Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تانڈور میونسپل چیرپرسن کی حیثیت سے کانگریس امیدوار سنیتا سمپت منتخب

تانڈور میونسپل چیرپرسن کی حیثیت سے کانگریس امیدوار سنیتا سمپت منتخب

مجلس اور ٹی آر ایس کو شکست، مجلس کے باغی کونسلرس کا کانگریس کو ووٹ

حیدرآباد ۔ 4 مارچ (سیاست نیوز) تانڈور میونسپل چیرپرسن انتخابات میں ٹی آر ایس اور مجلس اتحاد المسلمین کو شکست ہوگئی۔ کانگریس کے کئی امیدوار سنیتا سمپت ڈرامائی انداز میں چیرپرسن منتخب ہوگئی۔ مجلس میں پھوٹ پڑ گئی۔ مجلس کے 6 باغی کونسلرس نے کانگریس امیدوار کی تائید کردی۔ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نتائج سے حیرت زدہ رہ گئے۔ حکمران ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مجلس کو آج اس وقت بہت بڑا دھکا لگا جب ان کی تیار کردہ متحدہ حکمت عملی کو مجلس کے 6 باغی کونسلرس نے ناکام بنادیا۔ باقی رہی سہی کسر تلگودیشم اور بی جے پی نے پوری کردی۔ ریاستی وزیرٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی کی موجودگی میں سب کچھ الٹا ہوگیا۔ وہ لمحے آخر میں دوڑدھوپ کرنے کی کوشش کی مگر ٹی آر ایس مجلس اتحاد کو بچانے میں ناکام رہے۔ قدم قدم پر ٹی آر ایس اور مجلس ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے۔ مقامی اداروں کے کونسل انتخابات میں ٹی آر ایس نے مجلس کی تائید کی اور ارکان اسمبلی کوٹہ کے کونسل انتخابات میں ضرورت پڑنے پر ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا مجلس نے تیقن دیا مگر تانڈور میونسپلٹی میں دونوں جماعتوں کی تمام تدابیر الٹی ہوگئی۔ گذشتہ تانڈور میونسپل انتخابات میں کسی بھی جماعت کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ ٹی آر ایس کے 10، مجلس کے 10 اور کانگریس کے 8 کونسلرس منتخب ہوئے تھے جبکہ تلگودیشم کے 2 اور بی جے پی کے 2 کارپوریٹرس کامیاب ہوئے تھے۔ کسی بھی جماعت کو چیرپرسن کا انتخاب کرنے کیلئے مکمل اکثریت حاصل نہ ہونے پر ٹی آر ایس اور مجلس نے ایک دوسرے سے اتحاد کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کے درمیان ڈھائی ڈھائی سال چیرپرسن اور وائس چیرمین کا عہدہ بانٹ لینے کا معاہدہ طئے پایا تھا اور پہلے ڈھائی سال کیلئے ٹی آر ایس کی وجئے لکشمی چیرپرسن اور مجلس کا وائس چیرمین منتخب ہوا تھا۔ ڈھائی سالہ میعاد مکمل ہونے کے بعد معاہدے کے مطابق ٹی آر ایس کی چیرپرسن اور مجلس کے وائس چیرمین نے استعفیٰ دے دیا تھا اور آئندہ ڈھائی سال  کیلئے مجلس کا چیرپرسن اور ٹی آر ایس کا وائس چیرمین کا انتخاب کرنے کیلئے آج ضلع سب کلکٹر سندیپ کمار جھا نے انتخابات کرایا تھا۔ اس موقع پر ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی بھی موجود تھے۔ جیسے ہی چیرپرسن کے انتخاب کیلئے انتخابی عمل کا آغاز ہوا مجلس نے اپنی جانب سے امیدوار نہ کھڑا کرنے کا اعلان کیا جس سے ٹی آر ایس اور مجلس کے کیمپس میں کھلبلی مچ گئی۔ مجلس میں پھوٹ پڑ گئی۔ اس کے 10 کے منجملہ 6 کونسلرس نے انصاف کرتے ہوئے امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کیا اور مجلس کے 6 کونسلرس نے علحدہ گروپ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کردیا۔ اتحاد کو بچانے کیلئے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا پھر بھی ناکام رہے۔ حالت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کانگریس پارٹی نے سنیتا سمپت کو چیرپرسن کے مقابلے کیلئے اپنا امیدوار بنادیا۔ روایت کے مطابق سب کلکٹر نے ہاتھ اٹھا کر تائید کرنے کے عمل کو پورا کیا جس میں سنیتا سمپت چیرپرسن منتخب ہوگئی۔ انہیں کانگریس کے 8 ارکان، مجلس کے 6 باغی ارکان، تلگودیشم کے 2 اور بی جے پی کے 2 جملہ 31 رکنی میونسپلٹی مقامی رکن اسمبلی مہیندر ریڈی کے ووٹ کے ساتھ جملہ 32 رکنی میونسپلٹی میں 17 ووٹ کانگریس کی امیدوار کو حاصل ہوئے اور سنیتا سمپت کو چیرپرسن منتخب کرلیا گیا۔ ساتھ ہی مجلس کے باغی ارکان میں ایک رکن آصف کو وائس چیرمین منتخب کرلیا گیا۔ ٹی آر ایس نے مجلس میں پھوٹ کے بعد باقی رہ جانے والے 4 ارکان میں محموی بیگم کو چیرپرسن کیلئے مقابلہ میں کھڑا کیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ کے ووٹ کے ساتھ مجلس کے امیدوار کو 15 ووٹ حاصل ہوئے۔ آخری لمحہ میں پیدا شدہ ڈرامائی حالت سے مجلس کی امیدوار جنہیں ٹی آر ایس کی تائید حاصل تھی، شکست ہوگئی جس سے ٹی آر ایس اور مجلس اتحاد کے کیمپس میں مایوسی چھاگئی۔

TOPPOPULARRECENT