Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / تحریک تحفظات کے لیڈر ہردیک پٹیل کے اغواء کے بعد رہائی

تحریک تحفظات کے لیڈر ہردیک پٹیل کے اغواء کے بعد رہائی

ایجی ٹیشن ختم نہ کرنے پرجان سے ماردینے کی دھمکی کا الزام

احمد آباد ۔ 23 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : رات دیر گئے پیش آئے ڈرامائی واقعہ میں گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ پٹیل برادری کی تحریک تحفظات کے کرتا دھرتا ہردیک پٹیل کا پتہ چلایا جائے ۔ اس خصوص میں ایک درخواست رہائی حبس بیجا داخل کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس نے ہر ایک کو غیر قانونی طریقہ سے محروس کردیا ہے ۔ قبل ازیں پولیس نے یہ ادعا کیا تھا کہ ہردیک پٹیل اس وقت چکمہ دیر فرار ہوگیا جب ضلع ارویلی میں بغیر اجازت ایک جلسہ عام منعقد کرنے کے اعلان پر انہیں حراست میں لینے کے لیے پہنچے تھے ۔ ہردیک پٹیل کے ایک ساتھی دنیش پاٹل عدالت رجوع ہو کر سرکاری حکام کو یہ ہدایت دینے کی گزارش کی تھی کہ محروس کو فی الفور پیش کیا جائے جس پر رات دیر گئے ( صبح 1-20 بجے ) جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس کے جے ٹھاکر پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے یہ کارروائی کی اور گجرات حکومت ڈائرکٹر جنرل پولیس ، رینج انسپکٹر جنرل اور ارویلی ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ کل تک جواب داخل کریں ۔ سرکاری وکیل متیش امین نے بتایا کہ ہردیک پٹیل پولیس کی تحویل میں نہیں ہے تاہم ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا ہیکہ ہردیک کا پتہ لگائیں کیوں کہ وہ بھی ایک ہندوستانی شہری ہے ۔ درخواست رہائی حبس بیجا پر دو ججوں میں سے ایک کی قیام گاہ پر رات دیر گئے 2-40 بجے سماعت کی گئی ۔

ہردیک پٹیل کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ بی ایم منگولیا نے قبل ازیں رجسٹر جنرل سے رجوع ہو کر کارگذار چیف جسٹس جینت پاٹل سے یہ اجازت حاصل کرلی تھی کہ آج صبح خصوصی سماعت کی جاسکتی ہے ۔ ہردیک پٹیل نے کل ضلع ارویلی کے بیاد تعلقہ میں بغیر اجازت ایک جلسہ عام منعقد کیا تھا ۔ جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لینے کی کوشش کی تو چکمہ دے کر فرار ہوگئے ۔ پولیس نے بعد ازاں امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کے الزام میں ہردیک اور دیگر 20 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا ۔ واضح رہے کہ ہردیک پٹیل ان دنوں پٹیل برادری کے لیے تحفظات کی فراہمی کے مطالبہ پر گجرات میں احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں ۔ دریں اثناء پٹیل کوٹہ ایجی ٹیشن لیڈر ہردیک پٹیل کل اچانک پراسرار انداز میں لاپتہ ہوجانے کے بعد آج نمودار ہوگئے اور یہ ادعا کیا کہ ان کا اغواء کرلیا گیا تھا جبکہ پولیس کی اس اطلاع پر تشویش پیدا ہوگئی تھی کہ ہردیک پٹیل لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اس کے برخلاف ہردیک پٹیل کا یہ ادعا ہے کہ بعض نامعلوم افراد نے ہتھیاروں سے خوفزدہ کر کے ان کا اغواء کرلیا تھا۔اغواء کاروں نے یہ دھمکی دی کہ تحریک تحفظات سے دستبردار ہوجائیں ورنہ انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا جبکہ تحریک تحفظات برائے پٹیل برادری سے ریاست میں گجرات حکومت کیلئے ایک خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ پٹیل برادری کے لیڈروں نے بتایا کہ ہردیک پٹیل نے آج دوپہر ٹیلیفون کر کے مطلع کیا کہ وہ ضلع سریندر نگر میں دھرن گھدرا گاؤں میں ایک شاہراہ کے قریب ٹھہرے ہیں جہاں پرایک گاڑی روانہ کی جائے۔ ہردیک پٹیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بعض افراد نے ضلع ارویل میں بہار کے قریب ان کی کار کا تعاقب کیا اور زبردستی مجھے دوسری کار میں رات بھر بٹھاکر رکھا گیا جبکہ اغواء کاروں نے یہ دھمکی دی کہ احتجاجی تحریک سے دستبردار ہوجائیں، بصورت دیگر ان کا خاتمہ کردیا جائے گا ۔ اس دھمکی کو پہلی اور آخری تصور کریں۔ بعد ازاں ضلع سریندر نگر میں ایک گاؤں کے قریب چھوڑدیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھے۔ پولیس والے یا کوئی اور لیکن ان کے پاس ریوالور تھے۔

TOPPOPULARRECENT