Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تحریک آزادی کے مجاہدین کو نظر انداز کرنے کی مذمت

تحریک آزادی کے مجاہدین کو نظر انداز کرنے کی مذمت

آر ایس ایس کا محب وطن جشن سیاسی تماشہ ، اتم کمار ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک کے دوران انگریزوں کی غلامی کرنے والے آر ایس ایس کے غداروں کو 75 سال بعد ان کے وارثوں کی جانب سے محب وطن قرار دیتے ہوئے جشن منانے کو سیاسی تماشہ قرار دیا ۔ تحریک آزادی کے دوران قربانیاں دینے والے مجاہدین کو نظر انداز کردینے کی سخت مذمت کی ۔ ہندوتوا طاقتوں کے فروغ اظہار خیال کی آزادی ، کھانے پینے کے معاملت میں امتناعی احکامات نافذ کرتے ہوئے ملک میں اقلیتوں ، دلتوں اور خواتین میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی اقلیتوں ، دلتوں اور خواتین کے مفادات کا بھر پور تحفظ کرے گی ۔ ہندوستان چھوڑ دو تحریک کے 75 سال مکمل ہونے پر گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کی ظلم و زیادتی بڑھ گئی ہے ۔ عوامی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے ۔ اقلیتوں ، دلتوں ، خواتین اور قبائلی طبقات پر ظلم و زیادتی کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے نا انصافی کی جارہی ہے ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ تلنگانہ میں اقلیتوں ، پسماندہ طبقات خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم و زیادتیوں اور حق تلفی کو کانگریس ہرگز برداشت نہیں کرے گی ۔ مصیبت کے موقع پر پسماندہ طبقات کے ساتھ کھڑی رہے گی ۔ انہوں نے آج پارلیمنٹ میں وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کی گئی تقریر پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں شریک ہو کر برسوں جیلوں میں گذارنے والے جواہر لعل نہرو ، مولانا ابوالکلام آزاد ، سردار ولبھ بھائی پٹیل ، ڈاکٹر راجندر پرساد جیسے اہم مجاہدین کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیراعظم نے قومی ہیروز کی توہین کی ہے ۔ ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا حصہ نہ رہنے والے اور ہندوستان چھوڑ دو تحریک کے دوران ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس کی جانب سے انگریزوں کی غلامی اور تحریک کی مخالفت کرنے والے ساورکر ، ہیڈگوار اور ایم ایس گوالکر ، شیام پرساد مکھرجی ، کی ستائش کرتے ہوئے وزیراعظم نے مجاہدین آزادی کی نہ صرف توہین کی ہے بلکہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے عوام کو غلط پیغام دیا ہے اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 8 اگست 1942 کو کانگریس کے اے آئی سی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی جی نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ’ جیو یا مرو ‘ کا نعرہ دیا تھا ۔ تحریک میں حصہ لینے پر انگریزوں نے تمام سینئیر قائدین کو گرفتار کرتے ہوئے ملک کے مختلف جیلوں میں قید کردیا تھا ۔ یہاں تک کہ کئی قائدین تین سال تک جیل میں رہے ۔ ان مجاہدین کی خدمات اور قربانیوں سے ہندوستان آزاد ہوا ہے لیکن آزادی کی تحریک کا حصہ نہ رہنے والے ملک دشمن عناصر کے وارثوں کی جانب سے مجاہدین اور قربانیاں دینے والے عظیم قائدین کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک سے غداری کرنے والوں کو ہیرو کی طرح پیش کیا جارہا ہے ۔ منظم سازش کے تحت ہندوتوا طاقتیں اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ مرکز پر بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت قائم ہوجانے کے بعد ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے ۔ اظہار خیال کی آزادی چھین لی گئی ہے ۔ کون کیا کھائے اور کیا نہ کھائے اس کا بھی فیصلہ ہندوتوا طاقتیں کررہی ہے ۔ ملک میں ایک دن بھی ایسا نہیں گذارا جب اقلیتوں ، دلتوں ، قبائلوں اور خواتین پر حملے نہیں کئے گئے ۔ ان کا قتل نہیں کیا گیا ۔ سماج کے یہ تمام طبقات ڈر و خوف کی زندگی گذار رہے ہیں سیاسی مفاد پرستی اور ذاتی اغراض کے لیے آر ایس ایس ، ہندوتوا طاقتیں اور بی جے پی جمہوریت کو تار تار کررہی ہیں ۔ اور دستور کی دھجیاں اڑا رہی ہیں ۔ صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی فرقہ پرستوں کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہیں ۔ تلنگانہ میں بھی کانگریس کی جانب سے اقلیتوں ، دلتوں ، قبائلوں اور خواتین کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائیگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT