Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / تحریک تلنگانہ میں اہم کردار ادا کرنے والے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ بنیادی سہولتوں سے محروم

تحریک تلنگانہ میں اہم کردار ادا کرنے والے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ بنیادی سہولتوں سے محروم

قیام، طعام، برقی، پانی اور دیگر سہولتیں ندارد، بدترین صورتحال سے طلبہ پریشان حال

نعیم وجاہت
حیدرآباد 20 ستمبر ۔ علیحدہ تلنگانہ تحریک میں کلیدی رول ادا کرنے والی عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، بیت الخلاؤں کو دروازے نہیں ہے۔ کھلے آسمان کے نیچے طلبہ کو پانی نہانے کیلئے مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ کھانا وغیرہ بھی صحیح نہ ملنے کی طلبہ شکایتیں کررہے ہیں۔ 100 سالہ تاریخ رکھنے والی عثمانیہ یونیورسٹی نے کئی سپوتوں کو اپنی تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے سپوتوں نے ملک و بیرون ممالک اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی اور ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی کسمپرسی کے دور سے گذر رہی ہے۔ تلنگانہ کے ہیڈکوارٹر شہر حیدرآباد میں رہنے والی یہ یونیورسٹی کا حال کسی پچھڑے ہوئے گاؤں کی مانند ہوگیا ہے جس طرح گاؤں کے عوام سہولتوں سے محروم ہوتے ہیں اسی طرح عثمانیہ یونیورسٹی کے ہاسٹلس میں مقیم طلبہ کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہے۔ ہاسٹلس کے طلبہ کے لئے کوئی بنیادی سہولتیں نہیں ہیں۔ بیت الخلاؤں کو دروازے نہیں ہیں۔ نہانے کے لئے نلوں کے پائپ لائنوں میں پانی نہیں ہے۔ ہاسٹلس میں برقی کی وائرنگ ناکارہ ہوگئی ہے۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے بارش کے موسم میں چھتوں سے پانی ٹپکتے رہتا ہے۔ کئی عمارتیں مخدوش ہوچکی ہیں۔ طلبہ کو صحیح کھانا نہیں مل رہا ہے۔ باتھ رومس کی صفائی نہ ہونے اور بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے باعث طلبہ کھلے آسمان کے نیچے پانی نہا رہے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت کے ارباب مجاز تک طلبہ نے کئی شکایتیں کی ہیں۔ مگر حکومت نے فنڈس کی اجرائی میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اور نہ ہی عثمانیہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹلس کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی مساعی کی ہے۔ بارش میں سارا پانی ہاسٹلس کے رومس میں جمع ہوجاتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے سوچھ بھارت اور چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے سوچھ تلنگانہ اور سوچھ حیدرآبادپروگرام عثمانیہ یونیورسٹی میں منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں عثمانیہ یونیورسٹی کا رول ناقابل فراموش ہے۔ جتنی اذیتیں، مشکلات، پریشانیاں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے برداشت کی اتنی کسی نے بھی نہیں کی۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں ہیرو رہنے والے طلبہ کو ریاست کی تشکیل کے بعد یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ تحریک میں نئی جان ڈالنے اور تحریک کو زندہ رکھنے کے لئے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے ہاسٹل میں میس بند کردینے پر بھوکے پیٹ رہے۔ خاردار تاروں کی، پولیس کے آنسو گیس شل کی، لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور مقدمات، زخموں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ یہاں تک کہ تحریک کو زندہ رکھنے کے لئے خودکشیاں بھی کیں۔ تاہم علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پانے کے 15 ماہ بعد بھی حکومت نے طلبہ کے مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک عثمانیہ یونیورسٹی کے مسائل کو بھی یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT