Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تحریک تلنگانہ میں اہم رول ادا کرنے والی پولیٹیکل جے اے سی کو سہارے کی تلاش

تحریک تلنگانہ میں اہم رول ادا کرنے والی پولیٹیکل جے اے سی کو سہارے کی تلاش

چیف منسٹر کے سی آر نے نظر انداز کردیا ، ٹی آر ایس قائدین اور جے اے سی قائدین میں دوریاں

چیف منسٹر کے سی آر نے نظر انداز کردیا ، ٹی آر ایس قائدین اور جے اے سی قائدین میں دوریاں
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اگست (سیاست نیوز) علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کلیدی رول کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد سیاسی جے اے سی کو اپنے وجود کی برقراری کیلئے جدوجہد کا سامنا ہے۔ تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو برقرار رکھنے کے سلسلہ میں جے اے سی قائدین کو سہارے کی تلاش ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام کی قیادت میں جے اے سی نے سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہوئے تلنگانہ کے حصول کو یقینی بنایا لیکن آج اس تنظیم کو سہارے کی تلاش ہے اور تلنگانہ ریاست میں حکومت کے رویہ سے جے اے سی کو شکایت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت نے تشکیل ریاست کے بعد جے اے سی سے عملاً قطع تعلق کرلیا ، جس کا جے اے سی قائدین کو شدت سے احساس ہے۔ تلنگانہ پولیٹیکل جے اے سی ایم ایل اے کوارٹرس آدرش نگر میں ایک رکن اسمبلی کے کوارٹر سے اپنی سرگرمیاں چلا رہی تھی لیکن یہ کوارٹرس ریاست کی تقسیم کے بعد آندھراپردیش حکومت کے حوالہ کردئے گئے۔ گزشتہ ہفتہ آندھراپردیش حکومت نے جے اے سی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کوارٹر کے تخلیہ کی خواہش کی۔ ایم ایل اے کوارٹر بلاک ۔ 2 میں واقع نظام آباد کے سابق بی جے پی رکن اسمبلی وائی لکشمی نارائنا کے کوارٹر میں جے اے سی کا دفتر تھا۔ لکشمی نارائنا کو حالیہ انتخابات میں شکست ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کوارٹر کے تخلیہ کیلئے آندھراپردیش حکومت نے نہ صرف نوٹس جاری کی بلکہ برقی اور پانی کا کنکشن منقطع کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ جے اے سی نے تلنگانہ حکومت سے خواہش کی کہ وہ اس کیلئے علحدہ دفتر الاٹ کرے لیکن حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جے اے سی ذرائع کے مطابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے جے اے سی کو تحلیل کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اب اس کی کیا ضرورت ہے۔ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد کے سی آر کی جانب سے جے اے سی کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے اور دونوں قائدین میں دوریاں بڑھ چکی ہیں۔ اسی دوران تلنگانہ کی اسمبلی کوارٹر الاٹمنٹ کمیٹی کے صدرنشین رام لنگا ریڈی نے واضح کیا کہ جے اے سی کو کوارٹر فراہم کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ کوئی رکن اسمبلی ان کے حق میں مکتوب حوالہ کرے۔ جے اے سی نے نئے دفتر کے قیام کے لئے نویں بلاک میں چار کمروں کی نشاندہی کی لیکن کسی بھی رکن اسمبلی نے ابھی تک ان کے حق میں مکتوب نہیں دیا ہے۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سی ایچ رمیش نے اپنے کوارٹر کا پیشکش کیا تھا ، بعد میں انہوں نے موقف تبدیل کرلیا۔ ٹی آر ایس کے دیگر ارکان اسمبلی بھی جے اے سی کے حق میں مکتوب حوالہ کرنے تیار نہیں۔ ان حالات میں جے اے سی اپنے دفتر کے قیام کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگو دیشم اور کانگریس کے بعض ارکان اسمبلی نے جے اے سی کو اپنا کوارٹر الاٹ کرنے کا پیشکش کیا ۔ تاہم صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام نے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT