Monday , October 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تحفظات سے توجہ ہٹانے حکومت مسلمانوں کو کھلونے دیکر بہلانے کوشاں

تحفظات سے توجہ ہٹانے حکومت مسلمانوں کو کھلونے دیکر بہلانے کوشاں

اقلیتوں کی بھلائی کے اعلانات پر عمل آوری ندارد ‘ وائیٹ پیپر جاری کیا جائے ۔ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر کا مطالبہ

حیدرآباد ۔21۔ نومبر (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات سے توجہ ہٹانے کے لئے کے سی آر حکومت مسلمانوں کو کھلونے دے کر بہلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں چیف منسٹر کے اعلانات اور بعد میں جائزہ اجلاسوں میں ان اعلانات کو دہرائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران جو اعلانات کئے ، ان پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کو وائیٹ پیپر جاری کرنا چاہئے ۔ حکومت کے اعلانات محض کاغذی ہیں اور ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہر اسمبلی اجلاس میں چیف منسٹر مسلمانوں کیلئے اعلانات کی طویل فہرست کے ساتھ پہنچتے ہیں اور ہمیشہ چند ایک نئے تیقنات کے علاوہ صرف پرانے اعلانات کو دہرا دیا جاتا ہے۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات قریب ہیں چیف منسٹر مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے بعض معمولی قسم کے اعلانات پر عمل آوری کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے آمدنی کی حد میں اضافہ اور ممالک کی حد ختم کرنے کا فیصلہ اگرچہ خوش آئند ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اسکیم کے تحت کتنے مسلم طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان رعایتوں کے باوجود بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہشمند امیدواروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی ترقی بیرون ملک تعلیم کے حصول سے دور نہیں ہوسکتی۔ اس اسکیم کیلئے جو شرائط ہیں ، ان کی تکمیل ایک غریب اور متوسط گھرانے کا نوجوان نہیں کرسکتا۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے بعض رعایتوںکا اعلان قابل ستائش ہے لیکن ہزاروں درخواستیں گزشتہ کئی ماہ سے زیر التواء ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کی رقم میں 75000 روپئے تک اضافہ کیا گیا لیکن ابھی تک عمل آوری شروع نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرانی رقم کے اعتبار سے غریب خاندانوں کو چیک جاری کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کی درخواستوں کی جانچ کا کام ریونیو حکام کے حوالے کیا گیا جس سے یکسوئی میں غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے اور شادی سے قبل شائد ہی کسی کو امدادی رقم مل رہی ہو۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں بھی چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے اسی طرح کے اعلانات کئے تھے جنہیں گزشتہ ہفتہ کے سرمائی اجلاس میں دہرادیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر دراصل 12 فیصد تحفظات کے وعدہ سے مسلمانوں کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سیاسی ترقی تحفظات کی فراہمی میں مضمر ہے ۔ تحفظات پر عمل آوری میں نہ صرف مجالس مقامی میں مسلمانوں نمائندگی میں اضافہ ہوگا بلکہ سیاسی سطح پر مسلمانوں کا موقف مستحکم ہوسکتا ہے۔ تعلیمی اور معاشی میدان میں تحفظات کے کئی فوائد ہیں۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں تقررات کے وقت 12 فیصد پر عمل آوری سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار ہوگا۔ اس طری تعلیمی اداروں میں بھی تحفظات کے سبب غریب مسلم طلبہ میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے تحفظات کے مسئلہ کو وزیراعظم نریندر مودی سے رجوع کردیا ہے اور وہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو تحفظات کی منظوری حاصل کرنے کی حکمت عملی واضح کرنا ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بی جے پی برسر اقتدار ریاستوں میں تحفظات کے اعلان کو عدالتوں میں کالعدم کردیا پھر کس طرح مرکزی حکومت سے کے سی آر توقع کر رہے ہیںکہ وہ 12 فیصد مسلم تحفظات کو منظوری دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دینے کے ساتھ حکومت کو نظم ونسق میں اردو کے استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔ اردو کمپیوٹر سنٹرس گزشتہ تین برسوں سے بند پڑے ہیں اور حکومت کو ان کے احیاء کی کوئی فکر نہیں۔ 170 سے زائد ملازمین اپنے مستقبل کو لیکر پریشان ہیں۔ اردو میڈیم سرکاری مدارس کی تعداد میں دن بہ دن کمی واقع ہورہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT