Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی چارمینار کے تحفظ میں حکومت غیر سنجیدہ

تاریخی چارمینار کے تحفظ میں حکومت غیر سنجیدہ

عمارت کی مکمل صفائی ندارد، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کا ادھورا کام

حیدرآباد 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) تاریخی چارمینار کے متعلق حکومت کے رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت واقعی اِس عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں غیر سنجیدہ ہے۔ 2015 ء کے ابتداء میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے چارمینار کے رنگ و روغن اور کمیکل کے ذریعہ صفائی کے عمل کا آغاز کیا گیا تھا لیکن تاحال صرف ایک مینار کی ہی صفائی ممکن ہوسکی ہے۔ چارمینار کے چاروں میناروں میں مشرقی جنوب میں واقع ایک مینار کی صفائی کا عمل شروع کرتے ہوئے مکمل کرلیا گیا اور اِس مینار کی صفائی سے قبل دیگر میناروں کی صفائی کے عمل کے آغاز کا اعلان بھی کیا گیا تھا لیکن اِس مینار کی صفائی کو مکمل ہوئے تقریباً چار ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن 400 سالہ قدیم اِس تاریخی عمارت کے دوسرے میناروں کی صفائی کا عمل شروع کرنے کے لئے محکمہ آثار قدیمہ کے پاس رقم موجود نہیں ہے۔ ذرائع کے بموجب محکمہ کو 7 لاکھ روپئے اِس مینار کی داغدوزی اور کمیکل صفائی کے لئے دیئے گئے تھے جس کے بعد کوئی بجٹ جاری نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے صفائی کا عمل مفلوج ہوچکا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس عمل کی یکساں تکمیل کے بغیر چارمینار کی خوبصورتی کو بحال کرنا اور اُس کی سابقہ ہیئت کی بحالی کو ممکن بنانا انتہائی مشکل ثابت ہوگا اِسی لئے جب تک مکمل بجٹ کی اجرائی عمل میں لاتے ہوئے یکساں طور پر کاموں کا آغاز عمل میں نہیں لایا جاتا اُس وقت تک یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ چارمینار کی سابقہ ہیئت کی بحالی کے اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ فضائی آلودگی اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کے سبب چارمینار کی حقیقی خوبصورتی ماند پڑچکی ہے جس کی وجہ سے چارمینار کے بیشتر حصے سیاہی مائل ہوتے جارہے تھے۔ ایک رپورٹ موصول ہونے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے چارمینار کے تحفظ اور اُس کی خوبصورتی کی بحالی کے اقدامات کا آغاز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن یہ اعلان بھی سیاسی وعدے کی طرح ثابت ہورہا ہے۔ ریاستی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ اِس بات کے لئے کوشاں ہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود قلعہ گولکنڈہ اور چارمینار کو عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کروایا جائے لیکن اِن کوششوں اور عمل کا جائزہ لیا جائے تو محکمہ کی جانب سے صرف کوشش کی جارہی ہے جبکہ اِن تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لئے کوئی عملی اقدامات کا جائزہ لینے کی زحمت نہیں کی جارہی ہے۔ ریاستی حکومت اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں محکمہ آثار قدیمہ سے خصوصی بجٹ حاصل کرتے ہوئے تاریخی چارمینار کی خوبصورتی کی بحالی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت کے زیرانتظام کام کررہے ادارہ محکمہ آثار قدیمہ کو چارمینار کے لئے خصوصی بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں اگر ریاستی حکومت کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے تو ایسی صورت میں چارمینار کی کمیکل صفائی کے عمل کو مکمل کرنے میں کافی حد تک آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT