Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / تحریک عدم اعتماد کی لڑائی اخلاقیات و اکثریت کے مابین تھی

تحریک عدم اعتماد کی لڑائی اخلاقیات و اکثریت کے مابین تھی

٭ 2019 میں این ڈی اے میں واپسی کا امکان مسترد
٭ میرے کوئی وزارت عظمی عزائم نہیں ہیں
٭ دہلی میں چندرا بابو نائیڈو کی پریس کانفرنس

نئی دہلی 21 جولائی ( پی ٹی آئی ) مرکزی حکومت کے خلاف تلگودیشم پارٹی کی تحریک عدم اعتماد اکثریت کے خلاف اخلاقیات کی لڑائی تھی ۔ پارٹی صدر و چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے یہ بات کہی ۔ این ڈی اے حکومت نے کل لوک سبھا میں تقریبا 12 گھنٹوں کے مباحث کے بعد تحریک عدم اعتماد کو شکست دی تھی ۔ نائیڈو نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل کی تحریک عدم اعتماد کی لڑائی در اصل ہماری اخلاقیات اور بی جے پی کی اکثریت کے مابین تھی ۔ انہوں نے تلگودیشم پارٹی کی تحریک عدم اعتماد کی تائید کرنے والی اپوزیشن جماعتوں سے اظہار تشکر کیا ۔ انہوں نے کل لوک سبھا میں وزیر اعظم کی جانب سے کئے گئے اس ریمارک کو مسترد کردیا کہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف اس لئے نہیں دیا جاسکتا کیونکہ چودھویں فینانس کمیشن نے اس کی اجازت نہیں دی ہے ۔ نائیڈو نے کہا کہ فینانس کمیشن کا کہنا تھا کہ اسے اس بحث میں نہ گھسیٹا جائے اور کمیشن کا اس میں کوئی رول نہیں ہے ۔ حکومت کو اس پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔ انہوں نے مرکزی وزیر ارون جیٹلی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے سے انکار کردیا پھر انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں کو یہ موقف دیدیا ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی جانب سے اپنی اہل قیادت کا داغدار سیاستدانوں سے تقابل کرنا غیردانشمندانہ تھا ۔ وزیر اعظم کی جانب سے اس ریمارک پر کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ ‘ چندرا بابو نائیڈو سے زیادہ فہم و فراست والے ہیں نائیڈو نے کہا کہ وہ ( چندرا بابو ) خود وزیراعظم سے بھی سینئر ہیں ۔ وہ اس طرح کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ نہ وزیر اعظم نے اور نہ ہی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مابین مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے ریاست کی ہتک کی جا رہی ہے اور یہ غلط ہے ۔ نریندر مودی نے کل کہا تھا کہ کانگریس نے ماں کو فوت ہونے کا موقع دیا اور بچے کو بچالیا اور اگر میں ( مودی ) وہاں ہوتا تو دونوں کو بچالیتا ‘ چندرا بابو نے کہا کہ ہم نے ایسا کرنے کیلئے چار سال تک انتظار کیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی ان سے کہہ رہے ہیں کہ ماں کو بچایا جائے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2014 میں این ڈی اے سے اتحاد اسی لئے کیا گیا کہ ریاست سے انصاف ہوسکے ۔ ہم اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں اور ہمیں کابینی عہدوں کی خواہش نہیں ہے ۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ ان کی پارٹی این ڈی اے میں دوبارہ شامل نہیں ہوگی اگر 2019 میں بی جے پی بھی پہل کرے ۔ تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے دوران بیجو جنتادل کے واک آوٹ سے متعلق سوال پر نائیڈو نے کہا کہ بی جے ڈی صدر نوین پٹنائک ان کے قدیم دوست ہیں اور انہیں بھی اپوزیشن کے ساتھ ملا لیا جائیگا ۔ نائیڈو نے آج بھی واضح کیا کہ ان کے وزارت عظمی کے عزام نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT