Wednesday , December 12 2018

تاریخی معظم جاہی مارکٹ سے حکام کی غفلت کیوں ؟

حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو ہندوستان بھر میں اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ اس شہر میں فن تعمیر کی شاہکار ایسی درجنوں عمارتیں ہیں جنہیں بلا شبہ ہندوستان کی آن ، اس کی شان اور وقار کی علامتیں کہا جاسکتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تاریخی عمارتوں یا تاریخی آثار کو متعصب ذہن حکام اپنے تعصب کا شکار بنائے ہوئے ہیں کیوں کہ انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ مسجدوں و میناروں کے اس شہر اور اطراف و اکناف میں تقریبا 150 جو تاریخی آثار بلکہ فن تعمیر کی شاہکار عمارتیں ہیں وہ مسلم حکمرانوں کی تعمیر کردہ ہیں ۔ ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کے بارے میں تاریخی آثار کے تحفظ میں مصروف جہد کاروں سے لے کر عام آدمی میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے باعث جہاں کئی تاریخی آثار کا وجود خطرہ میں پڑ گیا ہے وہیں کچھ تاریخی آثار کے نام و نشان مٹ گئے ہیں اور ان پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرلی گئی ہیں یا پھر ان پر جھونپڑ پٹیاں ڈالدی گئی ہیں ۔ معظم جاہی مارکٹ قلب شہر میں واقع ہے مکمل طور پر گرینائٹ سے تعمیر کردہ معظم جاہی مارکٹ کی تعمیر اور حسن و نزاکت کو دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ معظم جاہی مارکٹ کی چھت کے بعض حصوں اور ٹاورس پر درخت اُگ آئے ہیں ۔ اس پر ریاستی محکمہ آثار قدیمہ یا پھر سرکاری حکام کوئی توجہ نہیں دیتے ، حالانکہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے دور حکمرانی میں تعمیر کرائی گئی معظم جاہی مارکٹ کبھی اسلحہ و گولہ بارود ، خشک و تازہ میوہ جات کے لیے شہرت رکھتی تھی آج بھی اس مارکٹ میں خشک و تازہ میوے جات دستیاب ہیں ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسے کسی کی نظر لگ گئی ہے ۔ اگر درخت اُگنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے تو پھر آنے والے دنوں میں یہ درخت اس تاریخی عمارت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے 1935 میں اس مارکٹ کو تعمیر کرواکر اسے اپنے دوسرے فرزند شہزادہ معظم جاہ بہادر سے موسوم کیا ۔ گرینائٹ سے تعمیر کردہ یہ عمارت محکمہ آثار قدیمہ اور سرکاری حکام کی جانب سے نظر انداز کئے جانے اور غفلت کا شکار بنائے جانے کے باوجود ’ اینٹ کا جواب پتھر سے ‘ کے مصداق اب بھی پوری آن بان و شان سے اپنی عظمت کا احساس دلا رہی ہے ۔ راقم الحروف نے بارہا دیکھا ہے کہ بیرونی سیاح جب بھی معظم جاہی مارکٹ سے گذرتے ہیں تو وہ اپنی گاڑیوں میں سے اتر کر اس خوبصورت عمارت کو مختلف زاویوں سے اپنے کیمروں میں قید کرلیتے ہیں ۔ حکام کی مجرمانہ غفلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی گھڑیال اکثر وقت سے پیچھے چلتی ہے ۔ دو سال قبل شہر کے کنزرویشن آرکیٹکٹس نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ اس تاریخی مارکٹ کے بعض حصہ شکستہ ہوگئے ہیں ۔ ایسے میں اس کے 10 تا 15 فیصد حصہ کی مرمت و درستگی ضروری ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخی آثار کے تحفظ میں مصروف جہدکار اور تنظیمیں نہ صرف معظم جاہی مارکٹ بلکہ شہر کی دیگر تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے خصوصی مہم شروع کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT