Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / تحفظات مسئلہ ‘مودی حکومت کے مخالف رویہ پر کے سی آر ناراض

تحفظات مسئلہ ‘مودی حکومت کے مخالف رویہ پر کے سی آر ناراض

ہمہ رخی حکمت عملی کی تیاری ، جنتر منتر پر تحفظات کے حق میں دھرنا منظم کرنے کی منصوبہ بندی

حیدرآباد۔ 9 مارچ (سیاست نیوز) تحفظات مسئلہ پر مودی حکومت کے مخالف رویہ سے نمٹنے چیف منسٹر چندر شیکھر رائو ہمہ رخی حکمت عملی کی تیاری کررہے ہیں۔ ایک طرف وہ مرکزی حکومت پر تحفظات کی منظوری کیلئے دبائو بنانے دہلی میں دھرنا منظم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے ماہرین قانون سے مشاورت کا آغاز کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ مرکز کی جانب سے مسلم اور ایس ٹی تحفظات بل کو مختلف وضاحتوں کے ساتھ واپس کیے جانے سے ناراض کے سی آر نے پارٹی قائدین، ماہرین قانون اور اعلی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کرکے آئندہ کی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے مرکز کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کرکے کہا کہ وہ دہلی میں جنتر منتر پر تحفظات کے حق میں دھرنا منظم کریں گے۔ یہ دھرنا پارلیمنٹ کے جاریہ بجٹ سیشن کے دوران کیا جائے گا تاکہ حکومت پر دبائو بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر تحفظات مسئلہ پر مرکز سے اپنی لڑائی میں شدت پیدا کرنے کے حق میں ہیں تاکہ تیسرے محاذ کے قیام کی تیاریوں میں دیگر جماعتوں کی تائید حاصل ہوسکے۔ ایسے وقت جبکہ بی جے پی و ٹی آر ایس میں اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں کے سی آر تحفظات مسئلہ پر کسی بھی سمجھوتہ کیلئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز سے مثبت ردعمل کیلئے کافی انتظار کیا گیا کیونکہ وزیراعظم نے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کو منظوری دینے کا تیقن دیا تھا۔ حالیہ عرصہ میں چیف منسٹر کی جانب سے مرکز اور وزیراعظم مودی پر راست تنقیدوں کے بعدکے سی آر نے تیسرے محاذ کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔ وہ کانگریس اور بی جے پی کے بغیر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ محاذ کے قیام کیلئے اپریل میں باقاعدہ اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔ ٹی آر ایس ایم پیز کو دونوں ایوانوں میں تحفظات کے مسئلہ پر احتجاج کی ہدایت دی گئی ہے اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں روزانہ ٹی آر ایس ارکان تحفظات کے فیصد میں اضافہ اور ریاستوں کو اختیار دیئے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس کا کہنا ہے کہ ایس سی ایس ٹی بی سی اور اقلیتوں کو آبادی کی بنیاد پر تحفظات فراہمی کا اختیار ریاستوں کو دیئے جانے کے مطالبہ کو کئی اپوزیشن جماعتوں کی تائید حاصل ہوسکتی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکز میں تحظات بل کے سلسلہ میں جو وضاحتیں طلب کی ہیں ان کا تفصیلی جواب دیا جائے گا۔ بل کی روانگی کے وقت تلنگانہ حکومت نے پہلے ہی تفصیلی نوٹ روانہ کیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تحفظات کو قانونی پیچیدگیوں سے بچانے بی سی کمیشن اور چرلپا کمیشن سے رپورٹ حاصل کی گئی جنہوں نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لے کر تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی تجویز پیش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے تحفظات کے حق میں ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور کونسل اور دیگر عوامی نمائندوں کے ساتھ دھرنا منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہت جلد دھرنے کی تاریخ کا اعلان کیا جائیگا۔ چیف منسٹر کی دہلی روانگی سے قبل مختلف علاقائی جماعتوں سے بات چیت کی جائیگی تاکہ قومی سطح پر ان کی تائید حاصل ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT