Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی مسجد عالمگیر اور اراضی کے تحفظ میں وقف بورڈ کو کامیابی

تاریخی مسجد عالمگیر اور اراضی کے تحفظ میں وقف بورڈ کو کامیابی

پولیس کے تعاون سے حصاربندی ، 8 لاکھ روپیوں کی منظوری، الحاج محمد سلیم

حیدرآباد۔ /14اکٹوبر، ( سیاست  نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے خانم میٹ ہائی ٹیکس کے قریب موجود تاریخی مسجد عالمگیر اور اس کی اراضی کا تحفظ کیا ہے۔ اس قیمتی اراضی پر غیر مجاز قابضین کی نظریں تھیں اور قدیم تاریخی مسجد عالمگیر کو غیر آباد کرتے ہوئے قبضہ کی کوشش کی جارہی تھی۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے مسجد اور اراضی کا معائنہ کرتے ہوئے اس کے تحفظ کیلئے فنڈز کو منظوری دی۔ انہوں نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ربط قائم کرتے ہوئے اراضی کی حصار بندی کے سلسلہ میں تعاون کی خواہش کی۔ پہلے مرحلہ میں حصار بندی کیلئے 8 لاکھ روپئے منظور کئے گئے اور پولیس کی نگرانی میں حصار بندی کا کام آج صبح شروع کیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی کی راست نگرانی میں جیسے ہی حصار بندی کا کام شروع ہوا مقامی افراد نے احتجاج کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نیم کے ایک درخت سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہوئے حصار بندی کو روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کی مداخلت کے ذریعہ مقامی افراد کو منتشر کیا گیا اور مذکورہ درخت کو چھوڑ کر حصار بندی کا کام شروع ہوا اور شام تک بڑے حصے کی حصار بندی کا کام اور ٹین شیڈ ڈالنے کا کام جاری رہا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے صدرنشین وقف بورڈ کو کامیابی کے ساتھ حصار بندی کے آغاز کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کل بھی یہ کام جاری رہے گا اور حصار بندی کے علاوہ ٹین شیڈ بھی مکمل کرلیا جائے گا۔ ایک ایکر 15 گنٹے قیمتی اراضی کی مالیت تقریباً 50 کروڑ سے زائد ہے اور اس قدر قیمتی اراضی کا تحفظ وقف بورڈ کیلئے کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ اس علاقے میں فی گز اراضی کی قیمت ایک لاکھ روپئے سے زائد ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ حصاربندی کے کام کی تکمیل کے بعد مسجد کی تعمیر و مرمت اور تزئین نو کا کام شروع کیا جائے گا۔ مقامی مسلمانوں نے وقف بورڈ کے اس اقدام کی ستائش کی اور غیرآباد مسجد کو آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اطراف واکناف کے علاقوں میں مسلمانوں کی خاطر خواہ آبادی موجود ہے جس سے مسجد کا باآسانی تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ اسی دوران مسجد کی اراضی سے متصل جس اراضی پر ایک خاتون آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے تعمیرات جاری ہیں اس علاقے کو ریونیو اور وقف کے مشترکہ سروے میں غیر اوقافی قرار دیا گیا ہے لہذا وقف بورڈ نے اس اراضی پر اپنی دعویداری واپس لے لی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے اراضی کے تحفظ کیلئے 8-8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے ساتھ4 سیکورٹی گارڈز کو تعینات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو ہدایت دی کہ وہ شہر کے دیگر اوقافی اداروں کی ترقی کے منصوبہ کو جلد قطعیت دیں۔محمد سلیم نے حصاربندی کے کام میں رکاوٹ پر کمشنر پولیس سندیپ شنڈلیا اور ڈپٹی کمشنر سے ربط قائم کرتے ہوئے زائد پولیس فورس کو روانہ کرنے کی خواہش کی۔ گزشتہ 50 برسوں میں اس تاریخی مسجد کے تحفظ اور اراضی کی حصاربندی میں وقف بورڈ کو کامیابی نہیں ملی تھی تاہم محمد سلیم نے شخصی دلچسپی لیتے ہوئے اسے انجام دیا۔ آج رات دیر گئے تک شیڈ کی تعمیر کا کام جاری رہا اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے ساتھ وقف بورڈ کا عملہ صبح  سے ہی مقام پر موجود ہے اور یہ لوگ اتوار کی صبح کام کی تکمیل تک موجود رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT