Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تارہ متی بارہ دری میں جوے بازوں کا زور،تاریخی عمارت پر برائے نام سیکوریٹی

تارہ متی بارہ دری میں جوے بازوں کا زور،تاریخی عمارت پر برائے نام سیکوریٹی

حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( نمائندہ خصوصی ) : قطب شاہی دور کی فن تعمیر کی شاہکار تارہ متی بارہ دری کا نام سنتے ہی تاریخ کے وہ ایام ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں جہاں قطب شاہی دور میں کبھی رقص و سرور کی محفلیں سجا کرتی تھیں اور شہنشاہ وقت میلوں فاصلے سے اس کا نظارہ کیا کرتے تھے ۔ یہ تاریخی جگہ دھیرے دھیرے کھنڈرات کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی کہ چندرا بابو نائیڈو کی حکومت نے سال 2004 میں تارہ متی بارہ دری کی از سر نو تزئین کرتے ہوئے اسے ایک زبردست سیاحتی مقام میں تبدیل کردیا ۔ آج یہاں ملک و بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں اور قطب شاہی دور کی اس تاریخی خوبصورت عمارت کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ آج یہ تاریخی عمارت جوئے بازی کا اڈہ بن کر رہ گئی ہے اور لوگ دن دھاڑے یہاں جوا کھیلتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ اس عمارت کی دیکھ بھال اور اس کے تحفظ کے لیے 52 ارکان کا اسٹاف اور 8 سیکوریٹی گارڈ متعین ہے اس کے باوجود یہاں پر اس قسم کی حرکت مذکورہ اسٹاف اور سیکوریٹی گارڈ کی شدید لاپرواہی اور ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے ۔ واضح رہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے 2004 میں اس مقام کو بڑے پیمانے پر ترقی دی گئی تھی جو سطح زمین سے کافی اونچائی پر واقع ہے ۔ یہ تاریخی عمارت ابراہیم باغ پر واقع ہے جو نارسنگی روڈ پر واقع ہے ۔ مقامی عوام کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر جب ہم نے مقام واقع کا جائزہ لیا اور دیکھا تو ساری باتیں صحیح تھیں ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ دن دھاڑے وہاں جوا کھیلا جارہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اے پی ٹورازم ڈیولپمنٹ کے زیر نگرانی اس عمارت کے ذمہ داران ، عہدیداران آخر ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے ؟ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد اس کے تحفظ کے اقدامات کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT