Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تاریخی مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے تمام ملزمین بری

تاریخی مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے تمام ملزمین بری

این آئی اے کی خصوصی عدالت کا فیصلہ ‘ ملزمین کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں استغاثہ ناکام

حیدرآباد 16 اپریل (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد میں 18 مئی 2007 ء کو ہوئے بم دھماکے کیس کے تمام ملزمین کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے آج بری کردیا۔ استغاثہ ملزمین کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہونے کے سبب عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے 100 صفحات پر مشتمل اپنا فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے پیش نظر نامپلی کریمنل کورٹ کے احاطہ اور اطراف و اکناف علاقوں کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا اور اہم راستوں کو عوام کے لئے بند کردیا گیا تھا۔پولیس نے میڈیا نمائندوں کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا جس کے نتیجہ میں رپورٹرس نے عدالت کے باب الداخلہ پر احتجاج کیا۔ آج صبح کیس کے ملزمین کو سخت سکیورٹی کے درمیان عدالت میں لایا گیا تھا اور دوپہر ٹھیک 12 بجے عدالت نے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کیس میں گرفتار تمام 5 ملزمین دیویندر گپتا، لوکیش شرما، سوامی اسیمانند، بھرت موہن لال راتیشور عرف بھرت بھائی، راجندر چودھری کو بے قصور قرار دیتے ہوئے اُنھیں کیس سے بری کردیا۔ چوتھے ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج و این آئی اے عدالت کے خصوصی جج نے فیصلے کی اُردو میں مختصر روئیداد سنائی اور کہاکہ استغاثہ ملزمین کے خلاف ایک بھی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ 2011 ء میں نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے اِس کیس کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) سے حاصل کرلی تھی اور اِس کیس میں جملہ 226 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے تھے جس میں 67 اہم گواہ منحرف ہوگئے تھے۔ سماعت کے دوران استغاثہ نے 411 دستاویزات بطور شواہد عدالت میں پیش کئے تھے۔ استغاثہ نے چارج شیٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے دوران غیر کارکرد بم (آئی ای ڈی) جسے مکہ مسجد کی جالی سے برآمد کیا گیا تھا، سے نوکیا موبائیل فون اور اُس میں موجود سِم کارڈ برآمد ہوا تھا جس کی بنیاد پر تحقیقاتی ایجنسی نے ملزمین کی نشاندہی کرتے ہوئے اُن کی گرفتاری عمل میں لائی تھی لیکن سِم کارڈ فروخت کرنے والے گواہ و موبائیل فون دوکان کے مالک ایشانت چاؤلہ اپنے بیان سے منحرف ہوگیا۔ اتنا ہی نہیں سوامی اسیمانند نے پنچ کولہ ایک عدالت میں اپنا رضاکارانہ اقبالیہ بیان عدالت کے روبرو قلمبند کروایا تھا جس میں اُس نے بم دھماکوں میں ملوث ہونے اور اِس کارستانی میں آر ایس ایس کارکن کی سازش ہونے کا اعتراف کا تھا لیکن بعدازاں سوامی اسیمانند اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں استغاثہ کو دھکا لگا تھا۔ مکہ مسجد بم دھماکہ کے بعد حیدرآباد پولیس نے بنگلہ دیشی دہشت گرد تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کا رول ہونے کا دعویٰ کیا اور شبہ کی بنیاد پر 100 سے زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے اُنھیں فرضی مقدمات میں ماخوذ کیا اور ملزمین کو دھماکہ کیس میں گرفتار کرنے سی بی آئی حکام پر دباؤ ڈالا تھا لیکن تحقیقاتی ایجنسی نے ہندو دہشت گرد زاویہ سے تحقیقات کرکے آر ایس ایس کے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا اور آر ایس ایس کارکنوں کی گرفتاری عمل میں لائی تھی۔ اس کیس کے اہم ملزم اور سازشی سنیل جوشی کو اُس کے ساتھی آر ایس ایس کارکنوں نے قتل کردیا تھا اور این آئی اے نے اِس کا نام ملزمین کی فہرست سے حذف کردیا تھا۔ دھماکہ کیس کے دیگر ملزمین رامچندر کالسانگرا اور سندیپ ڈانگے ہنوز مفرور ہیں اور اُن کے سر پر 10 لاکھ روپئے فی کس کا انعام ہے اور انٹرپول نے ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ مکہ مسجد دھماکے کیس کے ملزم لوکیش شرما اور دیویندر گپتا کو اجمیر کی این آئی اے کی خصوصی عدالت نے درگاہ اجمیر شریف کے بم دھماکے میں قصوروار پائے جانے پر سزا سنائی تھی ۔ اُنھیںڈسٹرکٹ جیل میں محروس رکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT