Tuesday , December 18 2018

بے گھر و بے سہارا لوگوں کو آسرا فراہم کرنے کی ضرورت

شہر میں پائپ دکانات کے شٹرس غریبوں کا مسکن

شہر میں پائپ دکانات کے شٹرس غریبوں کا مسکن
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : ہندوستان بھر میں بے گھر انسانوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ان کا تقابل یوروپ کے کسی چھوٹے ملک کے ساتھ کیا جاسکتا ہے ۔ تیزی کے ساتھ حیدرآباد شہر بھی کاسمو پولیٹن شہر میں تبدیل ہورہا ہے اور اس قسم کے شہر کی جو بھی لعنتیں ہوتی ہیں وہ بڑی تیزی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں ۔ حیدرآبادی تہذیب تو اب ایک لحاظ سے گنبدان قطب شاہی کے ویرانوں میں یا پھر قلعہ گولکنڈہ کی اجڑی ہوئی عمارتوں تک ہی محدود ہوتی جارہی ہے ۔ حیدرآباد کی بدلتی ہوئی صورتحال کوئی عجوبہ کی بات نہیں ۔ جس شہر میں بھی مادی ترقی ہوتی ہے وہاں اخلاقی گراوٹ خود اپنی راہ بنالیتی ہے ۔ بے گھری ، بے روزگاری ، بے سروسامانی ، کے علاوہ ہیں ۔ رہائشی سہولتوں سے محروم افراد کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے بے گھر انسان فٹ پاتھ ، مختلف دکانوں کے شیٹرس ، سڑک کے بیچوں بیچ واقع ٹریفک آئی لینڈس غرض جہاں جگہ مل جائے سوجاتے ہیں ۔ کئی مزدور اپنی رات اسی طرح گذارتے ہیں ۔ کئی فقیر بھی ایسی ہی راتیں گذارتے ہیں ۔ انہیں نہ بستر اور نہ کسی چادر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بے گھروں کی پریشانی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ چارمینار کے پاس دوکان کے باہر اور دبیر پورہ کے چوراہا کے قریب ایک بڑے پائپ میں افراد رات گذار رہے ہیں ۔ اس طرح کے غریبوں کو کبھی چھت نصیب نہیں ہوتی ۔ یہ مزدور ، یہ غریب وہ لوگ ہیں جو انتخابات میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ دیتے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ان بے گھروں کو کسی نے گھر یا سہارا نہیں دیا ۔ اس پر بھی یہ خوش ہیں ۔ یہ وہ مزدور ہیں جو کہیں بھی شب بسری کرلیتے ہیں ۔ انہیں کسی چیز کی نہ تو کمی محسوس ہوتی ہے اور نہ یہ بے چارے کبھی کوئی شکوہ کرتے ہیں ۔ جہاں جگہ ملی بسیرا کرلیتے ہیں ۔ ریاستی حکومت ، بے گھروں کو مکان دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ ان کوششوں میں اضافہ کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے گھر و بے سہارا لوگوں کے لیے آسرا فراہم کرنے ٹھوس اقدامات کرے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT