Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / تاریخی مکہ مسجد کے پنچ محلہ قدیم گیٹ کو بالآخر کھول دیا گیا

تاریخی مکہ مسجد کے پنچ محلہ قدیم گیٹ کو بالآخر کھول دیا گیا

سکریٹری اقلیتی بہبود کی نگرانی میں دیوار منہدم، جمعہ کے مصلیوں اور تعمیراتی اشیاء کی منتقلی کی اجازت

حیدرآباد۔/9ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کے پنچ محلہ کی جانب واقع قدیم گیٹ کو آخر کار آج کھول دیا گیا۔ 2002 تک یہ راستہ نمازیوں کیلئے استعمال کیا جاتا تھا تاہم پولیس نے بعض سیکورٹی وجوہات کے سبب اسے بند کردیا اور باقاعدہ دیوار تعمیر کردی گئی تھی۔ مکہ مسجد کی چھت کی تعمیر اور تزئین نو کے سلسلہ میں تعمیری میٹریل کی منتقلی کے سلسلہ میں اس راستہ کو استعمال کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم ایک شخص نے گیٹ کے سامنے کی اراضی پر اپنی ملکیت کی دعویداری پیش کردی ہے۔ اس تنازعہ کے سبب اس راستہ کو کھولنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے آخر کار آج اپنی نگرانی میں دیوار کو منہدم کروایا اور گیٹ کی تنصیب کا کام شروع کردیا گیا۔ گیٹ نصب کئے جانے کے بعد نہ صرف کنسٹرکشن میٹریل اس راستہ سے منتقل ہوگا بلکہ جمعہ کے دن مصلی بھی اس گیٹ کا استعمال کرپائیںگے۔ بتایا جاتا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈپٹی ڈائرکٹر اور کنٹراکٹر کی موجودگی میں دیوار کو منہدم کرتے ہوئے راستہ کھول دیا گیا۔ اس سلسلہ میں حالیہ عرصہ میں کافی کوششیں کی گئیں اور حکومت کے مشیر اے کے خاں نے بھی اس علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے دیوار کے انہدام کو ناگزیر قرار دیا تھا۔ چھت کی تعمیر اور تزئین نو کے سلسلہ میں کنسٹرکشن میٹریل گاڑیوں کے ذریعہ منتقل کیا جانا ہے اور اس راستہ کے علاوہ کوئی اور متبادل راستہ نہیں جہاں سے گاڑیاں گزر سکیں۔ چھت پر موجود ڈانبر اور گچی کی پرت کو نکالنے کے بعد بتایا جاتاہے کہ تقریباً 50لاری چھت کا ملبہ نکل سکتا ہے اس کے علاوہ خصوصی گچی کی تیاری کیلئے درکار میٹریل کی منتقلی اسی راستہ سے ممکن ہوپائے گی۔ اس راستہ کی کشادگی سے مسجد میں نماز کے اوقات میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہوگی۔ خاص طور پر جمعہ کے موقع پر مصلی پہلے سے مقررہ راستوں کا استعمال کرپائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص نے قدیم گیٹ کے روبرو واقع اراضی پر اپنی ملکیت کی دعویداری پیش کردی اور یہ معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 400 سالہ قدیم اس مسجد کی گیٹ کے روبرو کس طرح کسی کی ملکیت ہوسکتی ہے۔ گیٹ کے سامنے کا حصہ مسجد کی ملکیت میں شمار ہوگا۔ 2002 میں گنیش جلوس کے موقع پر مسجد سے مصلیوں کو جانے کیلئے اس گیٹ کو کھولا گیا تھا بعد میں پولیس نے گیٹ بند کرتے ہوئے باقاعدہ دیوار تعمیر کردی تھی۔ اس دیوار کا فائدہ اٹھاکر بعض افراد اراضی پر اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کہا کہ راستہ کی کشادگی سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم کو تعمیری کاموں میں سہولت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چھت کی مرمت کے سلسلہ میں عارضی شیڈ تعمیر کیا گیا ہے تاکہ بارش کی صورت میں چھت کا کام متاثر نہ ہونے پائے۔ شیڈ کے نیچے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین اپنا کام جاری رکھیں گے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے انجینئرس اور ورکرس کی رہائش کی جگہ بھی الاٹ کی گئی ہے۔ تعمیری کام جمعہ کے دن بند رہے گا اور اس کے بجائے اتوار کو کام جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین کام کی نگرانی کررہے ہیں۔ حکومت نے اس پراجکٹ کیلئے 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے منظور کئے ہیں اور پہلے مرحلے کا کام ایک سال میں مکمل کردیا جائے گا۔ مسجد کی چھت کی تعمیر اور تزئین نو کا طویل عرصہ سے مطالبہ کیا جارہا تھا اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی تھی۔ آج پنچ محلہ کی سمت کا راستہ کھولنے میں مقامی افراد نے بھی تعاون کیا کیونکہ اس راستہ سے آمدورفت کی صورت میں تعمیری کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور نہ ہی مصلیوں کو نماز میں خلل ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT