Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / تاج محل کے سنگ سفیدکو زعفرانی کرنے ہندوتوا طاقتوں کی نئی چال

تاج محل کے سنگ سفیدکو زعفرانی کرنے ہندوتوا طاقتوں کی نئی چال

 

فیض محمد اصغر
یادگار محبت تاج محل ساری دنیا میں ہندوستان کی پہچان ہے۔ امریکہ کے بشمول دنیا کے دوسرے ملکوں کے حکمراں، سربراہان، صدور وزرائے اعظم اور فرمانروا جب بھی ہندوستان کا دورہ کرتے ہیں تب اپنے دورہ میں تاج محل کے مشاہدہ کو ضرور شامل رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی جانب سے اپنی چہیتی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا گیا سفید سنگ مرمر کا یہ مقبرہ اپنی خوبصورتی، حُسن اور تعمیری خوبیوں کے باعث سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ تاج محل کے سامنے تصاویر کھنچوانے یا تصویر کشی کو عالمی رہنماؤں سے لے کر عام سیاح بھی اپنے لئے ایک یادگار اعزاز تصور کرتے ہیں۔ تاج محل کو تاریخی آثار کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے عالمی اداروں نے بھی دنیا کے سات عجائب میں شمار کیا ہے۔ تاج محل اگرچہ ایک شہنشاہ کی جانب سے اپنی بیوی کی یاد میں تعمیر کرایا گیا ایک مقبرہ ہے لیکن دنیا کے چپہ چپہ میں اس کے بارے میں لوگ جانتے ہیں اس خوبصورت اور فن تعمیر کی شاہکار عمارت کو یادگار محبت تسلیم کرتے ہیں۔ تاج محل دراصل عالمی سطح پر ہندوستان کی پہنچان اس کا وقار ہے۔ ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کی علامت اور بہترین مثال ہے۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ تاج محل یادگار محبت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیار و محبت کی اس یادگار کو انسانوں انسانی رشتوں انسانی جذبات اور انسانیت کا احترام کرنے والے بہت پسند کرتے ہیں اور لازمی ہے کہ جو انسانیت و روا داری میں یقین رکھنے والوں کی پسند ہوتی ہے اُسے انسانوں، انسانی جذبات پاکیزہ رشتوں اور انسانیت سے نفرت کرنے والے ہرگز پسند نہیں کرتے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاج محل کو مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا لیکن افسوس کے جب سے مرکز میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی نے اقتدار سنبھالا ہے فرقہ پرستوں کے حوصلہ اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ وہ مسلم حکمرانوں کی تعمیرات اور ان کے فنی شاہکاروں کو فرقہ پرستی کے زہر سے آلودہ کرنے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں دارالحکومت دہلی کی ایک اہم ترین سڑک اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کردیا گیا۔ بی جے پی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں نے اب تو سفید سنگ مرمر کے پاک و صاف تاج محل پر بھی زعفرانی رنگ چڑھانے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ تاج محل کو شیو مندر قرار دے کر اسے سفید و شفاف رنگ سے زعفرانی رنگ میں تبدیل کردیں، چنانچہ پچھلے تین برسوں میں ہندوتوا تنظیموں کے کچھ ایسے مطالبات سامنے آئے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تاج محل اصل میں شیومندر تھا اسے ایک ہندو راجہ نے شاہ جہاں کو بطور تحفہ پیش کردیا تھا۔ مارچ 2015ء میں اترپردیش کے 6 ہندو وکلاء نے ایک مقامی عدالت سے رجوع ہوکر درخواست کی تھی کہ 17 ویں صدی کی مغل یادگار تاج محل کو ایک مندر قرار دیا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آگرہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے ان وکیلوں کی درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرلیا۔ ان ہندو وکیلوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہندوؤں کو تاج محل میں پوجا کرنے کی اجازت لینے کا مطالبہ کیا۔ فروری 2015ء میں بھی آگرہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے ہری شکر جین اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے داخل کردہ ایسی ہی ایک درخواست کو فنی بنیادوں پر مسترد کردیا تھا۔ اس میں بھی تاج محل کی ملکیت پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ اب تو حد یہ ہوگئی ہے کہ جاریہ ماہ سنٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) نے مرکزی وزارت تہذیب و ثقافت کو اس آر ٹی آئی درخواست کا جواب دینے کی ہدایت کی جس میں استفسار کیا گیا تھا کہ آیا تاج محل شاہجہاں کا تعمیر کردہ مقبرہ ہے یا ایک راجپوت راجہ کی جانب سے مغل حکمراں کو بطور تحفہ دیا گیا ایک شیو مندر ہے۔ انفارمیشن کمشنر سریدھر اچاریالو کے مطابق وزارت تہذیب و ثقافت کو چاہئے کہ اس تنازعہ کو ختم کرے اور تاج محل سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات کی وضاحت کرتے ہوئے اس کا ازالہ کریں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندوتوا کی طاقتیں پی این لوک اور ایڈوکیٹ یوگیش سکسینہ کی تحریروں کے حوالے سے تاج محل کو شیومندر قرار دیتے ہیں۔ نام نہاد مورخ پی این اوک اپنی کتاب تاج محل ایک سچی کہانی میں لکھتا ہے کہ تاج محل دراصل اس راجپوت راجہ کا تعمیر کردہ شیومندر ہے جسے شاہجہاں نے اپنا متبنی بیٹا بنالیا تھا۔ اوک خود کے ایک مورخ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس نے نہ صرف اس موضوع پر ایک کتاب لکھی بلکہ سال 2000 میں سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر تاج محل کو شیومندر قرار دینے کا مطالبہ تک کرڈالا جس پر سپریم کورٹ نے اوک کی یہ کہتے ہوئے سرزنش کی تھی کہ آپ پر ایک ہی بات کا خبط سوار ہوگیا ہے اس کے بعد بی کے آئنگر نامی ایک اور شخص نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) میں آر ٹی ائی درخواست داخل کرتے ہوئے یہ سوال کیا کہ آیا آگرہ کی یہ تاریخی عمارت تاج محل ہے یا تیجو محل؟ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ کئی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ تاج محل حقیقت میں تاج محل نہیں بلکہ تیجو محل ہے

اور اس عالیشان عجوبے کو شاہ جہاں نے نہیں بلکہ ایک ہندو راجہ مان سنگھ کی جانب سے مغل حکمراں کو دیا گیا۔ ایک تحفہ ہے ان حالات میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کا موقف کیا ہے۔ اسے ظاہر کیا جائے۔ جواب میں آثار قدیمہ نے آئنگر کو بتایا کہ اس کے یہاں اس قسم کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ اس ضمن میں ایک بات بناء کسی ہچکچاہٹ کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے ہندوتوا طاقتوں نے مسلم حکمرانوں، علماء، مجاہدین آزادی اور ممتاز شخصیتوں سے موسوم شہروں سڑکوں اور اہم مقامات کے نام تبدیل کرنے کی ایک مہم چھیڑ رکھی ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں تقریباً 1500 ایسے شہر ہیں جو صرف مسلم حکمرانوں سے موسوم ہیں اور ہندوتوا فورسس انہیں حملہ آور قرار دیتی ہیں حالانکہ ہندوستان کی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو صرف درواڑین ہی ہندوستان کے حقیقی باشندے ہیں۔ آرین (اعلیٰ ذات کے ہندو بشمول برہمن) دوسرے ملکوں سے ہندوستان میں داخل ہوئے ایسے میں اگر وہ حملہ آور نہیں ہیں تو مسلم حکمران بھی حملہ آور نہیں ہوسکتے۔ بہرحال ہم بات کررہے تھے یادگار محبت تاج محل کی اس کے بارے میںیہ دعویٰ کرنا کہ وہ ایک شیومندر ہے ایک پاگل کی بڑکے سواء کچھ نہیں جو لوگ تاج محل کے شیومندر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں سب سے پہلے اپنے ذہنی توازن کی جانچ کروانی چاہئے۔ اس لئے کہ صرف مذہبی منافرت تعصب اور جانبداری کے باعث تاریخی آثار کی تاریخ بدل دینا جرم ہی نہیں بلکہ اخلاقی گناہ بھی ہے۔ اس طرح کی طاقیتں اصل میں ہندوستان کے دشمنوں کے ایجنڈہ کی بالراست طور پر تکمیل کا باعث بن رہی ہیں۔ تاج محل شاہجہاں کا تعمیر کردہ اعلیٰ نمونہ ہے یہ بات اسی طرح یقینی سے کہی جاسکتی ہے جس طرح رات کو رات اور دن کو دن کہا جاتا ہے تاج محل کے شیومندر یا تیجو محل ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ نوبل لاریٹ رابندرناتھ ٹیگور نے اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر اپنے احساست کا کچھ یوں اظہار کیا تھا، تاج محل دراصل وقت کے رخسار پر آنسو کا ایک قطرہ ہے۔‘‘ برطانوی سیاح ایڈورڈ لیز تاج محل کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ دنیا میں لوگوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک حصہ وہ جس نے تاج محل کا نظارہ کیا ہے اور دوسرا وہ حصہ جس نے تاج محل دیکھا ہی نہیں۔ تاج محل ساری دنیا کے تاریخی آثار میں اپنا ایک منفرد مقام اور پہنچان رکھتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغل شہنشاہ شاہجہاں نے اپنی سب سے چہیتی بیوی ممتاز محل کی یاد میں یہ مقبرہ تعمیر کروایا۔ ممتاز محل 14 ویں بچے کو جنم دیتے ہوئے انتقال کرگئیں تھیں۔ 42 ایکڑ اراضی پر محیط تاج محل کامپلکس میں ایک عظیم الشان مسجد اور مہمان خانہ بھی ہے اگرچہ اس کی تعمیر 1643 میں مکمل ہوچکی تھی اس کے باوجود اس کے بعد دس برسوں تک مسلسل کام چلتا رہا۔ اس طرح تاج محل کا تعمیری کام 1653 میں پائے تکمیل کو پہنچا۔ اس زمانے میں تاج محل کی تعمیر پر 32 ملین روپے (آج کے لحاظ سے 60-70 ارب روپے بنتے ہیں) کے مصارف آئے تھے۔ تاج محل کی تعمیر ممتاز ارکٹکٹس کے ایک گروپ کی نگرانی میں کی گئی اس گروپ کی قیادت استاد احمد لاہوری نے کی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک ایرانی انجینئر عیسیٰ شیزازی نے تاج محل کا نقشہ تیار کیا تھا یہ بھی روایت پائی جاتی ہے کہ شاہ جہاں نے خواب میں تاج محل جیسی عمارت دیکھی اور اس عمارت کے ہوبہو عمارت تعمیر کرنے کی ٹھان لی۔ اس طرح دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک عجوبہ وجود میں آیا۔ تاج محل کی لمبائی اور چوڑائی 130 فٹ اور بلندی (اونچائی) 200 فٹ ہے۔ عمارت کے چاروں جانب ایک ایک مینار ہے جس سے تاج محل کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوا۔ ساری عمارت پر قرآن مجید کی آیات نقش ہیں اور اس کے لئے بہترین استاد خطاطی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ تاج محل کی عمارت کا چبوترا سطح زمین سے 7 میٹر اونچا ہے اور اس کے عقب میں دریائے جمنا بہتی ہے۔ تاج محل دیکھنے سیاح افطاع عالم کے کونے کونے سے آتے ہیں چنانچہ سالانہ 10 ملین سے زائد سیاح تاج محل کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ بہرحال ہندوتوا طاقتوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ مسلم حکمرانوں ہندوستان میں بڑی شان و وقار اور احترام کے ساتھ حکومت کی بلالحاظ مذہب و ملت رعایا کا خیال رکھا۔ ان حکمرانوں کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے سب کو مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔ کسی نے رعایا مذہب اور عقائد میں مداخلت گوارا نہیں کی اس طرح وہ عوام کے دلوں پر راج کرتے رہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT