو ہندوستان بھر میں معذوری میں گذارے گئے سال YLDs کا باعث بننے والی 10 سرفہرست بیماریوں میں شامل کیا گیا ۔ ۔ لانسپٹ میں شائع رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اضطراب اور بے چینی کے عارضہ میں عام طور پر متاثرہ مرد و خواتین میں ایم قسم کا عجیب خوب و خدشہ طاری ہوجاتا ہے جو معذوروں اور اقتصادی نمو میں گراوٹ کا باعث بن سکتی ہے ۔ اضطرابی و بے چینی کی بیماری سے متاثر ملک کی جو دس ریاستیں سرفہرست ہیں ان میں مہاراشٹرا ، دہلی ، آندھرا پردیش ، کرناٹک ، کیرالا اور تلنگانہ بھی شامل ہیں ۔ ان ریاستوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں خواندگی کی شرح زیادہ ہے اور شہروں کی تعداد بھی غیر معمولی ہے ۔ ان کے برعکس ملک کی دیگر ریاستوں میں شہر کم اور گاؤں زیادہ ہے ۔ بے چینی اور اضطراب کی بیماری سے متعلق DALYs کی شرح سرفہرست دس ریاستوں میں اس طرح ہے ۔ کیرالا 420 ، منی پور 415 ، مغربی بنگال 341 ، ہماچل پردیش 331 ، راجستھان 328 ، مہاراشٹرا 326 ، تلنگانہ 326 ، آندھرا پردیش 325 ، کرناٹک 325 اور دہلی 322 ۔ ماہرین کے مطابق ذہنی امراض کا اثر خاندانی امور اور کام پر بہت زیادہ پڑتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں لوگوں کی ذہنی صحت متاثر ہورہی ہے اور یہ بات کئی جائزوں اور تحقیق سے ثابت ہوچکی ہے ۔ مثال کے طور پر خود کشی کا رجحان تعلیم یافتہ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے پیشہ وارانہ ماہرین میں زیادہ دیکھا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT