Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی چارمینار کی آہک پاشی و تزئین نو کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کو آگے آنے کی ضرورت

تاریخی چارمینار کی آہک پاشی و تزئین نو کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کو آگے آنے کی ضرورت

گنبدان قطب شاہی کی طرز پر عظمت رفتہ کی بحالی ممکن ، انورادھا ریڈی اینٹک قائد کا بیان
حیدرآباد۔ 28 اکتوبر (سیاست نیوز) تاریخی چارمینار کے تحفظ کیلئے مرکزی حکومت کے تحت خدمات انجام دینے والے محکمہ آثارِ قدیمہ کو فوری طور پر متحرک ہوتے ہوئے چارمینار کی آہک پاشی اور داغ دوزی کے پراجکٹ کو عالمی فنڈس کے ذریعہ مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ آغا خاں ٹرسٹ کی جانب سے گنبدان قطب شاہی میں جاری آہک پاشی و تزئین نو کے کاموں کو امریکی امداد حاصل ہے اور امریکہ کی جانب سے حاصل ہونے والی امداد کے ذریعہ آغا خاں ٹرسٹ گنبدان قطب شاہی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کیلئے تیز رفتار کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی طرح تاریخی چارمینار کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ کسی امریکی یا یوروپی ملک کی مدد حاصل کرتے ہوئے آہک پاشی و تزئین نو کے کاموں کا فی الفور آغاز کیا جائے چونکہ چارمینار کے اندرونی حصہ میں دیواروں سے گچی جھڑنے لگی ہے اور اگر اسی طرح اس تباہی کو نظرانداز کیا جاتا رہا تو اس عظیم ثقافتی ورثہ سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ انٹیک کی ذمہ دار مسز انورادھا ریڈی نے بتایا کہ چارمینار کے تحفظ کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کو آگے آنے کی ضرورت ہے جس رفتار سے آہک پاشی و تزئین نو کے کاموں کا سلسلہ جاری ہے، وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونی ممالک سے مدد حاصل کرتے ہوئے ثقافتی ورثہ کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے چونکہ جب کوئی انسان بیمار ہوتا ہے تو وہ بہتر سے بہتر طبیب کے پاس علاج کے لئے پہنچتا ہے، اسی طرح تاریخی چارمینار کی حالت بھی بتدریج ابتر ہوتی جارہی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ چارمینار جوکہ مرکزی حکومت کے تحت چلائے جانے والے محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں ہے، اسی لئے مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ کو چاہئے کہ وہ دہلی میں ہمایوں کے مقبرہ کے علاوہ حیدرآباد میں گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو و آہک پاشی کے کاموں کو دیکھتے ہوئے بیرونی ممالک سے رجوع ہوں تاکہ ہندوستان میں موجود اس عظیم ورثہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ مسز انورادھا ریڈی نے بتایا کہ حالیہ دورۂ ایران کے دوران انہوں نے وہاں تہذیبی ورثہ کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا مشاہدہ کیا جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ تہذیبی و ثقافتی ورثہ کے تحفظ کیلئے ایران کافی حد تک کام انجام دے رہا ہے جس کے نتیجہ میں ایران میں سیاحوں کی بڑی تعداد بغرض سیر و تفریح پہنچ رہی ہے جوکہ مملکت کی آمدنی کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں ماقبل اسلام اور تاریخ اسلام کی کئی ثقافتی و تہذیبی ورثہ کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اسی طرح رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت کی نشانیوں کو بھی محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ جناب جی کرشن راؤ ریٹائرڈ آئی اے ایس و چیف ایگزیکٹیو آفیسر یادگیری گٹہ ٹیمپل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے بھی بیرونی ملک کے ماہرین کی مدد کے ذریعہ تہذیبی ورثہ کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور حکومت ہند پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے چارمینار کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چارمینار کے تحفظ کے ذریعہ حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں کے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔ ریاستی حکومت اگر مرکزی حکومت یا پھر تاریخی عمارتوں کے تحفظ و عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے فنڈس فراہم کرنے والے ممالک کے سفراء سے اس مسئلہ سے رجوع ہوتی ہے تو ایسی صورت میں چارمینار کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کئی حکومتوں کے آگے آنے کی قوی توقع ہے چونکہ عالمی سطح پر حیدرآباد کی شناخت چارمینار سے ہوتی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے چارمینار کے آہک پاشی کا جو کام جاری ہے، اس کی تحقیق اور ایک مینار کی جو کیمیکل سے صفائی انجام دی گئی ہے اس کا جائزہ لینے کیلئے چینائی سے ماہرین کو نمونہ حوالے کئے گئے تھے تاکہ قطب شاہی و آصف جاہی دور سے آہک پاشی کو قریب تر کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ایس تھروملانی اور ڈاکٹر روی نے چار نمونے حاصل کئے ہیں، جس کی تحقیق کے بعد رپورٹ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو حوالے کی جائے گی اور جس کے بعد ہی چارمینار کی مکمل آہک پاشی کا عمل شروع ہونے کی توقع ہے لیکن اوپری حصے میں کیمیکل سے صفائی کے علاوہ اندرونی حصوں میں بھی عمارت کو مستحکم بنانے اور کیمیکل صفائی کی ضرورت ہے اس کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر توجہ مبذول کرے۔

TOPPOPULARRECENT