Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تاریخی اسٹیٹ سنٹرل لائبریری کی عظمت رفتہ بحال کرنے میں حکومت ناکام

تاریخی اسٹیٹ سنٹرل لائبریری کی عظمت رفتہ بحال کرنے میں حکومت ناکام

حیدرآباد۔ 17 جنوری ۔ شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو علم کاگہوارہ کہا جاتا ہے۔ اس شہر کو اپنے دامن میں دنیا کی پہلی اردو یونیورسٹی (عثمانیہ یونیورسٹی) ہندوستان بلکہ ایشیاء کے سب سے بڑے میوزیم (سالارجنگ میوزیم) ہندوستان کی سب سے بڑے اور چنندہ کتب خانوں میں سے ایک (اسٹیٹ سنٹرل لائبریری) ملک کے قدیم ترین میڈیکل کالجوں سے ایک (عثمانیہ میڈیک

حیدرآباد۔ 17 جنوری ۔ شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو علم کاگہوارہ کہا جاتا ہے۔ اس شہر کو اپنے دامن میں دنیا کی پہلی اردو یونیورسٹی (عثمانیہ یونیورسٹی) ہندوستان بلکہ ایشیاء کے سب سے بڑے میوزیم (سالارجنگ میوزیم) ہندوستان کی سب سے بڑے اور چنندہ کتب خانوں میں سے ایک (اسٹیٹ سنٹرل لائبریری) ملک کے قدیم ترین میڈیکل کالجوں سے ایک (عثمانیہ میڈیکل کالج)، عثمانیہ ہاسپٹل، نظامیہ شفاخانہ (یونانی دواخانہ چارمینار) کے قیام کا اعزاز حاصل ہے، لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہیکہ قطب شاہی و آصف جاہی دور میں تعمیر کردہ تاریخی عمارتوں اور قائم کردہ اداروں کی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہیئت ہی بدلی جارہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال 122 سالہ قدیم اسٹیٹ سنٹرل لائبریری (کتب خانہ آصفیہ) ہے جو آہستہ آہستہ مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہورہی ہے۔

اگرچہ ڈائرکٹر آف پبلک لائبریریز نے اس عالیشان عمارت کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے 2.33 کروڑ روپئے لاگتی کام شروع کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا اور ڈسمبر 2011ء تک اس مقصد کیلئے اس نے اس میں سے 1.28 کروڑ روپئے آندھراپردیش ایجوکیشن ویلفیر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (APEWIDC) کو جاری کئے۔ چنانچہ اے پی ای ڈبلیو آئی ڈی سی نے اس ہیرٹیج عمارت کی تزئین نو کا کام ایک گتہ دار وی بابو کے تفویض کیا۔ معاہدہ کے مطابق 4 جولائی 2011ء سے اندرون 9 ماہ کام کو مکمل کیا جانا ضروری تھا لیکن کام شروع ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ گذر چکا ہے اس کے باوجود اب تک صرف 40 فیصد ہی کام ہوا ہے اور اس کام کے بارے میں یہی کہا جارہا ہیکہ معیاری نہیں ہوا ہے۔ قارئین … ہم نے خود دیکھا کہ 72,247 مربع گز اراضی پر تعمیر کردہ کتب خانہ آصفیہ کی حالت دگرگوں ہے۔ کتابوں، جرائد اور مخطوطات کا جائزہ لینے کیلئے کتب خانہ آنے اولے بعض شہریوں کا کہنا ہیکہ اب تک تزئین نو کا جو کام کیا گیا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے معیاری نہیں کیونکہ جو گتہ دار یہ کام کررہا ہے اس کے پاس تاریخی آثار کی مرمت و درستگی اور تزئین نو کے ماہر ورکر ہی نہیں ہیں ویسے بھی تاریخی عمارتوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے تربیت یافتہ اور ماہر کاریگروں سے کام لیا جاتا ہے۔ اس بارے میں ڈائرکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز سے وضاحت طلب کی جانی چاہئے۔ آپ کو بتادیں کہ 1891ء میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے حکم پر نواب عمادالملک نے کتب خانہ آصفیہ تعمیر کروایا تھا اور اس وقت 3 لاکھ روپئے کی تعمیری لاگت آئی تھی۔ 1936ء میں لائبریری کی موجودہ عمارت میں کتابوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال یہ لائبریری موجودہ عمارت میں منتقل ہوئی تھی۔ 1956ء تک یہ لائبریری کتب خانہ آصفیہ کے نام سے مشہوررہی لیکن بعد میں اس کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسٹیٹ سنٹرل لائبریری رکھ دیا گیا۔ نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس غیرمعمولی کتب خانے کی تباہی و بربادی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ اگرچہ اس کتب خانہ میں 5 لاکھ سے زائد کتب جرائد اور مخطوطات موجود ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کتابوں، جرائد اور مخطوطات کو دیمک نے اپنا نوالہ بنا لیا ہے۔

اب تو یہ لائبریری کبوتروں اور حشرات الارض کی آماجگاہ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ راقم الحروف کی تحقیق پر اس بات کا بھی پتہ چلا ہیکہ اسٹیٹ سنٹرل لائبریری میں اردو، عربی اور فارسی کی کم از کم 85 ہزار کتابیں ہیں لیکن ہم نے دیکھا کہ سیلر میں کتابیں انتہائی خستہ حالت میں پڑی ہوئی ہیں اور بوسیدہ کتابوں کے اسی ڈھیر پر دھول کی موٹی سی چادر پڑی ہوئی ہے جو ریاستی حکومت، ڈائرکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز کی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ذرائع سے اس بات کا بھی پتہ چلا ہیکہ لائبریری میں موجود نادر و نایاب کتب و جرائد کو ڈیجٹلائز کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ چنانچہ اب تک 40 ہزار سے زائد کتب اور میگزینوں کو ڈیجٹلائزڈ کیا گیا ہے۔ لائبریری کی رکنیت حاصل کرنے والوں کی تعداد زائد از 32 ہزار بتائی جاتی ہے۔ بہرحال ریاستی حکومت اور ڈائرکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز کو چاہئے کہ وہ تاریخی لائبریری کی عظمت رفتہ بحال کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کرے کیونکہ 1998ء میں انٹاک کی جانب سے ہیرٹیج عمارت قرار دی گئی یہ لائبریری شہریان حیدرآباد کا ایک انمول اثاثہ ہے اور اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

TOPPOPULARRECENT