Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / تحفظات ، تعلیمی اسکالرشپس اور شادی مبارک :مسلمان فکرمند

تحفظات ، تعلیمی اسکالرشپس اور شادی مبارک :مسلمان فکرمند

…… قیادت اور حکومت کی ملی بھگت ……

اسمبلی میں خاموشی ، کونسل میں کچھ شور ، ایوانوں کے باہر مسلمان بے یارومددگار…!

حیدرآباد ۔ /7 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کے جاریہ اسمبلی اجلاس سے مسلمانوں کو کافی امیدیں تھیں لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلم طبقہ مایوسی کا شکار نظر آرہا ہے ۔ ایوان کی کارروائی میں مسلم مسائل پر عدم مباحثہ اس مایوسی کی ایک بڑی وجہ بھی ہوسکتی ہے چونکہ ریاست تلنگانہ میں مسلم اقلیت کو توقع تھی کہ دیرینہ مسلم تحفظات پر موثر اقدامات کئے جائیں گے ۔ لیکن جاریہ اجلاس میں اس اہم ترین مسئلہ پر کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی دیگر مسلم مسائل پر غور و خوص کیا گیا ۔ بلکہ اسمبلی کارروائی سیاسی مفادات کی نذر ہوگئی ۔مسلم مسائل پر تاحال تذکرہ نہیں ہوا اور اب یوم اقلیت بھی آگیا ہے ۔ ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں مسلمانوں کے طبقہ کو اس بات کی قوی امید تھی کہ 12 فیصد مسلم تحفظات پر حکومت اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے گی اور اب تک اقدامات کا بھی ذکر کرے گی لیکن اب اسمبلی کی منظور کردہ قراراداد اور اقدامات بھی شبہات کا شکار ہوگئے ۔ اس طرح دیگر اہم ترین مسائل شادی مبارک اسکیم ، خود روزگار کے مواقع ، قرضہ جات کی اجرائی ، اقلیتی بہبود کی اسکیمات اور اس پر عمل آوری کے اقدامات پر کسی قسم کا کوئی مسئلہ ایوان میں پیش ہی نہیں ہوا ۔ جس سے حکومت اور قیادت کا دم بھرنے والے چہرے آشکار ہوگئے ہیں ۔ ہر دن مسلمان ایک امید سے ایوان کی کارروائی کی طرف دیکھ رہا ہے تاکہ ان کی امیدوں کے مطابق اقدامات کئے جائیں ۔ لیکن گلی کوچوں اور چوراہوں کی تقاریر اور ایوان کی تقریر میں مسلمانوں کو اب فرق محسوس ہونے لگا ہے ۔ اکثر شہری اس بات کا احساس کررہے ہیں اور بے ساختہ حیدرآبادی انداز میں کہنے پر مجبور ہیں کہ ’’میاں گلیوں میں پکارنا الگ ‘‘ ایوان میں بولنا الگ اس بات سے حکومت اور قیادت کی ملی بھگت کی باتیں بھی ایک ثبوت کے طور پر سامنے آرہی ہیں ۔ چونکہ ریاستی حکومت کے وعدے بھی کچھ اس طرح کے ہیں

اور حکومت بارہا اس بات کا دعویٰ کرچکی ہے کہ اس جیسی حکومت کی نظیر ملک کی دیگر ریاستوں میں نہیں ملتی ۔ مسلم اقلیت اس بات کو تسلیم کرنے تیار ہے لیکن عملی اقدامات کی بھی خواہش رکھتی ہے ۔ اسکالر شپ اوورسیس اسکالر شپ شادی مبارک ، بے روزگار نوجوانوں کو قرضہ جات کی اجرائی اور سب سے اہم 12 فیصد مسلم تحفظات پر اسمبلی کے اجلاس میں کوئی تذکرہ نہیں ہونا افسوسناک ہے ۔ ایوان میں مسلم مسائل پر حاوی رہنے اور مسلمانوں کی قیادت کے سچے دعویداروں کی موجودگی اور خاموشی حکومت سے ملی بھگت کے الزامات کو مضبوط کرتی ہے ۔ ریاستی اسمبلی کے دونوں اجلاس قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں مسلم مسائل پر کچھ تو فرق پایا جاتا ہے ۔ اسمبلی میں مسلم نمائندوں کی تعداد کونسل میں مسلم نمائندوں سے زیادہ ہونے کے باوجود کونسل میں اپوزیشن کے علاوہ حکومت میں موجودہ نمائندہ کی جانب سے مسائل پر آواز بلند کی جارہی ہے ۔ تاہم یہ اس قدر زیادہ تو نہیں تاہم مسلم مسائل کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا جارہا ہے ۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر اور رکن کونسل محمد سلیم کی جانب سے مسلم مسائل پر بات چیت مباحثہ اور تذکرہ کیا جارہا ہے ۔ تاہم ایوان اسمبلی اپنے آپ کو بااثر اور طاقتور ثابت کرنے والوں کی آواز اپنی نشست سے اسپیکر تک بھی نہیں پہونچ پارہی ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات پر خاموشی سے مسلم طبقہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے مسلم طبقہ کی سب سے بڑی خواہش اور دیرینہ مسئلہ 12 فیصد مسلم تحفظات ہے اور مسلم طبقہ کو حکومت کی نیت پر کوئی شبہ نہیں ہے لیکن اقدامات کا نہ ہونا اور حکومت کی معنی خیز خاموشی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے اور موقع و مفاد پرست دعویداروں پر سے بھی اب مسلم طبقہ کا اعتماد اٹھتا نظر آرہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT