Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / تجارتی عمارات میں توانائی کے تحفظ کیلئے نئے ضابطہ کا لزوم

تجارتی عمارات میں توانائی کے تحفظ کیلئے نئے ضابطہ کا لزوم

آن لائن سسٹم متعارف، جی ایچ ایم سی سے منظوری کیلئے درخواستیںداخل کرنے کی سہولت

حیدرآباد۔/20ڈسمبر، ( سیاست نیوز) برقی کی قلت اوراس کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے جی ایچ ایم سی نے شہر کی تمام تجارتی عمارتوں کیلئے ضابطہ توانائی کے تحفظ کے لزوم کیلئے آن لائن نظام کا آغاز کیا۔ حیدرآباد کو توانائی کے مسائل سے فوری نمٹنے کی ضرورت ہے جہاں برقی کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور سربراہی محدود ہے۔جی ایچ ایم سی کے کمشنر بی جناردھن ریڈی اور محکمہ بلدی نظم نسق کے سکریٹری نوین متل نے کہا کہ چہارشنبہ کو خیریت آباد کے انجینئرس انسٹی ٹیوٹ آڈیٹوریم میں شروع ہونے والے ہفتہ تحفظ توانائی کے موقع پر یہ آن لائن سسٹم متعارف کیا گیا۔ تحفظ توانائی کے ضابطہ برائے عمارات ملک بھر میں ایسا پہلا لازم پابندی نظام ہے جو آن لائن کیا جارہا ہے۔ اس طرح حیدرآباد یہ نظام متعارف کرنے والا پہلا شہر بن گیا اور ملک کے دیگر شہروں میں ماحولیاتی تبدیلی سے مقابلہ اور اپنی توانائی ضروریات کی تکمیل کیلئے یہ طریقہ کار اختیار کرسکتے ہیں۔توانائی کی بچت کے اس ضابطہ 1000 مربع میٹر یا 2000 مربع میٹر تعمیری رقبہ پر مشتمل تمام تجارتی اور غیر رہائشی عمارتوں پر اطلاق ہوگا۔ تاہم یہ ضابطہ اگرچہ فیکٹریز اور رہائش گاہوں پر لاگو نہیں ہوگا لیکن ملٹی پلیکس، ہاسپٹلس، ہوٹلس اور کنونشن سنٹرس جیسی تمام تجارتی عمارتوں پر اس ضابطہ کی عمل آوری لازمی ہوگی۔ حتیٰ کہ یہ عمارات 2000 مربع میٹر سے کم رقبہ پر تعمیر کی گئی ہیں تو بھی ان پر تحفظ توانائی ضابطہ کا لزوم رہے گا۔ جی ایچ ایم سی نے ایسی تمام عمارتوں کی تعمیرات کو منظوری کیلئے ضابطہ عمارات برائے تحفظ توانائی ( ای سی بی سی ) کی پابندی پر ڈیولپمنٹ پرمیشن مینجمنٹ سسٹم کے تحت ضروری ہوگی۔ چنانچہ عمارتوں کی تعمیر کونے والے آرکیٹکٹ، ڈیولپرس، متعلقہ فریق ثالث یا مالکین اجازت اور ای سی بی سی کیلئے آن لائن فارم داخل کرسکتے ہیں۔ ڈی پی ایم ایس کیلئے فریق ثالث تخمینہ کار ( ٹی یو اے) کی طرف سے جاری کردہ اے سی بی سی ڈیزائن کمپلائنس سرٹیفکیٹ اور تحفظ توانائی رپورٹ جیسی دو کلیدی دستاویزات بھی اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ ایڈمنسٹریٹیو اسٹاف کالج اور قدرتی وسائل کی دفاعی کونسل اس شعبہ کے کلیدی ماہرین کے ساتھ ریاستی حکومت اور جی ایچ ایم سی سے اس ضابطہ کی ترویج اور نفاذ کیلئے کام کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT