Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تاریخی ورثہ کی حفاظت تلنگانہ میں اقتدار پر آنے والے کی ذمہ داری

تاریخی ورثہ کی حفاظت تلنگانہ میں اقتدار پر آنے والے کی ذمہ داری

پسماندہ طبقات کے ساتھ نا انصافی کا خاتمہ ضروری : شریمتی جسوین جیرت

پسماندہ طبقات کے ساتھ نا انصافی کا خاتمہ ضروری : شریمتی جسوین جیرت

حیدرآباد۔20مارچ(سیاست نیوز) نئی ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار آنے والی سیاسی جماعت پسماندگی کاشکار طبقات کے مسائل کو حل کرنے میں اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو تلنگانہ کی عوام بالخصوص مسلم اقلیت‘ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی طبقات کے ساتھ انصاف کی امیدکی جاسکتی ہے۔ سماجی جہدکار وچیرمین رضاکارانہ تنظیم سول شریمتی جسوین جیرت نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہاکہ تحفظات کے نام پر پسماندگی کا شکار طبقات کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے سلسلے کو اب ختم کردینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ تحفظات اور مراعات کے نام پر پسماندگی کاشکار طبقات بالخصوص مسلمانوں کے جذبات سے ہر وقت کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے جو مسلم سماج کے اندر احسا س کمتری پید ا کرنے کی وجہہ بن رہا ہے ۔شریمتی جسوین جیرات نے کہاکہ سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے پسماندہ طبقات کی حالت زار میں تبدیلی کے علاوہ تلنگانہ کی قدیم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا احیاء بھی ضروری ہے جو تلنگانہ کا حقیقی ورثہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آصف جاہی اور قطب شاہی چارسوسالہ قدیم تاریخ میں ایک بھی فرقہ وارنہ تشدد کا واقعہ تلنگانہ تاریخ میں پیش نہیں آیا تھا مگرمتحدہ ریاست آندھرا پردیش قائم ہونے کے بعد اقتدار حاصل کرنے اور علاقہ تلنگانہ کے وسائل پر قبضہ کے لئے مفاد پرست قائدین نے علاقہ تلنگانہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی ‘ بھائی چارے کو متاثر کرنے کاکام کیا ہے ۔ انہوں نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش قائم ہونے کے بعد تلنگانہ کے اوقافی املاک اور تہذیبی ورثہ کو بھی تباہ کرنے کا آندھرا ئی سرمایہ داروں اور مفاد پرست قائدین پر الزام عائدکرتے ہوئے کہاکہ لینکو ہلز کے بشمول تلنگانہ کی کئی ایسی وقف جائیدادیںہیں جن پر آندھرائی قائدین اورسرمائے داروں کاقبضہ ہے انہوں نے مذکورہ اوقافی جائیدادوں کی بازیابی کو علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی حالت زار میں تبدیلی لانے کا بہترین ذریعہ قراردیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میںتباہی کے دہانے پر پہنچی چکی بیشتر اوقافی جائیدادوں کا منشاء وقف تعلیم کافروغ ہے اور ان اوقافی جائیدادوں کی بازیابی مسلم سماج کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ نیا قلعہ‘ گولکنڈہ قلعہ‘ مکہ مسجد‘ چارمینا ر جیسے تاریخی ورثے کو بھی تباہ کردیا جارہا ہے جس کی حفاظت مجوزہ ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار آنے والی سیاسی جماعتوں پر عائد ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT