Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کا نام و نشان مٹانے منصوبہ بند سازش

تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کا نام و نشان مٹانے منصوبہ بند سازش

یونیورسٹی حکام کی حالت آنکھ موند کر دودھ پینے والی بلی کی مانند، تحفظ کیلئے طلبہ فکرمند

یونیورسٹی حکام کی حالت آنکھ موند کر دودھ پینے والی بلی کی مانند، تحفظ کیلئے طلبہ فکرمند
حیدرآباد ۔ 16 اگست (نمائندہ خصوصی) تاریخی شہر حیدرآباد میں قدیم و تاریخی عمارتوں، پلوں، تالابوں، آبی ذخائر، تعلیمی اداروں، کمانوں اور دیگر تاریخی مقامات پر سنگ بنیاد کی جو تختیاں نصب کی گئی تھیں، ان کی حفاظت اور دیکھ بھال بہت ضروری ہے کیونکہ قطب شاہی ہوکہ آصف جاہی تمام حکمرانوں نے جو تاریخی عمارتوں کے سنگ بنیاد کی تختیاں نصب کروائی تھیں اس کا بنیادی مقصد آنے والی نسلوں کو ان حکمرانوں، وزراء اور دیگر عہدیداروں کے کارناموں اور صلاحیتوں سے واقف کرانا تھا تاکہ وہ کسی بھی عمارت یا مقام کا تاریخی پس منظر معلوم کرسکے لیکن ناعاقبت اندیش اور تعصب پسند ذہنیت کے حامل عناصر ان تختیوں کا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کہیں بھی مسلم حکمرانوں کی یادگار نظر نہ آئے۔ اردو عربی یا فارسی کے حروف انہیں دکھائی نہ دے یہی وجہ ہیکہ وہ ان عمارتوں یا تعمیرات کے سنگ بنیاد کی تختیوں کو سب سے پہلے نشانہ بنارہے ہیں۔ یہی صورتحال کچھ عرصہ سے حیدرآباد کی پہلی یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ میں دیکھی جارہی ہے جہاں اس یونیورسٹی کی سنگ بنیاد کی تختی کو جو عربی زبان میں خط ثلث میں کندہ کیا ہوا ایک تاریخی ورثہ بھی ہے۔ یہ خوبصورت ترین تحریر ہیں صرف سنگ بنیاد کی تاریخ درج ہے بلکہ حضور میر عثمان علی خان آصف جاہ ہفتم کا نام بھی تفصیلی طور پر درجہ ہے اور ابھی بھی انتہائی خوبصورت اور مضبوط ترین حالت میں موجود ہے مگر اس عظیم الشان عمارت کے آخری حصے میں نیچے ایک گوشہ میں ہے مگر شرپسند عناصر اب اس تاریخی تختی کو بھی مٹا دینے کے درپے ہے۔ دراصل گذشتہ دنوں عثمانیہ یونیورسٹی کے چند طلباء منیجنگ ایڈیٹر سیاست سے رجوع ہوئے اور انہیں مذکورہ صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد روزنامہ سیاست کے نمائندہ خصوصی نے جب عثمانیہ یونیورسٹی کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ مذکورہ مقام پر جہاں مذکورہ سنگ بنیاد کی تختی نصب کی گئی ہے وہاں اب کچرا ڈال کر اسے ڈھانپنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ دھیرے دھیرے اس تختی کا نام و نشان مٹ جائے اور آنے والی نسلوں کو آصف جاہی حکمرانوں کے کارناموں کا پتہ نہ چل سکے۔ اس موقع پر جب ہم نے پروفیسر محمد انصاری صدر شعبہ لسانیات سے بات کی تو انہوں نے کہا طلبہ نے اس مسئلہ پر ہمارے علم میں بھی یہ بات لائی ہے اور یقیناً یہ ایک تشویشناک معاملہ ہے چونکہ یہ ایک تاریخی تختی کے ساتھ ساتھ تاریخی ورثہ بھی ہے لہٰذا اس کی حفاظت کیلئے اس کے اطراف آہنی جالی نصب کی جانی چاہئے یا پھر اور بھی اقدامات جس سے اس تاریخی تختی کا تحفظ ہوسکے کئے جائیں واضح رہیکہ جامعہ عثمانیہ کو 1918 میں آخری نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان نے قائم کیا تھا جس کو حیدرآباد ریاست کی سب سے پہلی یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے اس کی ڈیزائننگ اس وقت کے مشہور اور عظیم آرکیٹکچر محبوب علی خاں نواب سرور جنگ نے انجام دی تھی۔ آج اس یونیورسٹی کا رقبہ جو 1600 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے میں 80 ممالک کے زائد از 3700 طلبہ زیرتعلیم ہیں جبکہ مقامی طلبہ کی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔ اس طرح عثمانیہ یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ اداروں میں 300,000 طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ بہرحال یونیورسٹی کے رجسٹرار اور وائس چانسلر کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ اس تاریخی تختی کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ طلباء اور اولیائے طلباء میں پائی جانے والی بے چینی دور ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT