Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی عمارتیں تہذیبی ورثہ، تحفظ میں ایچ ایم ڈی اور محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی

تاریخی عمارتیں تہذیبی ورثہ، تحفظ میں ایچ ایم ڈی اور محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی

استنبول کی طرز پر شہر کی ترقی کیلئے حکومت کا عزم، وعدوں پر عمل آوری میں ناکام
حیدرآباد۔20اگسٹ (سیاست نیوز) شہر کی تاریخی عمارتوں کے متعلق حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے اختیار کردہ لاپرواہی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان اداروں کے پاس شہر کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی تاریخی ورثہ کی اہمیت ان کے پاس باقی رہی ہے۔ شہر حیدرآباد کی تاریخی اہمیت اس شہر کی تہذیب و تاریخی عمارتوں سے ہی ہے اور ان تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے ذریعہ ہی شہر حیدرآباد کی اہمیت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شہر حیدرآباد کو استنبول کے طرز پر فروغ دینے کا اعلان کیا تھا ان کے پیش نظر شہر حیدرآباد کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کا نظریہ شہر کی تاریخی عمارتوں کی ترقی کے ذریعہ ہی اجاگر ہوا تھا لیکن ریاست میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد سے اب تک بھی شہر کی کسی بھی تاریخی عمارت کی تزئین نو و آہک پاشی کے کاموں کا آغاز نہیں کیا گیا بلکہ شہر میں تباہ ہوتی جا رہی تاریخی عمارتوں کی جانب متعلقہ محکمہ جات کی عدم توجہی ان تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچانے والوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بننے لگی ہیں۔ تاریخی عمارتوں کے ذریعہ شہر کی شناخت کو ممکن بنانے کے اعلانات کے باوجود شہر کی تاریخی عمارتوں کے متعلق محکمہ جات کی لاپرواہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے نظریات کو عہدیدار عملی جامہ پہنانے کے بجائے ان نظریات کو برفدان کی نذر کرتے ہوئے اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ شہر کے مرکزی علاقہ معظم جاہی مارکٹ چوراہے پر موجود تاریخی مارکٹ ’ معظم جاہی‘ کی عمارت کی خستہ حالی کے باوجود اس عمارت کی جانب بلدی عہدیدار متوجہ نہیں ہو رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ اس انتہائی اہم عمارت کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جا سکیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہری ترقیات سے متعلق اداروں کی فہرست میں شامل تاریخی و تہذیبی ورثہ کے تحفظ کیلئے جب تک متعلقہ ادارہ ان سے رجوع نہیں ہوتا اس وقت تک وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ معظم جاہی مارکٹ کی خوبصورت عمارت پر موجود گھڑیال گذشتہ تین برسوں کے دوران تبدیل نہیں کی گئی بلکہ اس عمارت کے اوپری حصہ میں موجود گھڑی کی جگہ اب بڑے سوراخ نظر آنے لگے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں معظم جاہی مارکٹ کی پتھر سے بنی ہوئی عمارت پر جو پودے اگنے لگے تھے اب وہ درخت کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے زیر انتظام اس عمارت کے تحفظ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ حکومت کی جانب سے تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور شہر کو خوبصورت اور سیاحوں کے لئے مرکز توجہ بنانے کے اقدامات کے حوالے دیئے جا تے ہیں لیکن عملی طور پر محکمہ جات کی کاروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے جو کہ شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔

TOPPOPULARRECENT