Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / تاج محل اگر شیومندر ہے تو کیا قطب مینار شیولنگ ہے؟

تاج محل اگر شیومندر ہے تو کیا قطب مینار شیولنگ ہے؟

کیا کسی بھی ملک کے تین قومی ترانے ہوسکتے ہیں ؟

واجد خان
مرکزی حکومت نے 2014 میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنی گورننگ پالیسی کو اس طرح وضع کی ہے کہ گذشتہ تین سالوں سے عوام کو کسی نہ کسی بحران اور تنازعہ میں الجھا کے رکھا ہے اور اس بحران میں سب سے بڑا رول گذشتہ سال 8نومبر کو کئے جانے والے نوٹ بندی کے فیصلہ نے کیا ۔ اس کے بعد گائے کی باری آئی ‘ آج عالم یہ ہے کہ ہندوستان میں انسان اتنے محفوظ نہیں ہیں جتنی گائیں ہیں ۔ تفصیلات میں اس لئے میں جانا نہیں چاہتا کہ ہمارے معزز قارئین تمام حالات سے بخوبی واقف ہیں ۔ اس کے بعد پھر ایک بار تاج محل کی باری آئی اور اسے مغل شہنشاہ شاہجہاں کا کارنامہ نہ بتاکر شیو مندر قرار دینے کی باتیں اخبارات میں گشت کرنے لگیں ۔ تاج محل کے بارے میں کیا کہوں ‘ ہزاروں شاعروں نے اس کی خوبصورتی کے نغمے گائے ہیں بلکہ تاج محل کے نام سے باقاعدہ ایک فلم بھی بن چکی ہے جس میں پردیپ کمار اور بینا رائے نے بالترتیب شاہجہاں اور ممتاز محل کا رول ادا کیا تھا ۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ قطب مینار کی بلندی دیکھ کر اسے شیولنگ قرار دے دیا جائے ۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔ ہمارے قائدین کے ذہنی دیوالیہ پن پر نہ صرف افسوس ہوتا ہے بلکہ ہنسی بھی آتی ہے ۔ فرقہ پرست حکومت کو اپنا بھرم اور راج قائم کرنے کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔بیچارے سیاستدان ! چلئے اب باری آئی وندے ماترم پڑھنے کی ۔ یہ مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے ۔ قبل ازیں بھی مختلف حکومتوں نے وندے ماترم پڑھنے کو لازمی قرار دیا تھا خصوصی طور پر مسلمانوں کیلئے ‘ حالانکہ سنسکرت زبان میں تحریر کردہ وندے ماترم کے خالق بنکم چندر چٹوپادھیائے ہیں جسے انہوں نے 1876ء میں ضبط تحریر میں لایا تھا ‘ تاہم پہلی بار اس کی اشاعت 1882ء میں عمل میں آئی تھی ۔ وطن کی تعریف چاہے کسی زبان میں بھی کی جائے وہ تعریف ہی ہوتی ہے لیکن سنسکرت زبان سے آسان تر زبان اردو ہے اور علامہ اقبال کا ترانہ ہندی ’’ سارے جہاں سے اچھا ‘‘ میں آخر کیا خرابی ہے ؟ کیا اس میں وطن کی ثقافت کی جھلک نہیں ملتی ‘ اس موضوع پر اگر کسی مباحثہ کی ضرورت پیش آئے تو پھر غیر جانبدارشخص جسے دیانتداری کا ذرہ برابر بھی پاس و لحاظ ہوگا وہ یہی کہے گا کہ وندے ماترم پڑھنے سے ’’سارے جہاں سے اچھا ‘‘ پڑھنا زیادہ آسان ہے ۔ وندے ماترم میں یوں تو کوئی عیب نہیں ہے جس میں صرف اتنا ہی ہے کہ مادر وطن کو ’’ درگا ماتا‘‘ کہا گیا ہے جو ہندوازم کا مکتب فکر ہے اور اسلام اللہ لاشریک کا درس دیتا ہے ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا گناکیا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے جس کو ہوا بناکر پیش کیا جارہا ہے ۔ 24جنوری 1950ء کو رابندر ناتھ ٹیگور کا تحریر کردہ جن گن من کو قومی ترانہ قرار دیا گیا جس پر آج تک کسی بھی مسلمان نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ ہندوستانی پرچم کا ڈیزائن تیار کرنے والی بھی ایک مسلم خاتون ثریا بدر الدین طیب جی تھیں ۔ جب وندے ماترم کا تنازعہ پیدا نہیں ہوا تھا اس وقت 1964ء میں دلیپ کمار کی فلم لیڈر ریلیز ہوئی تھی اور مسلم موسیقار نوشاد علی نے فلم کے ٹائٹلز میں ’’ وندے ماترم ‘‘ گیت کو ایک نئی طرز اور نئی دھن میں پیش کیا تھا جسے آج بھی سنا جائے تو کانوں کو بھلا لگتا ہے ۔ آج کی نئی نسل جن گن من سے زیادہ مانوس ہے ‘ سینما ہالوں میں بھی اب فلم شروع ہونے سے قبل قومی ترانہ بجایا جاتا ہے جسے تمام ناظرین کھڑے ہوکر سنتے ہیں ‘ تاہم ایک سوال ذہن میں بار بار اٹھتا رہتا ہے کہ کسی بھی ملک کا کوئی ایک قومی ترانہ ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں تین قومی ترانے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وندے ماترم کو قومی ترانہ سے گڈمڈ نہ کیا جائے بلکہ یہ صرف قومی گیت ہے جبکہ جن گن من قومی ترانہ ہے تو پھر ’’ سارے جہاں سے اچھا ‘‘ کیا ہے ؟ علامہ اقبال نے تو اسے برسوں قبل ترانہ ہندی کا نام دیا تھا ۔ برسوں قبل مہاراشٹرا میں شیوسینا کے آنہانی قائد بال ٹھاکرے نے دوردرشن کو ایک انٹرویو کے دوران علامہ اقبال کے سارے جہاں سے اچھا کی تعریف ضرور کی تھی تاہم اس شعر پر اعتراض کیا تھا ۔

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا
انہوں نے کہا تھا کہ اقبال کو ہندی کی جگہ ہندو کا استعمال کرنا چاہیئے تھا ۔ خیر‘ اُس وقت تو بال ٹھاکرے کے اعتراض پر کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا لیکن زعفرانی ذہنیت ہندوستان میں ہمیشہ موجود رہی ہے اور وقتاً فوقتاً اپنا سرا اٹھاتی رہی ہے ۔ بعض بکاؤ اور زعفرانی ذہنیت والے مورخین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہلدی گھاٹی کی لڑائی میں اکبراعظم نے مہارانا پرتاپ کو شکست نہیں دی تھی بلکہ مہارانا پرتاپ نے اکبراعظم کو شکست دی تھی ۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا ۔ تاریخ کو مسخ کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے اور تاریخی کتابوں سے انگریزوں اور مغل بادشاہوں کے ابواب حذف کئے جارہے ہیں اور نئی نسل کو جو نہیں ہوا تھا وہ ہوا تھا اور جو ہوا تھا وہ نہیں ہوا تھا ‘ باور کروانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو کامیاب نہیں ہوں گی ۔ وندے ماترم لیڈروں کی ایک بڑی تعداد ٹھیک طرح سے پڑھ نہیں سکتی اور بعض کو تو سرے سے پڑھنا ہی نہیں آتا لیکن دوسروں پر اس کا لزوم کیا جارہا ہے ۔ خاص طور پر مسلمانوں پر ۔ اسپین کے ایک نامور فلسفی جارج سنٹائنا (1863-1952) نے تاریخ کی بڑی اچھی تشریح کی تھی ۔’’ تاریخ جھوٹ کا ایک ایکسا پلندہ ہے جن میں ان واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو رونما ہوئے ہی نہیں اور وہ بھی ایسے لوگوں کے ذریعہ جو اس وقت وہاں نہیں تھے ‘‘ ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی کئی حکومتوں کے دور میں تاریخ کی کتابوں میں برطانوی سامراج کی اصلاحات اور طرز حکومت کے بارے میں پڑھایا جاتا رہا لیکن بی جے پی اب تاریخ کی کتابوں میں ’’ ترمیم کرتے ہوئے اس میں سے برطانوی سامراج اور مسلم حکمرانوں کے تذکروں کو بالکل ختم کردینا چاہتی ہے‘‘۔

مہاراشٹرا میں اب تاریخی کتابوں میں صرف شیواجی مہاراج کے بارے میں پڑھایا جارہا ہے ‘ اب مراٹھی قوم بھی کیا کرے ۔ ان کا واحد راجہ شیواجی ہی ہے ۔ لہذا اٹھتے بیٹھتے شیواجی مہاراج کے گن گانے کے سوائے ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے جبکہ مسلم حکمرانوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ آپ کس کس مسلم حکمرانوں کو فرقہ پرست کہیں گے ؟ اگر مسلم حکمراں زور زبردستی سے تبدیلی مذہب کی مہم چلاتے تو آج ہندوستان میں ہندؤں کی اکثریت نہیں ہوتی ۔ مسلمان آج بھی اقلیت میں ہیں جن سے ان کی ہندو دوستی کا ثبوت ملتا ہے لیکن رانی لکشمی بائی اور اہلیہ بائی ہولکر کو تو اہمیت دی جارہی ہے لیکن رضیہ سلطان اور چاند بی بی ( جسکا تعلق مہاراشٹرا سے ہی تھا ) کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے ۔ چاند بی بی شیواجی مہاراج سے کسی بھی طرح کمتر نہیں تھی جس کا آج مہاراشٹرا کا ضلع احمد نگر گواہ ہے ‘ جب بھی کرکٹ میاچس میں ہندوستان کا مقابلہ کسی بھی دیگر ٹیم سے ہوتاہے تو میاچ کے آغاز سے قبل دونوں ممالک کے قومی ترانوں کی دھن بجائی جاتی ہے اور آج کی نئی نسل دیکھ رہی ہے کہ گراونڈ پر ہندوستانی کھلاڑیوں کیلئے جن گن من کی دھن بجائی جاتی ہے تو پھر یہ وندے ماترم ‘ وندے ماترم کیا ہے ؟ ۔ تاریخ کو مسخ کرنے سے گوگل جیسے سرچ انجن کو بدلا نہیں جاسکتا ۔ حق کا ساتھ دینے والوں کیلئے گوگل ہمیشہ موجود رہے گا ۔ اب چاہے فرقہ پرست کتنی ہی کوشش کرلیں وہ صرف تاریخ کے چند صفحات تک ہی محدود رہیں گے ۔ عالمی سطح پر وہ اپنی من مانی کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ آج جدید ٹکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اس کی مدد سے قدیم سے قدیم تاریخی ریکارڈس کی صحیح معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ آخر میں فرقہ پرست بھی یاد رکھیں کہ کسی بھی ملک کا صرف ایک ہی قومی ترانہ ہوتا ہے ۔ اس لئے کنفیوژن کی سیاست چھوڑیئے اور ویژن کی سیاست اپنایئے ۔ اسی میں سب کا ساتھ اور سب کا وکاس مضمر ہے ‘ ورنہ 2019ء میں عوام وہ سبق سکھائیں گے جسے فراموش کرنا مشکل ہوگا ۔ جئے ہند ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT