Wednesday , June 20 2018
Home / سیاسیات / تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج

تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج

واقعات کو روکنے وزیراعظم سے تیقن پر اصرار، راجیہ سبھا کا اجلاس دن بھر کیلئے ملتوی

واقعات کو روکنے وزیراعظم سے تیقن پر اصرار، راجیہ سبھا کا اجلاس دن بھر کیلئے ملتوی
نئی دہلی ۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر متحدہ اپوزیشن کے زبردست شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے نتیجہ میں راجیہ سبھا میں آج کی کارروائی بری طرح مفلوج ہوگئی۔ اپوزیشن ارکان نے اس مسئلہ پر وزیراعظم سے یہ تیقن دینے کیلئے اصرار کیا کہ ملک میں ایسے (تبدیلی مذہب) کے واقعات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ راجیہ سبھا کے علاوہ لوک سبھا میں ایک مبینہ سرکاری سرکلر پر بھی شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ سرکلر میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ کرسمس کے دن تمام اسکولس کھلے رکھے جائیں۔ تاہم بعد میں حکومت نے وضاحت کی کہ ایسے کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے بلکہ اس دن صرف مضمون نویسی کے آن لائن مقابلے منعقد کئے جارہے ہیں اور وہ بھی رضاکارانہ نوعیت کے ہیں۔ ایوان بالا میں اپوزیشن نے تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر فی الفور بحث کی اجازت دینے کیلئے مسلسل اصرار کیا اور جب حکومت نے اس بات اتفاق کیا تو اپوزیشن نے یہ مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کو بحث کے دوران ایوان میں موجود رہنا چاہئے اور انہیں بحث کا جواب بھی دینا چاہئے۔ دوسری طرف حکومت نے اصرار کیا کہ وزیرداخلہ اس مسئلہ پر بیان دیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کس طرح دونوں ہی اپنے متعلقہ موقف پر اٹل رہی جس کے نتیجہ میں وقفہ وقفہ سے 4 انتباہ کے بعد راجیہ سبھا کا اجلاس سہ پہر 3 بجے دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ وزیرفینانس و قائد ایوان ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت کسی بھی مسئلہ پر بحث کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے دریافت کیا کہ آیا وہ ’’مذہبی تبدیلی پر مکمل امتناع چاہتے ہیں یا پھر جبری مذہبی تبدیلی پر پابندی عائد کرنے کے خواہاں ہے‘‘ اور ان دونوں میں سے حکومت کو کیا قبول کرنا چاہئے۔ اپوزیشن نے آگرہ میں حالیہ مذہبی تبدیلی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور یہ خواہش کی کہ اس مسئلہ پر وزیراعظم ایوان اور ملک کو یقین دلائیں کہ مستقبل میں اس قسم کے حرکات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کانگریس، بائیں بازو محاذ اور ٹی ایم سی جیسی جماعتوں کے کپتان نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے ملک کے سیکولر تانے بانے کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور صرف وزیراعظم کو ہی جواب دینا چاہئے۔ یہ ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور ’’پردھان منتری جواب دو ۔ جواب دو‘‘ اور ’’تبدیلی مذہب کو روکا جائے‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس دوران نائب صدرنشین راجیہ سبھا پی جے کورین نے کہا کہ وہ حکومت سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ آیا کونسے مخصوص وزیر یا وزیراعظم کو کس مسئلہ پر جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ ایوان میں موجود ہیں اور جواب دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ احتجاجی اپوزیشن سے برہم کورین نے سوال کیا کہ ’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ (وزیرداخلہ) جواب دینے کے اہل نہیں ہیں‘‘۔ ایک مرحلہ پر مسٹر کورین نے ارکان کو پرسکون رہنے کی ترغیب دینے کی کوشش کے طور پر کہا کہ ’’یہ حکومت کی اجتماعی ذمہ داری ہے… وزیراعظم یہاں نہیں ہیں۔ وہ دہلی میں موجود نہیں ہیں، پھر کیسے وہ جواب دے سکتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT