Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تاریخی مکہ مسجد میں امامت ، حافظ وقاری محمد رضوان قریشی کے لیے اعزاز

تاریخی مکہ مسجد میں امامت ، حافظ وقاری محمد رضوان قریشی کے لیے اعزاز

حیدرآباد ۔ 14 ۔ اگست : ( ابوایمل ) : حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد اپنی تاریخی ، ثقافتی مذہبی اور فن تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں اس قدر مشہور و معروف ہے کہ اسے د یکھنے اس کا جائزہ لینے دنیا بھر سے لوگ شہر حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں ۔ اس قدر اہمیت کے حامل اور مذہبی تقدس رکھنے والے مقام سے وابستہ ہونا یقینا باعث رحمت ، وجہ افتخار اور حد درجہ سعادت مندی کی علامت ہے ۔ آج ہم نے ایک ایسی ہی شخصیت سے انٹرویو لینے کا شرف حاصل کیا ہے جو اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں ہی وہ سعادت وہ مرتبہ اور وہ مقبولیت حاصل کرلی ہے جس کے حصول کے لیے لوگ اپنی عمریں گذار دیتے ہیں ۔ ہم بات کررہے ہیں عالم دین حافظ محمد رضوان قریشی ولد حافظ محمد علی قریشی کی جنہوں نے محض 33 سال کی عمر میں کئی ایک دینی اور دنیوی سنگ میل عبور کرلیا ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ اپنی تعلیم کی ابتداء تو انہوں نے انگلش میڈیم سے کی تھی اور تھرڈ کلاس تک انگلش میڈیم میں پڑھائی بھی کی مگر والدین کی تمنا تھی ہمارا بچہ دینی تعلیم حاصل کرے اور ایک عالم دین بنے ، لہذا 1987 میں 6 سال کی عمر میں ان کا داخلہ جامعہ نظامیہ میں کرادیا جہاں دو سال ناظرہ کی تعلیم حاصل کی بعد ازاں مدرسہ عربیہ تحفیظ القرآن میں داخلہ لیا جہاں 1992 میں انہوں نے محض 11 سال کی عمر میں حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرلی ۔ پھر دو سال جامعہ نظامیہ میں اردو دینیات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مدرسہ نعمانیہ کے شعبہ عربی میں داخلہ لیا اور عالم کورس کرنا شروع کیا جس کے بعد ایک بار پھر 1995 میں جامعہ نظامیہ کے شعبہ مولوی میں داخلہ حاصل کیا ۔ جہاں مسلسل 8 سال تعلیم حاصل کرتے ہوئے 2002 میں کامل الفقہ مکمل کی ۔ ساتھ ہی اسی دوران لطیفیہ ایوننگ کالج سے انہوں نے بی اے بھی مکمل کرلی ۔ جس سے انہیں نوریہ ڈگری کالج میں داخلہ مل گیا جہاں سے انہوں نے عربی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ حافظ رضوان قریشی جو کہ خطیب مکہ مسجد عبداللہ قریشی الازہری کے بھتیجے ہوتے ہیں ، نے بتایا کہ سال 2003 میں میناریٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ نے ان کا تقرر مکہ مسجد کے لیے کیا جہاں انہیں نماز فجر اور نماز ظہر پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اسی دوران ان کے تایا مولانا عبداللہ قریشی الازہری کی علالت کی وجہ سے 2009 سے 2012 تک مکہ مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کی زائد ذمہ داری بھی انہوں نے سنبھالی ، بعد ازاں صحت یابی کے بعد مولانا عبداللہ قریشی نے کچھ عرصہ کے لیے جمعہ کی امامت فرمائی ۔ مگر ان کی ضعیفی انہیں مزید اس کی اجازت نہیں دے رہی تھی لہذا پھر سے انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھانا شروع کیا جو تاحال جاری ہے ۔ حافظ صاحب نے بتایا کہ سال 2012 سے ہی انہیں عیدگاہ میر عالم میں بھی نماز عید کی امامت کا شرف حاصل ہورہا ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید نماز عید ادا کرتے آئے ہیں ۔ دوران گفتگو اس وقت حیرت ہوئی جب حافظ صاحب نے بتایا کہ تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور وہ اس وقت Ph.D کررہے ہیں ۔ بقول ان کے وہ اس وقت ’ علماء نظامیہ کے خدمات تصوف ‘ کے موضوع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد سیف اللہ کے زیر نگرانی یہ مقالہ تحریر کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ نظامیہ کی ایک شاخ باب العلم انوار محمدی میں استاذ حدیث و فقہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ محترم موصوف نے مزید بتایا کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں اپنے والدین اور تایا مولانا عبداللہ قریشی الازہری کی سرپرستی کی وجہ سے ہیں ۔ قرات کلام پاک انہوں نے اپنے تایا سے سیکھی ہے اور الحمدﷲ وہ مصری ، مکی ، شامی ، حجازی ، موصلی ، رسد جیسے مشہور لحن کے ماہر ہیں ۔ اور انہوں نے کیرالا ، بنگلور ، ممبئی ، مدراس ، دہلی اور آندھرا پردیش کے اضلاع میں منعقد ہوئے قرات کے مقابلوں میں حصہ لینے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT