Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / تبدیلی مذہب کے بغیر ہندو اور عیسائی جوڑے کی شادی ناجائز

تبدیلی مذہب کے بغیر ہندو اور عیسائی جوڑے کی شادی ناجائز

کسی ایک کو دوسرے کا مذہب قبول کرلینا چاہئے :مدراس ہائی کورٹ
مدوائی ۔ 19 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : ہندو خاتون اور عیسائی مرد کے درمیان شادی قانونی طور پر جائز قرار نہیں دی جاسکتی بشرطیکہ دونوں کسی ایک کا مذہب قبول نہ کرلیں ۔ مدراس ہائی کورٹ نے یہ نقطہ نظر پیش کیا ہے ۔ خاتون کے والدین کی درخواست رہائی حبس بیجا کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس پی آر شیوا کمار اور وی ایس روی نے کہا کہ اگر یہ جوڑا ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرنا چاہتا ہے تو مرد کو چاہئے کہ وہ ہندو دھرم میں شامل ہوجائے یا پھر عیسائی طور طریقے کے مطابق خاتون شادی کرنا چاہتی ہے تو وہ عیسائیت میں داخل ہوجائے ۔ عدالت نے متبادل کے طور پر یہ مشورہ دیا کہ اگر یہ جوڑا تبدیلی مذہب کے بغیر اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اسپیشل میریج ایکٹ 1954 کے تحت رجسٹریشن کے بعد شادی انجام دے سکتا ہے ۔ والدین کی درخواست حبس بیجا سے رہائی داخل کرنے کے بعد پولیس نے آج خاتون کو عدالت میں پیش کیا اور ججوں کو مطلع کیا کہ اس خاتون نے پلانی کی ایک مندر میں شادی کرلی ہے جس پر انہوں نے دریافت کیا کہ ہندو قانون کے مطابق یہ شادی کس طرح جائز ہوسکتی ہے اگر مرد نے ہندو دھرم قبول نہیں کیا ہے ۔ تاہم خاتون اپنے نوبیاہی شوہر کے ساتھ جانے کے فیصلہ پر مصر رہی ۔ اس کے بالغ ہونے کی وجہ سے یہ اجازت دیدی گئی ۔ ہائی کورٹ بنچ نے کہا کہ اگرچیکہ بالغ ہونے کے ناطے یہ خاتون اپنی پسند کی زندگی گذار سکتی ہے لیکن ہندو قانون کے مطابق ان کی شادی جائز قرار نہیں دی جاسکتی ۔۔

TOPPOPULARRECENT