Monday , December 11 2017
Home / مضامین / تاج محل سے نہیں اصل دشمنی مسلمانوں سے

تاج محل سے نہیں اصل دشمنی مسلمانوں سے

 

غضنفر علی خاں
تاج محل کی عمارت کو متنازعہ بنانے کی کوشش ماضی میں بھی ہوئی ہے لیکن اب تو اقتدار کے نشہ میں دھت بی جے پی قائدین کو اس عالیشان عمارت اس مقبرہ کو مہر و محبت کی اس نشانی کو ہندوستان کی مشترکہ اور قابل فخر وراثت تسلیم کرنے سے عار ہے۔ جیسے اترپردیش اسمبلی کے رکن اور ہمیشہ تنازعات میں پھنسے رہنے والے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم نے تمام حدیں پار کرکے یہاں تک کہہ دیا کہ تاج محل کی عمارت ہماری تہذیب پر ہمارے کلچر پر بدنما داغ ہے۔ یہ ان کا اپنا اکیلا ذہن نہیں ہے بلکہ بی جے پی اور ہندوتوا کی دیگر نمائندہ تنظیموں بشمول آر ایس ایس کی پرانی راگنی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گاندھی جی کے قاتل کو عزت و توقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں گاندھی جی کو ’’چتر بنیا‘‘ کہنے میں بھی عار نہیں ہے۔ یہ بات صدر بی جے پی امیت شاہ کہہ چکے ہیں۔ گاندھی جی کی توہین، نہرو گاندھی خاندان سے ازلی عداوت، ہماری اپنی تاریخ سے لاعلمی اور ہندوستان کے اس تحمل پسند مزاج سے ناواقفیت کا ثبوت ہے جس کے بارے میں اُردو کے مشہور شاعر فراق گورکھپوری نے کہا تھا ’’لوگ آتے گئے اور ہندوستان بنتا گیا‘‘ اسی گورکھپور ضلع کی نمائندگی موجودہ چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ کرتے ہیں جو مسلم دشمنی کے اظہار کا کوئی موقع نہیں کھوتے۔ یوپی کے دینی مدارس کا وجود جن کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، مساجد کا وجود جن کے لئے تکلیف دہ ہے جو اُن گاؤ رکھشکوں کی پشت پناہی کرتے ہیں جو ناحق مسلم نوجوانوں کو ہلاک کررہے ہیں لیکن شاید یوگی جی کو اس بات کا پتہ نہیں کہ گورکھپور کے جس عظیم شاعر فراق گورکھپوری نے یہ مصرع کہا تھا وہ کوئی مسلمان نہیں بلکہ ہندو تھے۔ فراق وسیع القلب اور وسیع النظر تھے۔ جبکہ بی جے پی کے تمام لیڈر خود ہندو دھرم کی روایات سے واقف نہیں ہیں۔ انھیں تاریخ کا کوئی علم نہیں ہے۔ مسلم حکمرانوں کی خدمات اور ان کے Contribution کی نہ تو وہ ابجد جانتے ہیں اور نہ اس بات سے واقف ہیں کہ صرف فن تعمیر میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں مغل حکمرانوں، خلجی خاندان، تغلق خاندان اور خود خاندانِ غلامان کے کئی حکمرانوں نے ’’عروس ہند‘‘ کی زلفوں کو سنوارا یہاں کے مخلوط تمدن کی آبیاری کی، کبھی کسی نے یہاں کی اقدار کو پامال نہیں کیا۔ ایک ہزار سال تک حکمرانی کرنے کے باوجود مغل حکمرانوں نے کبھی تبدیلیٔ مذہب کی کوئی تحریک نہیں چلائی جبکہ وہ مطلق العنان بادشاہ تھے۔ ان میں دوسروں کے مذہبی عقیدہ کے احترام کا مثبت جذبہ تھا۔ رہا سوال ہندوؤں پر زیادتی کا تو ساری تاریخ میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغلوں نے جس مذہبی رواداری کو ملحوظ رکھا اس کا عشر عشیر بھی آج کی فرقہ پرست بی جے پی حکومت میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ ہندوستان کی مخلوط وراثت اگر مسلم حکمرانوں ہی کی دین نہیں ہے تو اس طرح یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ صرف کسی ایک مخصوص دور یا حکمرانی کا تحفہ نہیں ہے۔ تاج محل کے بارے میں بی جے پی کے رکن اسمبلی سنگیت سوم نے جو کچھ کہا اس سے خود بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے اور کسی حد تک وزیراعظم نے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہاکہ تاج محل ہماری وراثت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کا تحفظ ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ریاستی اسمبلی کے رکن کو تاج محل کے بارے میں یہ کہنے کی جرأت کیسے ہوئی کہ ’’تاج محل ہمارے کلچر پر داغ ہے‘‘۔ کیا کوئی رکن اسمبلی ایسا کہنے کی تنہا جرأت کرسکتا تھا۔ سنگیت سوم کا حوصلہ ایسی بکواس کرنے کے لئے کیسے بڑھا کس نے بڑھایا؟ ایک حکمران پارٹی کی پالیسی کے برعکس اور برخلاف بولنے کی ایک ریاستی سطح کا لیڈر کیسے کرسکتا ہے؟ جب تک اس کو یہ بات معلوم نہ ہو کہ پارٹی کی خفیہ پالیسی اور ایجنڈہ کیا ہے اور مسلم دشمنی کو فروغ دینے، ہندوستان سے مسلمانوں کے تمام نقوش کھروچ کر نکالنے کی اصلی بات سے خفیہ پروگرام کا اچھی طرح علم نہ ہو، کیسے ایک ریاستی سطح کا لیڈر ایک قومی وراثت ایک قابل فخر عمارت کے بارے میں یوں زہر افشانی کرسکتا ہے؟ ان سوالات کا جواب اتنا ہی ضروری ہے جتنا ضروری ہے کہ پوری جسارت کے ساتھ پوری اخلاقی جرأت کے ساتھ اترپردیش کی نہیں بلکہ مرکز کی بی جے پی حکومت، وزیراعظم نریندر مودی ازخود یہ واضح نہ کریں کہ تاج محل کو وہ قومی وراثت سمجھتے ہیں۔ ایک تاج محل ہی کی کیا بات ہے ایسی تو کئی عمارتیں ہیں جنھیں مغلوں کے علاوہ انگریزوں نے تعمیر کیا تھا۔ جیسا کہ اترپردیش کے سماج وادی لیڈر اعظم خان نے کہاکہ ’’ایک تاج محل ہی کیوں لال قلعہ، ااگرہ کے قلعہ، قطب مینار بلکہ ہمارے راشٹرپتی بھون کو بھی (خدانخواستہ منہدم کیا جائے) یہ بات انھوں نے طنزیہ انداز میں کہی ہے۔ اب راقم الحروف کا یہ کہنا ہے کہ ترانہ ہند ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ تو علامہ اقبالؔ کے زور قلم کا نتیجہ ہے اور ہمارے خیال میں اقبالؔ بھی بہ اعتبار عقیدہ مسلمان تھے بلکہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ تو پھر کیوں ایک مسلمان شاعر کے کلام کو ترانہ ہند کے طور پر ہر موقع پر سنا اور گایا جاتا ہے۔ شکر ہے کہ کبھی سنگھ پریوار یا اس کے ہمدردوں کو ترانہ ہند کے بارے میں کوئی کیڑا نہیں کلبلایا ، لیکن ان کی مسلم دشمنی دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ ہمیں ضرور کرنا چاہئے کہ ترانہ پر بھی کبھی کسی موقع پر ایسے ہی بے معنی اور لغو اعتراضات ہوں گے۔ خیر اگر ہوا بھی تو اس سے علامہ اقبال کی عظمت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ آخر کہاں ختم ہوگا یہ مسلم دشمنی کا سلسلہ، کیا ملک کی مکمل تباہی اس کے سیکولرازم کے مکمل خاتمہ کے بعد یا پھر ان طاقتوں کی تباہی و بربادی کے بعد جن سے بڑا اور کوئی دشمن ہمارے ملک کا نہیں ہے۔ یہ طاقتیں اپنے عارضی اقتدار پر جامے سے باہر ہوگئی ہیں انھیں قدرت نے ہر اچھے اور مثبت احساس سے عاری کردیا ہے۔ وہ ہندوستان کی بامروّت اور وسیع الذہن، تحمل پسند، اعتدال پسند، مداہب و عقائد کو اپنے دامن میں جگہ دینے والی تاریخ کو بدلنا چاہتی ہیں۔ کیا صدیوں کی تاریخ کو بدلنا ان طاقتوں کے لئے ممکن ہوگا؟ اس سوال پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی قوم کسی ملک کا مزاج ایک سانچہ میں ڈھل جانے کے بعد کسی دوسرے ڈھانچہ میں نہیں ڈھل سکتا۔ ایسی ہر کوشش کو ناکام بنانے کی طاقت خود ملک کی تاریخ میں ہے۔ آج کی یہ ’’ہندوستان شکن‘‘ طاقتیں منہ کے بل گریں گے اور مستقبل کی تاریخ میں ان کا نام و نشان بھی نہیں ہوگا۔ بہرحال ہمارا ہندوستان کسی بی جے پی کسی بجرنگ دل کسی آر ایس ایس سے خود اپنی حفاظت کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT