Tuesday , November 13 2018
Home / Top Stories / تاریخی مکہ مسجد کی چھت کو خطرہ میںاضافہ

تاریخی مکہ مسجد کی چھت کو خطرہ میںاضافہ

آرکیالوجیکل سروے کی لاپرواہی،6 ماہ سے کام میں کوئی پیشرفت نہیں،ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی برہمی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کے چھت کی تعمیر و مرمت کا کام آخر کب مکمل ہوگا؟ حکومت نے 6 ماہ قبل آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو اس تاریخی مسجد کے تحفظ کی ذمہ داری دی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کے حکام عمارت کے تحفظ کے بجائے اسے مزید زبوں حالی کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ چھت کی تعمیر و مرمت کا کام انتہائی سست رفتاری کے ساتھ جاری ہے اور کنٹراکٹر نے ایک مرحلہ پر رقم کی عدم وصولی کے سبب کام روک دیا تھا۔ آرکیالوجیکل سروے کی لاپرواہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسجد کے تحفظ اور تزئین نو کے کام کو منقسم کرتے ہوئے ایک سے زائد کنٹراکٹرس کو ٹنڈر الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو کام میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر ، حکومت کے مشیر ، صدرنشین وقف بورڈ اور سکریٹری اقلیتی بہبود نے ایک سے زائد مرتبہ مسجد کا دورہ کرتے ہوئے تعمیری کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت دی لیکن اس ہدایت کا اثر الٹا ہوا ہے۔ چھت کی مرمت کا کام جس کنٹراکٹر کے حوالے کیا گیا ، اس کے اختلافات آرکیالوجیکل حکام کے ساتھ رقم کی ادائیگی کے مسئلہ پر شدت اختیار کرچکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک تک چھت کی مرمت کا کام ناممکن ہے بلکہ اگر کام کی رفتار اسی طرح رہی تو مزید دو سال تک یہ کام جاری رہے گا۔ آرکیالوجیکل سروے نے ایک کام کو منقسم کرتے ہوئے ایک سے زائد کنٹراکٹرس کو شامل کرنے کا جو فیصلہ کیا ، وہ ناقابل فہم ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مخصوص کنٹراکٹرس کو فائدہ پہنچانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ۔ حکومت نے مکہ مسجد کے کاموں کے لئے 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے کی منظوری دی ہے ، جس میں سے دو کر وڑ روپئے وقف بورڈ نے آرکیالوجیکل سروے کو جاری کردیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کنٹراکٹرس سرینواس سولکی کے مطابق اس نے اب تک 80 لاکھ روپئے خرچ کردیئے ۔ جبکہ انہیں صرف 35 لاکھ روپئے ادا کئے گئے۔ حالیہ عرصہ میں منزدوروں نے عدم ادائیگی پر تین دن کیلئے کام بند کردیا تھا۔ اس طرح مکہ مسجد کے تعمیری اور مر متی کاموں کے سلسلے میں آرکیالوجیکل سروے کی لاپرواہی تشویش کا باعث ہے۔ اب جبکہ رمضان المبارک کو ایک ماہ باقی ہے ، ایسے میں چھت کا کام ادھورا ہونے سے مصلیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔ بارش کے آغاز کی صورت میں چھت کو مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔ ان تمام نقائص اور باریکیوں پر حکومت کے عہدیداروں کی کوئی نظر نہیں۔ صرف تشہیر کے خاطر مسجد کا دورہ کرتے ہوئے کام پر اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ اسی دوران ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواس قاسم نے ڈپٹی ڈائرکٹر آرکیالوجیکل سروے ، کنٹراکٹر اور کنسلٹنٹ کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کاموں کی سست رفتاری پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو کنٹراکٹر کو بلیک لسٹ کردیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت رقم منظور کرچکی ہے پھر خرچ کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کے عہدیدار اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر ہے۔ محکمہ نے 20 اگست 2017 ء کو مسجد کے کاموں کی نگرانی کیلئے ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائرکٹر محمد رحیم شاہ علی کو ماہانہ اعزازیہ کی بنیاد پر مقرر کیا لیکن ابھی تک انہوں نے اپنی ذمہ داری کا جائزہ حاصل نہیں کیا ۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ آرکیالوجیکل سروے کو مکہ مسجد کے تحفظ سے کتنی دلچسپی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے کام کی پیشرفت کے سلسلہ میں سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد سے رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مکہ مسجد کی چھت اور عمارت کا کام ایک کنٹراکٹر کو دیا گیا جبکہ مسجد کے احاطہ میں موجود دیگر عمارتوں جیسے شاہی مدرسہ حفاظ ، شاہی مقبرہ ، سلاطین آصفیہ ، آثار مبارک ، سپرنٹنڈنٹ آفس ، مسجد کی مین گیٹ اور کمان کے کام کیلئے نیا ٹنڈر طلب کیا جائے گا ۔ ایسی صورت میں دو کنٹراکٹرس کو ایک ہی مقام پر مشنری اور مٹیریل رکھنے میں دشواری ہوگی۔ مسجد میں اس قدر وسیع جگہ نہیں جہاں مشنری اور مٹیریل رکھا جائے۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری توجہ مرکوز کرتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے اور کنٹراکٹر کو پابند کریں تاکہ مقررہ مدت میں کام کی تکمیل ہو۔ بصورت دیگر کام کی تاخیر سے عمارت کو مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT