Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / تاج محل سے متعلق اعظم خان کے ریمارکس کی مذمت

تاج محل سے متعلق اعظم خان کے ریمارکس کی مذمت

سابق وزیر دو فرقوں میں منافرت پھیلانا چاہتے ہیں۔ یو پی کے وزیر اقلیتی بہبود کا رد عمل
رامپور ( اترپردیش ) 20 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش کے وزیر اقلیتی بہبود بلدیو سنگھ اولاکھ نے آج سماجوادی پارٹی لیڈر اعظم خان پر ان کے ان ریمارکس کے نتیجہ میں کہ تاج محل ’’ تباہ ‘‘ کردیا جائیگا تنقید کی ۔ انہوں نے اعظم خان پر الزام عائد کیا کہ وہ دو فرقوں کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کیلئے اس طرح کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما ملائم سنگھ یادو اور پارٹی صدر اکھیلیش یادو کو چاہئے کہ وضاحت کریں کہ اعظم خان نے اس طرح کے ریمارکس کیوں کئے ہیں۔ اولاکھ نے کہا کہ جب چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے واضح طور پر کہا کہ تاج محل ایک قومی یادگار عمارت ہے ‘ یہ ہمارا فخر ہے اور ہمارا ورثہ ہے تو پھر اعظم خان نے کس بنیاد پر یہ کہا کہ تاج محل کو تباہ کردیا جائیگا یا دھماکہ سے اڑا دیا جائیگا ۔ سابق یو پی وزیر اعظم خان نے 18 اکٹوبر کو کہا تھا کہ یہ بات تقریبا طئے ہے کہ تاج محل کو تباہ کردیا جائیگا کیونکہ ایک مخصوص نظریہ کے حامل مورخ پی این اوک نے اپنی کتاب میں جو کچھ بھی لکھا ہے اس پر ہندوستان کی فاشسٹ طاقتیں اور آر ایس ایس کی جانب سے عمل کیا جا رہا ہے ۔ اعظم خان نے کہا کہ پی این اوک نے تحریر کیا تھا کہ ایودھیا میں ایک شیوا مندر نکلے گی اگر وہاں بابری مسجد کو تباہ کردیا جاتا ہے کیونکہ لوگ یہ مانتے ہیں کہ وہاں ایک مندر تھا ۔ ایسے میں ہندوستان میں کوئی بھی عبادتگاہ محفوظ نہیں ہے ۔ اعظم خان نے کہا کہ بابری مسجد کو شہید کرنے سے قبل جو ماحول تھا وہ بہت پہلے سے پیدا کیا جا رہا تھا ۔ اس وقت ہائیکورٹ کی اور سپریم کورٹ کا حکم التوا بھی موجود تھا اور اس وقت کے چیف منسٹر نے بھی عدالت میں حلفنامہ داخل کیا تھا ۔ اس سب کے باوجود بابری مسجد کو ڈائنامائیٹ سے شہید کردیا گیا تھا ۔ بلدیو سنگھ اولاکھ اور اعظم خان کے مابین لفظی تکرار ماہ مئی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب بی جے پی لیڈر نے جوہر یونیورسٹی کے دربار ہال میں ایک جنتاد دربار منعقد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔ یہ یونیورسٹی اعظم خان کی ہے ۔ اعظم خان نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی بھی اس یونیورسٹی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کریگا تو اس کے گیسٹ ہاوز کو دھماکہ سے اڑا دیا جائیگا ۔ اولاکھ نے ایک نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ در اصل خود اعظم خان تھے جنہوں نے خود اپنی ملکیت والی یونیورسٹی کے گیسٹ ہاوز کو دھماکہ سے اڑانے کا انتباہ دیا تھا لیکن بعد میں وہ بیان سے منحرف ہوگئے تھے اور کہا تھا کہ ان کے پاس ڈائنامائیٹ نہیں ہے ۔ اعظم خان جو کچھ کہتے اور جو کچھ کرتے ہیں اس میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ اولاکھ نے کہا کہ اگر اعظم خان یہ کہتے ہیں کہ تاج محل کو تباہ کردینے کی کوئی سازش ہو رہی ہے تو انہیں اس کا ثبوت پیش کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خان دو فرقوں میں منافرت پھیلانے کے مقصد سے اس طرح کے ریمارکس کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT