تبدیلی مذہب کے باوجود بی سی فوائد برقرار

چینائی ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مدراس ہائیکورٹ نے آج ایک اہم رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہندو پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اگر اپنا مذہب تبدیل کرتے ہوئے اسلام قبول کرلے تو اسے بی سی موقف پر حاصل ہونے والے فوائد برقرار رہیں گے۔ عدالت نے حکام کو یہ ہدایت دی کہ اسلام قبول کرنے والے ایسے افراد کو بی سی کمیونٹی سرٹیفکیٹ جاری کریں۔

چینائی ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مدراس ہائیکورٹ نے آج ایک اہم رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہندو پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اگر اپنا مذہب تبدیل کرتے ہوئے اسلام قبول کرلے تو اسے بی سی موقف پر حاصل ہونے والے فوائد برقرار رہیں گے۔ عدالت نے حکام کو یہ ہدایت دی کہ اسلام قبول کرنے والے ایسے افراد کو بی سی کمیونٹی سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس ڈی ہری پرنتھمن نے کہا کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچنے میں کوئی پس و پیش نہیں رکھتے کہ اگر ہندو بیک ورڈ کلاس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا شخص اسلام قبول کرے تو اسے بیک ورڈ کلاس کے فوائد ملنے چاہئے۔ جج نے 88 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے ایک خاتون ایم یو عارفہ کو بیک ورڈ کلاس موقف کے فوائد جاری رکھنے کی اجازت دی۔ اس خاتون کا تعلق ہندو نادر کمیونٹی سے تھا لیکن اس نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ درخواست گذار نے ٹاملناڈو پبلک سرویس کمیشن کو یہ ہدایت دینے کی خواہش کی تھی کہ فائر اینڈ ریسکیو سرویسیس میں بیک ورڈ کلاس مسلم زمرہ کے تحت بحیثیت سیکشن آفیسر تقرر کیا جائے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT