Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی عمارتوں کے تحفظ میں حکومت کی عدم دلچسپی

تاریخی عمارتوں کے تحفظ میں حکومت کی عدم دلچسپی

سیاسی دکانات اور حقیر مفادات سے آثار قدیمہ کو نقصان پہونچایا جارہا ہے ، عہدیداران خاطر خواہ کارروائی سے قاصر
حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز)  شہر کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے حکومت کی عدم دلچسپی شہر کی تاریخی اہمیت کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے اور شہر کی خوبصورت تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچانے والوں میں نہ صرف تاریخی عمارتوں کی اہمیت سے ناواقف افراد ملوث ہیں بلکہ جو لوگ اپنے اسلاف کی تاریخ کا دم بھرتے ہوئے سیاسی دکان چلا رہے ہیں وہ خود بھی اپنے حقیر مفادات کی خاطر شہر کی تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے مرتکب بنتے جارہے ہیں جن کے سیاسی رسوخات کے سبب متعلقہ محکمۂ جات کے عہدیدار کاروائی سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں موجود کئی تاریخی عمارتوں کو سرکاری ترقیاتی کاموں کے سبب نقصان پہنچ رہا ہے لیکن ان نقصانات پر اختیار کردہ خاموشی کے سبب خانگی افراد کے حوصلوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ بھی تاریخی عمارتوں کے قوانین کو پامال کرتے ہوئے شہر کی خوبصورتی کو متاثر کرنے لگے ہیں۔ محکمۂ آثار قدیمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں موجود اہم ترین تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق متعدد رپورٹس حکومت کو روانہ کی جا چکی ہیں لیکن ان رپورٹس پر کسی قسم کی کاروائی نہ ہونے کے سبب صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔ علاوہ ازیں خود سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے انجام دیئے جانے والے ترقیاتی کاموں میں ان قوانین کا لحاظ نہ رکھے جانے کے سبب خانگی بلڈرس بھی ان قوانین کی بر سر عام خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے جا رہے ہیں۔ شہر کے نواحی علاقہ شیورام پلی کے قریب واقع ایک قدیم تاریخی باؤلی کے شکم میں مٹی ڈال کر بن کرنے کی کوشش کی جارہی تو کہیں قلب شہر میں واقع انتہائی اہمیت کی حامل تاریخی عمارت پتھر گٹی و گلزار حوض کے قریب آثار قدیمہ کے تحفظ سے متعلق قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ اسی طرح شہر کے مصروف ترین علاقہ میں موجودتاریخی عمارت معظم جاہی مارکٹ کی زبوں حالی سب پر عیاں ہے۔ اس وسیع و عریض مارکٹ کی کمان پر چند برس پہلے تک بھی اردو زبان میں معظم جاہی مارکٹ تحریر تھا اور مارکٹ پر موجود گھڑیال قریب دو برس سے بند پڑی ہیں اور کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہے۔ اس عمارت کو سیاسی کارکن اپنی تشہیر کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں اور ہر وقت اس عمارت پر سیاسی بیانرس نصب ہوتے ہیں۔ شہر کی تاریخی عمارتوں کو بچانا ہر شہری اپنی ذمہ داری تصور کرے کیونکہ شہر حیدرآباد کی تاریخی اہمیت اور اس شہر کی تاریخی عمارتیں ہی اس شہر حیدرآباد کا تہذیبی ورثہ ہے جس کی عالمگیر شہرت سیاحوں کو اس شہر کی سمت راغب کرتی ہے۔ اسی طرح شہر کے تاریخی و سیاحتی مقامات کے قریب صفائی کا خاص اہتمام کیا جانا بھی ضروری ہے کیونکہ سیاحوں کیلئے تاریخی مقامات سفیر تصور کئے جاتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT