Wednesday , December 12 2018

تاریخی عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں آوارہ کتوں کی بہتات

سرکاری پالیسیوں اور اقدامات پر سوالیہ نشان ، مریض اور اٹنڈنٹس پریشان حال
حیدرآباد۔/11اپریل، ( سیاست نیوز) شہر کی ترقی و طب میں مثالی خدمات کے سرکاری دعوؤں کی قلعی آوارہ کتوں نے کھول دی ہے۔ شہر کے معروف و تاریخی ورثے کے حامل عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں آوارہ کتوں کی بہتات سرکاری پالیسیوں اور اقدامات پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ شہریوں کو مثالی طبی خدمات فراہم کرنے کے اقدامات اور بلند بانگ دعوے کرنے والی حکومت شاید ان حالات پر اپنے سر کو جھکانے اور محاسبہ کرتے ہوئے سرکاری علاج معالجہ کی بہتر سہولیات عوام تک پہنچانے کے سنجیدہ اقدامات کرے۔ چونکہ اب ان حالات کو دیکھتے ہوئے کسی بھی شہری کو شاید ہمت نہیں ہوگی کہ وہ سرکاری دواخانہ میں علاج کیلئے اپنے آپ کو رجوع کرے۔ ترقی کی منزلوں کو طئے کرتے ہوئے ملک بھر میں منفرد پہچان بنانے والی نئی نویلی اس ریاست تلنگانہ کے سیاسی قائدین کو بالخصوص حکومت کا موجودہ طبی نظام شرمسار کرنے کے مترادف ثابت ہورہا ہے۔ انسانی صحت کیلئے ضروری طبی ضروریات میں ہورہی لاپرواہیاں ان افراد کیلئے بھی لمحہ فکر کا باعث ہونا چاہیئے جو حکومت اور اس کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں۔ تلنگانہ کے مشہور شاعر نے سرکاری دواخانوں کی حالت زار پر بہت خوب لکھا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو میں سرکاری دواخانہ نہیںآؤں گا۔ یہ شہر متحدہ ریاست اور اس وقت کی حالت کے پس منظر اور اس دور میں کہا گیا تھا جو آج بھی اسی انداز سے اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔ جبکہ اب ریاست بھی الگ ہے، حکمراں بھی الگ ہے اور قیادت بھی الگ ہے اور قائد بھی الگ ہیں۔ لیکن حالات میں بالکل سدھار نہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ان دنوں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں آوارہ کتوں کی بہتات اس قدر ہوگئی ہے کہ اب وہ راست طور پر مریضوںکے بستر تک پہنچ گئے ہیں بلکہ بستر کے نیچے اور بازو ان کا ٹھکانہ ہے اور باضابطہ طور پر ہاسپٹل کے وارڈز میں دواخانے کے اسٹاف کی مانند گھوم رہے ہیں۔ مریض کو ہاسپٹل میں ایک پرسکون ، طبی اور آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کیلئے شریک دواخانہ کیا جاتا ہے تاکہ انہیں اس ماحول میں ماہرین کی نگہداشت حاصل ہوسکے اور وہ جلد از جلد صحت یاب ہوسکیں۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے رجوع ہونے والے مریض آؤٹ پیشنٹ کو گندگی اور اِن پیشنٹ کو آلودگی کا خوف ہے۔ اور مریض بجائے شفاء یاب ہونے کے مزید بیماریوں کا شکار ہونے کے خوف سے پریشان ہیں۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل جو 1,168 بستروں پر مشتمل وسیع و عریض رقبہ پر قائم قدیم دواخانہ ہے، ابتر انتظامی اور سرکاری لاپرواہی سے ان دنوں سوشیل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔ ان دنوں سوشیل میڈیا پر ہاسپٹل کی حالت زار، آوارہ کتوں کی بہتات کی ویڈیوز کافی وائرل ہوچکی ہیں اور شہریوں میں برہمی و افسوس کا باعث بنا ہوا ہے جبکہ حالیہ دنوں شہر میں ریاستی وزیر کی جانب سے دورہ اور ترقیاتی پروگرام کا افتتاح ہوا۔ اس دوران بستی دواخانوں کے قیام کا بھی ا علان کیا گیا لیکن عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی حالت اور انتظامی اُمور کو بہتر بنانے کیلئے موثر اور مبسوط اقدامات جنگی خطوط پر انجام دینا چاہیئے تاکہ اس ہاسپٹل پر عوام کا بھروسہ قائم رہ سکے اور ریاستی حکومت کے وعدوں پر یقین ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT