Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تاریخی چارمینار کے قریب ایک نئے تماشے کا آغاز

تاریخی چارمینار کے قریب ایک نئے تماشے کا آغاز

حکومت اور پولیس کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت

حکومت اور پولیس کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 13 ڈسمبر (نمائندہ خصوصی) تاریخی چارمینار جہاں ہمیشہ سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور جسے شہر کا مصروف ترین علاقہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، وہاں عمارت کی جالی کے قریب گذشتہ کچھ دن سے ایک نیا تماشہ دیکھنے میں آرہا ہے، جس پر اب روک نہیں لگائی گئی تو یہ آگے چل کر ایک مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔ یو پی سے تعلق رکھنے والا پنڈت رام دلارے مشرا روزانہ صبح سات بجے ایک گائے کے ساتھ وہاں پہنچتا ہے اور دو گھنٹے وہیں جالی کے قریب بیٹھا رہتا ہے۔ اس دوران وہاں آنے والے لوگ گائے کو گھاس کھلاتے ہیں۔ کوئی پنڈت کو کھانا کھلاتا ہے اور کچھ لوگ اسے پیسے بھی دیتے ہیں۔ جب پنڈت مشرا سے وہاں بیٹھنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ یہاں پیسہ، کھانا اور گائے کو بھی خوب چارہ مل جاتا ہے۔ اس میں بھلا کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ اگر گائے اور پنڈت کے سلسلہ کو ابھی روکا نہیں گیا تو مستقبل میں کہیں وہاں گاؤشالہ ہی نہ بن جائے کیونکہ آج ایک گائے ہے، کل دو اور تین بھی ہوسکتی ہیں۔ چارمینار ہمیشہ سے سرخیوں میں رہا ہے۔ دو سال قبل بھی مندر کا مسئلہ اس قدر زور پکڑا تھا کہ حالات بے قابو ہوگئے تھے اور انہیں پرامن بنانے میں پولیس کو شدید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ جب دو گھنٹے تک پنڈت مشرا وہاں بیٹھتا ہے تو وہاں گائے کا فضلہ، گھاس پوس اور دیگر نوعیت کی گندگی بھی پیدا ہوتی ہوگی جبکہ ہمارے وزیراعظم نریندرمودی نے سوچھ بھارت کا نعرہ دیا ہے جس کی بنیاد پر جگہ جگہ صفائی ابھیان انجام دیئے جارہے ہیں۔ دوسری طرف یہاں آنے والے بیرونی سیاحوں پر بھی تاریخی عمارت کے اطراف و اکناف گندگی کا منفی اثرت مرتب ہوگا جو ہندوستان میں تاریخی مقام کے درجہ میں دوسرا مقام رکھنے والے حیدرآباد کے لئے مناسب نہیں ہوگا اور عالمی سطح پر ایک غلط پیغام لوگوں تک پہنچے گا جس کا سدباب کیا جانا چاہئے۔ چارمینار قطب شاہی عہد کی فن تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے اور گوہر نایاب ہے۔ حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی پرامن فضاء کو مکدر کرنے اب دیگر ریاستوں سے بھی لوگ آرہے ہیں۔ تصاویر اس بات کی گواہ ہیں کہ کوئی گائے کو چارہ کھلا رہا ہے اور کوئی پنڈت کو پیسے دے رہا ہے۔ حکومت اور پولیس کو اس سنگین مسئلہ کی فوری یکسوئی کرنی چاہئے۔ نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس کا دور حکومت ایک پرسکون دورحکومت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جہاں گذشتہ چھ ماہ سے شہر حیدرآباد بھی امن کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔ تاریخی چارمینار دیکھے بغیر کوئی بھی سیاح واپس نہیں جاتا اور اگر صاف صفائی کا فقدان ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ مزید برآں پنڈت مشرا کے وہاں بیٹھنے پر ایسا معلوم ہوتا ہیکہ کسی کو کوئی اعتراض نہیں یا پھر اسے فرقہ پرست سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہونے سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، پولیس کو اس سلسلہ میں فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ ہماری پولیس کو اس وقت ہوش آئے جب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہو۔ ایک حیدرآباد ہی کیا ملک کے کسی گوشے سے بھی اگر فرقہ وارانہ ماحول کو مکدر کرنے کی خبریں ملتی ہیں تو ان کی مذمت کی جانی چاہئے۔ اسی لئے تاریخی چارمینار کے پاس یہ جو نیا تماشہ ہورہا ہے اس کو بروقت روک دیا جائے تو شہر کی پرامن فضاء کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT