Saturday , October 20 2018
Home / عرب دنیا / تال میل کی کمی نے دہشت گردی کو موقع دیا:محمد بن سلمان

تال میل کی کمی نے دہشت گردی کو موقع دیا:محمد بن سلمان

دہشت گردوں کو اسلام کی پرامن شناخت مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی
ریاض، 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے طاقتور ولیعہد محمد بن سلمان نے دنیا سے دہشت گردی کے صفائے تک دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔پرنس نے یہاں اسلامی دہشت گردی کے خلاف اتحاد میں شامل 40 مسلم ممالک کے حکام کے اجلاس کے دوران یہ بات کہی۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع کی بھی ذمہ داری سنبھال رہے سلمان نے کہاکہ گزشتہ کچھ برسوں میں دہشت گردی ہم تمام ممالک کے اندر پیر پھیلا چکی ہے ۔اس کی وجہ آپس میں تال میل کا فقدان ہے۔ سعودی ولی عہد ، وزیر دفاع اور نائب وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو اسلام کی پرامن شناخت مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔آج ہم ایک مضبوط پیغام دے رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل جل کر کام کریں گے ۔انھوں نے یہ باتیں اتوار کو دارالحکومت ریاض میں 41 اسلامی ممالک پر مشتمل دہشت گردی مخالف فوجی اتحاد کی دفاعی کونسل کے پہلے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر کہی ۔انھوں نے اتحاد میں شامل ممالک کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔شہزادہ محمد نے اپنی تقریر میں کہاکہ آج ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کا اس کے مکمل صفائے تک تعاقب جاری رکھیں گے۔اس اجلاس کا عنوان” دہشت گردی کے خلاف اتحاد” ہے ۔اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کے دو سال کے بعد رکن ممالک کے وزرائے دفاع کا یہ پہلا اجلاس ہے ۔اس میں رکن ممالک کے سعودی عرب میں تعینات سفارت کار اور ماہرین بھی شریک ہیں ۔ پریس کے ایک نمائندے کے مطابق اسلامی فوجی اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف نے عسکری امور ، فوجی اطلاعات کے تبادلے اور رکن ممالک کی فوجی صلاحیت میں اضافے پر زور دیا ہے تاکہ دہشت گردی کے خاتمے اور تشدد کی روک تھام کے لیے عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکے ۔ان کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی میں اور بالخصوص مسلم دنیا میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خطرناک مسئلے سے نمٹنا ہے ۔اتحاد نے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کے لیے چار نکاتی حکمت عملی و ضع کی ہے اور وہ نظریہ ، ابلاغیات ، دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام اور فوج ہے ۔ ان ذرائع سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں سے نمٹا جائے گا۔اس کے علاوہ بین الاقوامی سلامتی اور امن کے لیے کوششوں میں موثر انداز میں شمولیت اختیار کی جائے گی۔اسلامی فوجی اتحاد کے قائم مقام سیکریٹری جنرل ، لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ الصالح نے قبل ازیں کہا تھا کہ اس اجلاس کے بعد دہشت گردی مخالف اتحاد کے ریاض میں واقع مرکز میں سرگرمیوں کا بھی باضابطہ طور پر آغاز ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس مرکز کے ذریعہ اتحاد کے رکن ممالک کو ایک پلیٹ فارم دستیاب ہوگا جہاں وہ دہشت گردی مخالف کاوشوں اور تجربات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرسکیں گے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مقامی اور علاقائی ثقافتی تقاضوں کے مطابق حل بھی دستیاب ہوسکیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT