Wednesday , June 20 2018
Home / جرائم و حادثات / تحصیلدار بہادر پورہ حسینہ بیگم پر اشرار کا حملہ

تحصیلدار بہادر پورہ حسینہ بیگم پر اشرار کا حملہ

حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) بہادر پورہ تحصیلدار پر بعض مقامی اشرار نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ تحصیلدار حسینہ بیگم آج اپنے دفتر بہادر پورہ تحصیل آفس میں موجود تھیںکہ مقامی بی جے پی لیڈر اوما مہیندر اور اس کے دیگر حامیوں نے وہاں پہنچ کر وظائف کی عدم ادائیگی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی اور بعد ا

حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) بہادر پورہ تحصیلدار پر بعض مقامی اشرار نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ تحصیلدار حسینہ بیگم آج اپنے دفتر بہادر پورہ تحصیل آفس میں موجود تھیںکہ مقامی بی جے پی لیڈر اوما مہیندر اور اس کے دیگر حامیوں نے وہاں پہنچ کر وظائف کی عدم ادائیگی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی اور بعد ازاں وہاں ہنگامہ آرائی کی۔ تحصیلدار کی جانب سے اس سلسلہ میں موثر کارروائی کا تیقن دینے کے باوجود بھی اشرار نے ان سے بدکلامی کی اور غیر مجاز طور پر دفتر میں داخل ہوکر انہیں اپنی ڈیوٹی انجام دینے سے روک دیا۔ اتنا ہی نہیں اشرار نے تحصیلدار حسینہ بیگم کی کار پر بھی حملہ کیا اور انہیں کلکٹر کانفرنس میں شرکت کیلئے کار میں روانہ ہونے سے روک دیا جس کے باعث ان پر سکتہ طاری ہوگیا اور وہ بے ہوش ہوگئیں۔ تحصیلدار کو فوری مقامی دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور بتایا کہ بلڈ پریشر اچانک کم ہوجانے کے سبب وہ بے ہوش ہوگئی تھیں لیکن اب ان کی طبیعت مستحکم ہے۔ بہادر پولیس اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر تحصیل آفس پہنچ گئی اور وہاں پر عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد دواخانہ پہنچ کر حسینہ بیگم سے بھی اس سلسلہ میں تفصیلات حاصل کی اور تحصیلدار کی جانب سے ایک تحریری شکایت پر پولیس نے اوما مہیندر اور دیگر کے خلاف تعزیرات ہند کی 6 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ۔

اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی نے تحصیلدار حسینہ بیگم سے فون پر ربط کیا اور تفصیلات حاصل کی جبکہ تلنگانہ پردیش کانگریس سکریٹری مسٹر یوسف ہاشمی نے دواخانہ پہنچ کر تحصیلدار کی عیادت کی۔ حیدرآباد آر ڈی او شریمتی نکھیلا اور محکمہ مال کے مختلف عہدیداروں نے بھی دواخانہ پہنچ کر تحصیلدار کی عیادت کی۔ آج رات بی جے پی کارکنوں نے پولیس کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کے خلاف پولیس اسٹیشن بہادر پورہ کے روبرو دھرنا منظم کیا اور حراست میں لئے گئے نوجوانوں جن کا تعلق اکثریتی طبقہ سے ہے فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اچانک دھرنا منظم کرنے کے سبب وہاں پر ہلکی سی کشیدگی پیدا ہوگئی جس پر ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ بہادر پورہ تحصیلدار سے بدسلوکی اور انہیں دھمکانے کے الزام میں پولیس نے 30افراد کے خلاف دفعہ 354 ( خاتون سے دست درازی) اور دیگردفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ آج دوپہر سریکانت گوڑ نامی شخص نے بھی بہادر پورہ تحصیلدار سے بدسلوکی کی تھی جس پر ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اسی دوران تحصیلدار اسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ اس حملے کے خلاف کل تمام تحصیل دفاتر میں کام کاج کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT