Monday , July 16 2018
Home / مضامین / تاج محل اگر ایودھیا میں بھی ہوتا تو محفوظ ہوتا نفرت تو ایک بہانہ ہے ، مسلمانوں پر نشانہ ہے

تاج محل اگر ایودھیا میں بھی ہوتا تو محفوظ ہوتا نفرت تو ایک بہانہ ہے ، مسلمانوں پر نشانہ ہے

محمد غوث علی خاموشؔ
دنیا بھر کو محبت کا پیغام دینے والا حسین تاج محل آج کل کچھ احمقوں کی نفرتوں کا شکار ہے ، صرف اس لئے کہ اسے ایک مسلمان بادشاہ نے تعمیر کروایا ہے ، اس کی رعنائیوں سے دنیا کے دلوں کو ٹھنڈک ملتی ہے تو بی جے پی والوں کے دلوں میں آگ لگتی ہے جو اپنا پانا مقدر ہے ۔ تاج محل صرف ایک یادگار ہی نہیں بلکہ اسے ہندوستان کا تاج بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پھر بھی اسے بی جے پی کے پیادے اپنی نفرت سے دل آزاری کی سازش کر رہے ہیں اور اسے تعمیر کرنے والوں کو غدار کہنا ارزاں شہرت کا احساس دلاتی ہے جبکہ تاج محل آج بھی اپنی بے پناہ خوبصورتی کے ساتھ اپنے مداحوں کو کچھ اس طرح راغب کرتا ہے ، جس سے ملک کی شان میں اضافہ ہوتا ہے اور اچھی خاصی آمدنی بھی حکومتوں کو ہورہی ہے ، اس کے باوجود تاج کو لیکر زہریلے بیانات سے صرف اقلیتوں کو مجروح کرتے ہوئے رہنے کا مشن جاری لگتا ہے۔ مغل شہنشاہوں کی عظیم و خوبصورت بے شمار عمارتوں کو اپنی آغوش میں سنبھالے رکھنے کا اعزاز ہند ہندوستان کو عطا ہوا ہے جو کسی خوش قسمتی سے کم نہیں۔ تاج محل کو بی جے پی حکومت یا یوگی ادتیہ ناتھ چاہ کر بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، کیونکہ اس حسین محبت کی یادگار کو آج بھی دنیا بھر میں غیر معمولی عزت و عظمت برقرار ہے جس پر دنیا کے تمام ممالک رشک کرتے ہیںاور آج بھی دنیا کا ہر فرد اس کے دیدار کو خوش نصیبی سمجھتا ہے ، اسی لئے اسے نقصان پہنچانا ملک کی ناک کاٹنے کے برابر ہوگا اور یہ ہر حال میں محفوظ رہے گا ۔ مگر اس کے تعلق سے جب جب زہریلے بیانات جاری رہیں گے ۔ ملک کا تاج وقار ہے یہ بی جے پی کو بھی بخوبی پتہ ہے

اسی لئے تاج محل اگر ایودھیا میں بھی ہوتا تو محفوظ ہوتا ، نفرت تو بی جے پی کو مغلوں سے ہے ان کے کارنامے مگر ملک کی شان ہے پھر یہ شہنشاہ غدار کہہ جاتے ہیں ا، اصل میں مغل یادگاروں سے اپنا خزانہ بھرنے والے حکمراں غدار ہیں جو مغلوں کی نشانیوں سے نفع بھی پاتے ہیں اور نفرت بھی کرتے ہیں۔ مغل اگر غدار ہیں تو میانمار کے اپنے حالیہ دورے پر ملک کے وزیراعظم نے رنگون میں مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی مزار مبارک پر حاضری کیوں دی اور پھول کیو چڑھائے۔ اتنے بڑے جمہوری ملک میں اس طرح کی ارزاں سیاست آخر کب تک جاری رہے گی ۔ سوچ کر ملک کا ہر شہری فکرمند ہے ۔ ایک طرف سنگیت سوم اترپردیش کے رکن اسمبلی تاج محل سے متعلق اپنے اندر کا زہر اگلتے ہیں جبکہ یہ خود ایک متنازعہ شخصیت ہیں جو 2013 ء میں یو پی کے مظفر نگر فساد میں ملوث ہونے کا انکشاف خود جسٹس وشنو سہائے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کیا تھا اور انہیں قومی دفاعی قانون کے تحت جیل بھی بھیجا گیا ، اس کے ساتھ ساتھ دادری میں بے گناہ اخلاق احمد کے قتل پر بھی زہر افشانی کر کے سرخیوں رہے تھے ، ایسا شخص مغل شہنشاہوں سے نفرت کا اظہار کرتا ہے جو خود نفرت کے تک لائق نہیں اور نہ تاریخ کے ایک ورق سے بھی واقفیت ہوگی۔ صرف زہر اگلنا و دل آزاری ہی ان کا شیوہ ہے۔ تاج کو شیو مندر کہنے والے اسے ثابت کرنے کی جدوجہد کیوں نہیں کرتے۔ سپریم کورٹ نے اسے مندر ثابت کرنے کے مقدمہ کو خارج کردیا ۔ پھر بھی بار بار شیو مندر کو توڑکر تاج بنانے کا ڈنکا بجتا ہی جارہا ہے ۔ جب سپریم کورٹ نے ہی انکار کردیا ہے تو پھر شرپسندی کیوں ؟ تاج کو نقصان پہنچانا بی جے پی کیلئے ناممکن ہے ۔ یہ شر انگیزی تو صرف مسلمانوں کی دل آزاری کرنے اکثریتی طبقہ میں اپنی چمک برقرار رکھنے کا مشن جاری ہے ، جس سے ملک کی عوام کو بھی بخوبی اندازہ ہوچکا ہے ۔ اسی لئے تو پنجاب کے گرداس پور پارلیمانی حلقہ کیلئے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کا گڑھ ہونے پر بھی شکست فاش ہوئی ۔ مغلوں کی نشانیوں کو دیکھ کر غلامی کو محسوس کرنے والے ان نشانیوں سے ہونے والی آمدنی بھی ترک کردیں تو نفرت کا مزہ آئے گا ۔ اس لئے تاج محل جب ملک کی شان ہے ، آن ہے اور اس سے ملک کی معیشت بھی جڑی ہے ، ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اس کے بنانے والوں سے نفرت کا اظہار کر کے کیا ثابت کرنا ہے جبکہ مغل شہنشاہ تو اب زندہ نہیں تو اس سے صاف یہ ہوتا ہے کہ ملک کے اندر مسلمانوں سے متعلق نفرت کے اظہار کو تر و تازہ رکھنے کی سازش ہے ۔ اس ی لئے تو تاج کی آڑ میں آج دل آزاری کا بازار گرم ہے جبکہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کی خوش نصیبی سمجھنا چاہئے جو مغلیہ دور کے یادگاریں ملک کے حصہ میں آئے مگر ایسا نہیں ۔ اترپردیش وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ جو گزشتہ جون میں تاج محل سے متعلق یہ ایک قبر ہے کہا تھا اور اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اور اب یہ کہہ رہے ہیں کہ تاج محل بھارت ماتا کے سپوتوں کے خون پسینہ سے تعمیر کی گئی یادگار ہے جو ملک کا حصہ ہے جس کی نگہداشت کرنا ہماری ذمہ داری ہے جبکہ حقیقت میں تاج مغل بادشاہ شاہجہاں کی یادگار تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اس کو تعمیر کرنے میں جن بھارت ماتا کے سپوتوں نے خون پسینہ بہایا تھا انہیں مغل بادشاہ نے اجرت ادا کی تھی ۔ اس لئے یہ خوبصورت یادگار اجرت دینے والوں کی ہے ، نہ کہ اجرت لیکر کام کرنے والوں کی ہے ۔ اب یہ قبر ہے تو واقع قبر ہے ، مغل بادشاہ نے اپنی بے پناہ محبت میں قبر بھی اتنی خوبصورت بنوائی کہ دنیا اسے ایک عجوبہ کا درجہ دیدیا ۔ اس خوبصورت یادگار سے ہی خوبصورت حکمرانی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ صوبہ ہریانہ کے ریاستی وزیر انیل وجئے نے تاج محل کو خوبصورت قبرستان بتایا، مگر اسی خوبصورت قبرستان نے ملک کی شان بڑھادی ہے اور ملک کو ذریعہ آمدنی ہے بتانا گوارا نہیں سمجھا۔ بالکل یہ ایک خوبصورت قبرستان شاہجہاں نے بعد مرنے کے بھی محبت کے پیغام کو جاری رکھا جو اپنی چند ایک مثال ہے۔ مودی کی حکمرانی میں لفظ مسلم کو کسی نہ کسی طریقہ سے نشانہ بنائے جانے کا رواج کچھ طول پکڑتا جارہا ہے ، کبھی سنگیت سوم تو کبھی ونئے کٹیار اور کبھی انیل وجئے ، یوگی ادتیہ ناتھ ملک کی خوبصورت یادگار تاج محل کو اپنی نفرت کا نشانہ بنائے جارہے ہیں ۔ جو ملک کے ذمہ داروں کے ہاتھوں ہی ملک کی عظمت پامال کی جارہی ہے ، مسٹر وزیراعظم نے اپنے قائدین کو بکواس بازی کا ذمہ دے رکھا ہے جو وقفہ وقفہ سے اپنا زہر اگلتے رہتے ہیں ۔ اب مسلمان حکمرانوں کی یادگاروں کو نشانہ بنانے کا موسم چل رہا ہے ، اگر یہی سلسلہ برقرار رہا تو پھر اچھے دن قصہ کہانیوں میں رہ جائیں گے۔ زہریلی زبان سے اچھے دن کہاں ممکن ہیں ، ملک کی عوام کیلئے اچھے دن لانا چھوڑیئے خود حکومت کے اچھے دن ختم ہوجائیں گے کیو نکہ جس گلدستہ میں صرف خار ہی ہوں اسے گلدستہ نہیں کہتے ! گلدستہ کہلانے کیلئے اسے پھولوں سے بھرا ہونا ضروری ہے ، اسی لئے مغلیہ دور، حکمرانوں نے اس سرزمین کو جگہ جگہ تاریخی و خوبصورت عمارتوں سے سجایا ہے ، تاج محل سے نفرت کا اظہار کرنے والوں کو مغلیہ شہنشاہوں اور دیگر تمام مسلم بادشاہوں کی ان تمام تاریخ عظیم یادگاروں پر گراں نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جس کے بعد لب کشائی کرنے کی جرات کریں۔ ملک کی سرزمین سے اگر تمام مسلم بادشاہوں کی نشانیاں ہٹادی جائیں تو ملک بنا پھولوں کا گلدستہ لگے گا جس کو کوئی دیکھنا پسند نہیں کرتا اور نہ اس پر کسی کی نظر رکتی ہے ۔ ملک بھر کی تمام مسلم حکمرانوں کی یادگاروں سے ملک کو اروں روپئے کی آمدنی ہے اور روزگار جڑا ہے ، اس کے با جوود اُن کے کارنامے زعفرانی جماعت کو نشتر بن کر لگ رہے ہیں۔ بی جے پی ، آر ایس ایس کے نقش قدم پر چلتے ملک کو عظیم بربادی کی طرف لے جانے کا کام کر رہی ہے ۔ اسی لئے اب عظیم عدلیہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہندوتوار طاقتوں کو کھلونا لگتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے دہلی میں پٹاخوں کو جلانے پر امتناع عائد کرنے کے باوجود زعفرانی ذہنیت والوں نے سپریم کورٹ کے روبرو ہی آتشبازی کر کے ملک کی عظیم عدلیہ کا مذاق اُڑایا ہے اور امتناع کے باوجود شہر دہلی میں آتشبازی جاری رہی ، جس سے صاف ظاہر ہے کہ ملک میں اب فرقہ پرست طاقتوں کو قانون کی بھی کوئی پرواہ نہ رہی ، مر کزی حکومت تماشائی بنے یوں ہی شر انگیزی پر چپ رہی تو ملک کو عظیم تباہی سیکوئی نہیں بچا سکتا۔ بے جان تاریخی عمارتوں کی آڑ میں مسلمانوں کو مجروح کرنے کی سازش حکمراں جماعت ترک کرے تاکہ دنیا بھر میں ملک کی تہذیب بدنام نہ ہو، کیونکہ عوام نے اقتدار صرف مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کیلئے نہیں دیا ہے بلکہ ملک کو ترقی کی طرف گامزن کرنے کیلئے عظیم ذمہ داری دی ہے لیکن اسے چھوڑکر آئے دن صرف مسلمان کے احساسات کے ساتھ کھلواڑ کیا جانا احمقانہ پالیسی ہے جس کا زعفرانی جماعت کو بہت جلد پتہ بھی ہوجائے گا ۔ تاریخی یادگاروں کو اسے بنانے والوں کو دیکھتے ہوئے عزت نہ بخشنا اول درجہ کی جہالت ہے جس سے باز آنے کی شدید ضرورت ہے ورنہ مسلم نشانیوں کو نشانے بناتے بناتے کہیں صرف صفر ہی ہاتھ میں نہ رہ جائے جس کے تم موجد بھی ہو !
ہم سورج کا ساتھ پاکر بھی بھولے نہیں ادب
جگنو کا ساتھ پاکے وہ مغرور ہوگئے !

TOPPOPULARRECENT